Lahore Ka Geographiya

لاہور کا جغرافیہ

منگل اکتوبر

Lahore Ka Geographiya

پطرس بخاری

تمہید کے طور پر صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ لاہور کو دریافت ہوئے اب بہت عرصہ گزرچکا ہے اس ليے دلائل و براہین سے اس کے وجودکو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔

(جاری ہے)

یہ کہنے کی اب ضرورت نہیں کہ کُرے کو دائیں سے بائیں گھمائیے۔

حتیٰ کہ ہندوستان کا ملک آپ کے سامنے آکر ٹھہر جائے پھر فلاں طول البلد اور فلاں عرض البلد کے مقام انقطاع پر لاہور کا نام تلاش کیجیئے۔

جہاں یہ نام کُرے پر مرقوم ہو، وہی لاہور کا محل وقوع ہے۔

اس ساری تحقیقات کو مختصر مگر جامع الفاظ میں بزرگ یوں بیان کرتے ہیں کہ لاہور، لاہور ہی ہے۔

اگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہیں مل سکتا تو آپ کی تعلیم ناقص اور آپ کی دہانت فاتر ہے۔

محل وقوع

ایک دو غلط فہمیاں البتہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں۔

لاہور پنجاب میں واقع ہے۔ لیکن پنجاب اب پنچ آب نہیں رہا۔

اس پانچ دریاؤں کی سرزمین میں اب صرف چار دریا بہتے ہیں اور جو نصف دریا ہے، وہ تو اب بہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔

اسی کو اصطلاح میں راوی ضعیف کہتے ہیں۔ ملنے کا پتہ یہ ہےکہ شہر کے قریب دو پل بنے ہیں۔

ان کے نیچے ریت میں دریا لیٹا رہتا ہے۔ بہنے کا شغل عرصے سے بند ہے، اس ليے یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔

لاہور تک پہنچنے کے کئی رستے ہیں۔ لیکن دو ان میں سے بہت مشہور ہیں۔

ایک پشاور سے آتا ہے اور دوسرا دہلی سے۔ وسط ایشیا کے حملہ آور پشاور کے راستے اور یو۔

پی
کے حملہ آور دہلی کے رستے وارد ہوتے ہیں۔ اول الذکر اہل سیف کہلاتے ہیں اور غزنوی یا غوری تخلص کرتے ہیں مؤخر الذکر اہل زبان کہلاتے ہیں۔

یہ بھی تخلص کرتے ہیں اور اس میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔

حدود اربعہ

کہتے ہیں، کسی زمانے میں لاہور کا حدوداربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلباء کی سہولت کے ليے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کردیا ہے۔

اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقعہ ہے اور روزبروز واقع تر ہورہا ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے، کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہوگا۔

جس کادارالخلافہ پنجاب ہوگا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے، جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہورہا ہے لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔

گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔

آب و ہوا

لاہور کی آب وہوا کے متعلق طرح طرح کی روایات مشہور ہیں جو تقریباً سب کی سب غلط ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے باشندوں نے حال ہی میں یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اور شہروں کی طرح ہمیں بھی آب و ہوا دی جائے۔

میونسپلٹی بڑی بحث وتمحیص کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ اس ترقی کے دور میں جبکہ دنیا میں کئی ممالک کو ہوم رول مل رہا ہے اور لوگوں میں بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔

اہل لاہور کی یہ خواہش ناجائز نہیں،بلکہ ہمدردانہ غوروخوض کی مستحق ہے۔

لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے پاس ہوا کی قلت تھی، اس ليے لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ مفاد عامہ کے پیش نظر اہل شہر ہوا کا بیجا استعمال نہ کریں، بلکہ جہاں تک ہوسکے کفایت شعاری سے کام لیں۔

چنانچہ اب لاہور میں عام ضروریات کے ليے ہوا کے بجائے گرد اور خاص خاص حالات میں دھواں استعمال کیا جاتا ہے۔

کمیٹی نے جابجا دھوئیں اور گرد کے مہیا کرنے کے ليے مرکز کھول دیئے ہیں۔

جہاں یہ مرکبات مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے، کہ اس سے نہایت تسلی بخش نتائج برآمد ہوں گے۔

بہم رسانی آب کے ليے ایک اسکیم عرصے سے کمیٹی کے زیرغور ہے۔

یہ اسکیم نظام سقے کے وقت سے چلی آتی ہےلیکن مصیبت یہ ہے کہ نظام سقے کے اپنےہاتھ کے لکھے ہوئے اہم مسودات بعض تو تلف ہوچکے ہیں اور جو باقی ہیں ان کے پڑھنے میں بہت دقت پیش آرہی ہے اس ليے ممکن ہے تحقیق وتدقیق میں چند سال اور لگ جائیں، عارضی طور پر پانی کا یہ انتظام کیا گیا ہے کہ فی الحال بارش کے پانی کو حتی الوسع شہر سے باہر نکلنے نہیں دیتے۔

اس میں کمیٹی کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ تھوڑے ہی عرصے میں ہر محلے کا اپنا ایک دریا ہوگا جس میں رفتہ رفتہ مچھلیاں پیدا ہوں گی اور ہر مچھلی کے پیٹ میں کمیٹی کی ایک انگوٹھی ہوگی جو رائے دہندگی کے موقع پر ہر رائے دہندہ پہن کر آئے گا۔

نظام سقے کے مسودات سے اس قدر ضرور ثابت ہوا ہے کہ پانی پہنچانے کے ليے نل ضروری ہیں چنانچہ کمیٹی نے کروڑوں روپے خرچ کرکے جابجا نل لگوا دیئے ہیں۔

فی الحال ان میں ہائیڈروجن اور آکیسجن بھری ہے۔ لیکن ماہرین کی رائے ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ گیسیں ضرور مل کر پانی بن جائیں گی۔

چنانچہ بعض بعض نلوں میں اب بھی چند قطرے روزانہ ٹپکتے ہیں۔

اہل شہر کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے اپنے گھڑے نلوں کے نیچے رکھ چھوڑیں تاکہ عین وقت پر تاخیر کی وجہ سے کسی کو دل شکنی نہ ہو۔

شہر کے لوگ اس پر بہت خوشیاں منا رہے ہیں۔

ذرائع آمد و رفت

جو سیاح لاہور تشریف لانے کا ارادہ رکھتے ہوں ان کو یہاں کے ذرائع آمدورفت کے متعلق چند ضروری باتیں ذہن نشین کرلینی چاہئیں تاکہ وہ یہاں کی سیاحت سے کماحقہ اثرپذیر ہوسکیں۔

جو سڑک بل کھاتی ہوئی لاہور کے بازاروں میں سے گزرتی ہے، تاریخی اعتبار سے بہت اہم ہے۔

یہ وہی سڑک ہے جسے شیرشاہ سوری نے بنایا تھا۔ یہ آثار قدیمہ میں شمار ہوتی ہے اور بےحد احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی ہے۔

چنانچہ اس میں کسی قسم کا ردوبدل گوارا نہیں کیا جاتا۔

وہ قدیم تاریخی گڑھے اور خندقیں جوں کی توں موجود ہیں۔

جنہوں نے کئی سلطنتوں کے تختے اُلٹ د یئے تھے۔ آج کل بھی کئی لوگوں کے تختے یہاں اُلٹتے ہیں اور عظمت رفتہ کی یاد دلا کر انسان کو عبرت سکھاتے ہیں۔

بعض لوگ ز یادہ عبرت پکڑنے کے ليے ان تختوں کے نیچے کہیں کہیں دو ایک پہیے لگا لیتے ہیں اور سامنے دو ہک لگا کر ان میں ایک گھوڑا ٹانگ د یتے ہیں۔

اصطلاح میں اس کو تانگہ کہتے ہیں۔ شوقین لوگ اس تختہ پر موم جامہ منڈھ لیتے ہیں تاکہ پھسلنے میں سہولت ہو اور بہت زیادہ عبرت پکڑی جائے۔

اصلی اور خالص گھوڑے لاہور میں خوراک کے کام آتے ہیں۔

قصابوں کی دوکانوں پر ان ہی کا گوشت بکتا ہے۔ اورزین کس کر کھایا جاتا ہے۔

تانگوں میں انکے بجائے بناسپتی گھوڑے استعمال کئے جاتے ہیں۔ بناسپتی گھوڑا شکل وصورت میں دم دار تارے سے ملتاہے۔

کیونکہ اس گھوڑے کی ساخت میں دم زیادہ اور گھوڑا کم پایا جاتا ہے۔

حرکت کرتے وقت اپنی دم کو دبا لیتا ہے اور اس ضبط نفس سے اپنی رفتار میں ایک سنجیدہ اعتدال پیدا کرتاہے۔

تاکہ سڑک کا ہر تاریخی گڑھا اور تانگے کا ہر ہچکولا اپنا نقش آپ پر ثبت کرتا جائے اور آپ کا ہر ایک مسام

Your Thoughts and Comments