Majra Chand Par Charhnay Utarnay Ka

ماجراچاند پر چڑھنے اُترنے کا

منگل جون

Majra Chand Par Charhnay Utarnay Ka

صاحبو! تم جانتے ہو کہ جنگ میں فتح و شکست نصیبوں سے ہوتی ہے کبھی آدمی جیتتا ہے کبھی ہارتا ہے ایک بار غینم کی تعداد اتنی تھی کہ ہم تاب نہ لا سکے میں بھی گرفتار ہوا اور ترکوں نے مجھے غلام بنا لیا۔ کام میرا سخت تو نہ تھا لیکن کچھ عجب طرح کا تھا یعنی سلطان کے چھتے کی مکھیوں کو ہر صبح چرانے کے لیے سبزہ زار میںلے جانا ۔ سارا دن ان کی دیکھ بھال کرنا اور شام کو ہانکتے ہوئے واپس چھتوں میں لانا۔

ایک شام میں نے دیکھا کے کہ ایک مکھی کم ہے تلاش پر دیکھا تو دور ریچھوں کے نرغے میں ہے اور وہ اس کو چیر پھاڑ کر اس کے چسم کا شہد چٹ کر جانے کی فکر میں ہیں۔ اتفاق سے اس وقت میرے پاس کوئی ہتھیار نہ تھا سوائے چاندی کی اس چھوٹی سی نمائشی کلہاڑی کے جو سلطان کے مالیوں اور باغبانوں کا نشان ہے۔

(جاری ہے)

میں نے وہی کلہاڑی گھما رک اب موذیوں پر دے ماری لیکن وہ بجائے ان کی طرف رُخ کرنے کے اوپر کو چلی گئی۔

میں نے اُسے اتنے زور سے پھینکا تھا کہ اوپر چڑھتی چڑھتی چاند پر جا گری۔ اب سے کیسے اُتارا جائے یکایک ترکیب سوجھ گئی ترکی لوبیئے کی بیل بہت تیزی سے بڑھتی ہے میں نے جھٹ ایک بیج بویا اور وہ پھوٹ نکلا اور دیکھتے دیکھتے بڑھتے بڑھتے آسمان کی خبر لانے لگا۔ حتیٰ کے اس کا ایک سرا چاند کی ایک نوک سے لپٹ گیا۔ اب کیا تھامیں کمند کی طرح اس پر چڑھتا جھٹ چاند پر پہنچ گیا۔

چاند پر ہر چیز چاندی کی ہوتی ہے اس لیے اس چھوٹی سی نقرئی کلہاڑی کو تلاش کرنے میں تھوڑی دقت ضرور ہوئی لیکن آخر وہ پیال اور بھوسے کے ایک ڈھیر پر پڑی مل گئی۔ اب سوال نیچے اُترنے کا تھا افسوس کہ اتنی دیر میں سورج نے ہوبیے کی بیل کو اس طرح جھلس دیا تھا کہ اس کے سہارے اترنا ممکن نہ تھا میں نے اس پیال کا رسا بٹا جتنا بھی لمبا ب ٹ سکتا تھا اور اسے چاند کی ایک نوک سے باندھ اس کے سہارے پھسلنا شروع کر دیا۔

رسا ختم ہو گیا لیکن زمین ابھی بہت دور تھی میں نے سوچاکہ اب یہاں تک آگیا ہوں اوپر کے رسے کی اب ضرورت نہیں لہٰذا کلہاڑی سے اُسے کاٹا اور نیچے کی طرف جوڑدیا۔ صاحبو، یونہی اوپر کا رسا کاٹ کر نیچے جوڑتا گرہ لگاتا میں نیچے اُتر تا گیا لیکن بار بار کاٹنے جوڑنے میں رسا کمزور ہو گیا تھا میں زمین سے چار پانچ میل کی بلندی پر ہوں گا کہ یہ رسا ٹوٹ گیا اور میں اتنے زور سے زمین پر آکر گرا کہ بالکل بھنا گیا بلکہ اٹھارہ بیس گز زمین کے اندر دھنس گیا اب سوال یہ تھا کہ یہاں سے باہر کیسے نکلا جائے آخر میں پاس کے گاو¿ں گیا پھاوڑا لای اور اپنے کو کھود نکالا۔


ترکوں سے صلح نامہ ہوا تو میںبھی آزاد کر دیا گیا اور سینٹ پیٹرز برگ روانہ ہو گیا یہ واقعہ بھی جاڑوں کا ہے اور اُدھر کے جاڑے آپ جانتے ہیں میں ڈاک کی گھوڑا گاڑی میں بیٹھا سفر کر رہا تھا کہ ایک شہر میں ایک تنگ گلی سے گزر ہوا میں نے کوچبان سے کہا کہ ترم بجاو¿ تاکہ اُدھر سے کوئی گاڑی ہمارے باہر نکلنے تک گلی میں داخل نہ ہو۔ اس نے بڑے زور سے ترم میں پھونکا لیکن صدا برنخاست۔

اتنے میں سامنے سے بھی ایک کوچ گاڑی آتی دکھائی دی ۔ اب کیا ہو نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے آخر میں خدا کا نام لے کر اُترا اور ایک ہاتھ سے گاڑی کو اُٹھا کر پہیوں و ہیوں سمیت اپنے سر پر رکھا لیا اور گلی سے باہر ایک طرف کو کھیتوں میں کود گیا اس کے بعد دوبراہ چھلانگ لگا کر اس دوسری کوچ گاڑی کے پیچھے اپنی گاڑی کو جا اُتارا۔ اب گھوڑے رہ گئے تھے ایک کو اُٹھا کر میں نے اپنے سر پر رکھا اور دوسرے کو بغل میں دابا لیا۔

اس نت کھٹ نے دولتیاں تو بہت جھاڑیں لیکن میں نے اس کی پچھلی ٹانگوں کو اپنی جیب میں اُڑس لیا تھا۔ آخر دونوں کو پھر گاڑی میں جوت ہم آگے روانہ ہوئے اور تھوڑی دیر بعد بستی کی سرائے میں جا اتر ے۔سرائے میں پہنچ کر ہم نے آرام کا ارادہ کیا کوچبان نے اپنی ترم کو چولھے کے پاس یک کھونٹی پر لٹکا دیا اور میں دوسری طرف ٹانگیں پسار کر بیٹھ گیا یکایک ایک آواز سنائی دی ۔

توں توں ،توں توںہم نے حیران ہو کر پھر کر دیکھا یہ آواز ترم می سے آرہی تھی اب بات ہماری سمجھ میں آئی کوچبان کو پھونکیں سردی کے مارے ترم کے اندر جم گئی تھیں اب گرمی جو پہنچی تو آواز نکلی۔ اس کے بعد بھی طرح طرح کی راگنیاں برآمد ہوئیں جو کوچبان نے اس میں پھونک رکھی تھی ہم بہت دیر تک ان سے محظوظ ہوتے رہے۔
صاحبو! اس کارنامے کے ساتھ میں روس کی سیاحت کا ذکر ختم کرتا ہوں بعضل سیاح اپنی داستان کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کے عادی ہوتے ہیں ان پر خدا کی مار اگر تم میں سے کسی کو میرے بیان کی صداقت پر ذرا بھی شبہ ہو تو میں درخواست کروں گا کہ اس محفل سے اُٹھ جائے تاکہ میں اپنے کارناموں کی دوسری کھیپ کا آغاز کروں جس کاایک ایک حرف اسی طرح سچ ہے جس طرح اب تک کے بیان کردہ واقعات۔

Your Thoughts and Comments