Main Oooi Allah Ho Gaya Hun

میں اوئی اللہ ہوگیا ہوں

پیر اپریل

Main Oooi Allah Ho Gaya Hun
مستنصر حسین تارڑ:
مجھ میں جو کچھ بھی رونما ہواہے آج صبح ناشتے کے بعد ہوا ہے ناشتے سے قبل میں ایک نارمل پاکستانی تھا۔ اپنی بیوی اور اپنے حال پرصابروشاکر․․․․․․ البتہ مرد ہونے پر نازاں اور اس خیال کااسیرکہ میں اپنی زندگی کے تمام فیصلے خود کرتا ہوں میری بیوی جو کہ صنف نازک ہے اپنی زندگی کے فیصلے کروانے کے لئے میری طرف دیکھتی ہے۔

بہرحال میں بالکل ٹھیک تھا اور نارمل تھا․․․․․
ناشتے کے بعد مجھے کچھ شک ہوئے لگا۔ ایک توانگڑائیاں بہت آنے لگیں میری بیوی کہنے لگی کہ یہ نئی شرٹ پہن کرآپ بہت اچھے لگ رہے ہیں۔ اس تعریف پر میں بُری طرح شرماگیااور میرا چہرہ چقندر سرخ ہوگیا اور میں نے لجاکرکہا ہٹوجی مجھ سے مزاق نہ کیاکرو․․․․ ہاں مجھے اتنی شرم آئی کہ اگر مجھے کوئی دوپٹہ مل جاتا تواسے اوڑھ کربیٹھ جاتا بلکہ ایک لمبا گھونگھٹ نکال کربیٹھا جاتا۔

(جاری ہے)


کپڑے تبدیل کرتے ہوئے بھی میں نے دروازہ پہلے مقفل کرلیا۔ گھر سے باہر جانے لگی․․․․․ میرا مطلب ہے جانے لگاتو ذرا خوف سامحسوس ہواکہ ہائے اکیلا جارہاہوں ۔ زمانہ بڑاخراب ہے․․․․ سڑک پر آیا تو نظریں جھکا کرچلنے لگا اورا یک کھمبے سے ٹکراتاٹکراتا بچا۔ مارکیٹ میں پہنچا تووہاں پان سگریٹ کی دکان سے ایک گانے کے بول بلند ہوئے نہ تم بے وفا ہونہ ہم بے وفا ہیں․․․․ یہ گانا سن کرجانے کیوں میں تونروس ہوگئی․․․․ میرا مطلب ہے ہوگیا اور سوچا کہ یہ دنیااور یہ دنیا والے اتنے بے وفاکیوں ہوتے ہیں ہائے اتنے بے وفادل توڑدیتے ہیں اللہ قسم۔


بس سٹاپ پر پہنچا تودیوار کے ساتھ چند خواتین بس کاانتظار کررہی تھیں ۔ میں ان کے قریب ہوکر کھڑا ہوگیا کیونکہ دوسری طرف تونگوڑے مرد کھڑے تھے اور دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ خواتین مجھے دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی ہیں ا ور ان میں سے ایک مائی کہنے لگی۔ وے بھراشرم نہیں آتی ادھر جاکرکھڑا ہومر․․․․ چنانچہ میں مجبوراََ ادھر کھڑا ہومر گیا۔

بس آئی تو تقریباََ خالی تھی۔ میںآ رام سے ایک نشست پر بیٹھ گیا۔ اگلے سٹاپ پر ایک نوجوان بس کے اندر آیااور کمینہ میرے ساتھ بیٹھ گیا۔ میں نے فوراََ اسے کہا آپ ادھر بیٹھو جی ہمارے ساتھ نہ بیٹھو․․․․ وہ قدرے حیران تو ہوا لیکن اٹھ کر اگلی نشست پر جابیٹھا۔میں نے یہ بھی محسوس کیاکہ میری آواز کچھ سریلی ہوئی جاتی ہے․․․ آپ کاکیاخیال ہے کہ میں مذاق کررہاہوں اور یہ سب کچھ میرے ساتھ نہیں ہوا؟․․․․․ اب میں آپ کو کیسے یقین دلاؤں کہ بالکل یہی واردات ہوئی ہے․․․․․ جب شہر پہنچاتورش بہت تھا اور مجھے بچ بچا کے گزرنا پڑا پھر بھی ایک دو کندھے لگ گئے․․․․․ میوہسپتال کی دیوار کے ساتھ پرانے فراکوں اور دیگر نیم خفیہ ملبوسات کی فروخت جارہی تھی۔

میں جانے کیوں خاصی دیروہیں کھڑا نہیں بے حد دلچسپی اور اپنا ئیت سے دیکھتا رہا۔
دکان پر بھی حالات کچھ مختلف تھے مثلاََ ایک چھوٹے سے چوہے کو دیکھ کرمیں اچھل پڑا اور” اوئی اللہ“ کہہ کر کرسی پر چڑھ گیا․․․․ مجھے جب گرمی کی وجہ سے نیند آنے لگی تو جمائیوں کی بجائے انگڑائیاں لینے لگا․․․․․ جی ہاں آج سارا دن میرے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا۔

پہلے تو میں نے سوچا کہ ان دنوں جوناول لکھ رہاہوں اس کا کوئی زنانہ کردار مجھ پر حاوی ہورہاہے لیکن جب میں نے بے اختیار ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا․․․․․ ہوجی․․․․․․․قسم کا فلمی گاناگنگناناشروع کیاتو جان گیا کہ بقول شیکپسیر سم تھینگ ازراٹن ان دی سٹیٹ آف ڈنمارک․․․․ مجھے کچھ ہو گیا ہے۔
مجھ میں کچھ تبدیل ہونے کو تھا کچھ رونما ہورہاتھا․․․․ لیکن کیا؟ ناشتے سے پیشتر میں ایک نارمل پاکستانی مرد تھا اور ناشتے کے بعد․․․․․ اب آپ سے کیاپروہ (ہائے اللہ) کہ آج ناشتے کے دوران میں نے مندرجہ ذیل خبرپڑھی تھی․․․․․ رنگون سری لنکا کے ایک طبی ماہرنے اس قیاس کو لاعلمی پر مبنی قرار دیا ہے کہ عورت صنف نازک ہوتی ہے ڈاکٹر ڈینس جے الوئیس نے ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہرمرد اپنی زندگی کے ابتدائی بیس سال ماں کی نگرانی میں گزارتا ہے اس کے متعلق سارے فیصلے ماں کریی ہے اور شادی کے بعد ان فیصلوں کااختیاربیوی کے پاس چلا جاتا ہے یہ کام بیوی وہیں سے شروع کرتی ہے جہاں سے ماں چھوڑتی ہے‘ خلیج سے شائع ہونے والے ایک جریدے کے مطابق ڈاکٹر الوئیس نے کہا کہ بعد ازاں اس اختیار میں بیٹی بھی شریک ہوجاتی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ عورت نہیں بلکہ مرد صنف نازک ہے۔


اور تب سے میں اوئی اللہ اور ہائے اللہ ہوا جارہاتھا۔ مجھ سے دھوکا ہوا فریب ہوا میں لٹ گیا لوگو․․․․ مجھے یہی کہا جاتا رہا کہ عورت صنف نازک ہے اور آج اس عمر میں جب بال تیزی سے سفید ہورہے ہیں مجھے یہ بتایا جاتا ہے کہ میں اوئی اللہ ہوں اور صنف نازک ہوں․․․․ اف اللہ ہم توکچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔

Your Thoughts and Comments