Malfozat Guftaar Ghazi Aleh Ma Aleh

ملفو ظات گفتار غازی علیہ ماعلیہ

جمعہ اکتوبر

Malfozat Guftaar Ghazi Aleh Ma Aleh

خادم حسین مجاہد
ایک دن حضرت اندر سے برآمد ہوئے تو خلافِ معمول خود کلامی میں مصروف تھے ۔محفل میں بیٹھنے کے بعد بھی جب کافی دیر معمول پر نہ آئے تو میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ حضرت ماجرا کیا ہے تو سرد آہ بھر کر بولے کہ بیوی کو کچھ سمجھانے کی سعی لاحاصل میں مصروف تھا اور ہمیشہ کی طرح نا کام ہو کر خود کو سمجھا رہاتھا کہ بیوی کو سمجھانے کی بجائے بندہ خود سمجھ جائے تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس کو شش کے باعث بیوی جو کچھ سمجھاتی ہے اس سے بندہ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہتا ۔


”اصل میں دونوں کی فریکو ئنسی میں فرق ہے اسی لئے دونوں کو ایک دوسرے کی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں ،سمجھو کہ ایک شارٹ ویو ہے اور دوسرا میڈیم ویو ۔اب شارٹ ویو پر تومیڈیم ویو کے کچھ نہ کچھ سٹیشن چل جاتے ہیں لیکن میڈیم ویو پر شارٹ ویو کے سٹیشن کم ہی چلتے ہیں اس کے لئے انٹینے سے مدد لینی پڑتی ہے اس لئے خاتون کو کوئی بات سمجھا نے کے لئے دلیل سے زیادہ جھا نپڑ کا ر گر ہوتا ہے لیکن آپ لوگ جھانپڑ کا استعمال اپنی ذمہ داری پر کریں اور اس سے قبل اپنے حالات وکیفیات کو مدِ نظر ضرور رکھیں کیونکہ اب پہلے والے حالات نہیں رہے کہ بیوی اللہ تعالیٰ کی گائے بن کر چپ چاپ سب کچھ سہہ جائے۔

(جاری ہے)

جھانپڑ کا جواب جھانپڑہی نہیں جھاڑو ،بیلن ،کفگیر اور ڈنڈے سے بھی مل سکتا ہے “۔
”پھر اس کا کیا حل ہے ؟“ایک دوسرے مرید نے پوچھا ۔
”میری جان ! بد قسمتی سے اس کا کوئی حل نہیں ۔گارنٹی کے ساتھ محبوب قدموں میں اور بیوی کی فرماں برداری والے تعویذ فروش اور عامل بھی اپنی بیوی کو مطیع نہیں کر سکتے اور میں جو آپ کے مشکل سے مشکل سوال کا جواب اور الجھن کی سلجھن با آسانی بتا دیتا ہوں میں بھی زوجہ کو سمجھانے پر قادر نہیں ہوں تو آپ کس کھیت کی مولی ہیں “۔

حضرت نے بتایا ۔
”تو پھر کیا کریں ؟“ایک اور مرید نے استفسار کیا ۔
”صبرِ ہی کرنا پڑے گا اور کیا کر سکتے ہیں۔ہاں کچھ سمجھانے کی بجائے رجھانے کی کوشش کریں یعنی شاپنگ کرائیں ،فرمائشیں پوری کریں اور اس کی باتیں سوچے سمجھے بنا آنکھ بند کرکے مانیں تو ہو سکتا ہے وہ بھی آپ کی بہت سی باتیں بن سمجھائے ہی سمجھ جائے لیکن اس سے آپ کا بجٹ خراب ہو جائے اور آپ مقروض ہو جائیں تو مجھے الزام نہ دیجئے گا “۔


”یہ بیوی ہر وقت غصے میں کیوں بھری رہتی ہے “۔
”دراصل وہ بھی آپ کی طرح ایک ہی شکل دیکھ دیکھ کر بور ہو جاتی ہے ۔آپ تو پھر بھی باہر نت نئی شکلیں دیکھ دیکھ کر دل پشوری کر لیتے ہیں جس کا اسے کم ہی موقع ملتا ہے۔اس کے پاس لے دے کے ٹی وی پر ڈرامے دیکھنے کا ہی آپشن رہ جاتا ہے ،وہ بھی وہ کب تک دیکھے۔آپ بھی اسے باہر نہیں لے جائیں گے تو وہ تو جھٹکا مارے گی ہی کیونکہ اس میں تو کرنٹ ہی کرنٹ بھرا ہوا ہے ۔

وہ بھی منفی جو مرد کے مثبت کرنٹ کے ساتھ مل کر سرکٹ تو مکمل کرتی ہے کہ کرنٹ گزر سکے لیکن وہ مثبت کرنٹ نہیں بن سکتی کہ آپ کو یوں پکڑے کہ چھوڑے ہی نہیں “۔
”شادی سے پہلے بات بات پر آئی لو یو کہنے والی شادی کے بعد یہ الفاظ بھو ل کیوں جاتی ہے؟“ایک اور مرید نے پوچھا ۔
”دراصل شادی سے قبل تمام باتیں لفظی اور زبانی ہوتی ہیں اور بعد میں عملی اور لڑکیاں عموماََ شادی سے قبل ہی پوری زندگی کے آئی لویو بول دیتی ہیں اس لئے بعد کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں ۔

ایک بات اور بھی ہے شادی سے پہلے تو آپ بھی اسے بار بار آئی لو یو بولتے ہیں بعدمیں کتنا بولتے ہیں جو وہ بولے ؟“
”ہم تو پھر بھی کبھی کبھار مجبوراََ یا دل رکھنے کو آئی لویو شادی کے بعد بھی بول لیتے ہیں مگر وہ پھر بھی نہیں بولتی اس کی کیا وجہ ہے ؟“
”دراصل وہ جانتی ہے کہ آپ شادی کے بعد آئی لویو کس دل سے بولتے ہیں اس لئے وہ پھر بھی نہیں بولتی ۔

آپ کا بھی قصور نہیں ہے شادی کے بعد اپنی ہی بیوی کو آئی لویو بولنا بڑے دل گردے کا کام ہے“۔
”خانگی جھگڑوں میں غلطی میاں کی ہو یا بیوی کی معافی ہمیشہ میاں کو ہی مانگنا پڑتی ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟“
”واقعی آئی لو یو کی طرح بیویوں کی طرف سے سوری کی مثالیں بھی شاذ ہی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ خود کو کبھی غلطی پر سمجھتی ہی نہیں تو سوری کیوں کریں اگر آپ ان سے سوری کروانا چا ہتے ہیں تو پہلے آپ کو قائل کرنا پڑے انہیں کہ وہ غلطی پر ہیں اور اس قائل کرنے کی مشقت کرنے سے بہتر یہ ہے کہ آپ خود ہی سوری کرکے بات ختم کریں کیونکہ قائل تو وہ ہو گی نہیں جب بعد میں سوری آپ نے ہی کرنا ہے تو پہلے ہی کرکے اپنی توانائی بچائیں “۔


”عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بیویاں مرد کے افےئر تو برداشت کرلیتی ہیں مگر دوسری بیوی نہیں ،اس کی کیا وجہ ہے ؟“
”یہ بالکل سامنے کی سیدھی سی بات ہے ۔دراصل انہیں یہ تسلی ہوتی ہے کہ گھر اور مرد پر قبضہ تو ان کا ہی ہے نا اگر کوئی شب خون مارتی بھی ہے تو اس کے بعد چلی جاتی ہے ۔دوسری بیوی آگئی تو وہ تو جائے گی نہیں اور مرد بھی اس طرح مطمئن رہتا ہے کہ چلو کچھ تو ذائقہ بدلا لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ شب خون مارنے والیوں کی فتوحات اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ وہ سلطنت کو تاراج کرکے بادشاہ کو بھی لے اُڑتی ہیں اس لئے بیویوں کو محتاط بھی رہنا چاہئے ،یہ نہ ہو کہ سوکن سے بچتے بچتے مرد سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں “۔


”کہتے ہیں کہ کامیاب مرد کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ،کیا عمران خان کے معاملے میں بھی یہ بات درست ہے ؟“
”یہ درست ہے کہ ہر کامیاب مر د کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہر نا کام مرد کے پیچھے کئی عورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے ۔یہ بات عمران خان کے معاملے میں بھی درست ہے کہ بشریٰ بی بی کے آنے کے بعد عمران خان میچور باتیں کرنے لگ گئے تھے اسی لئے عوام نے بھی ان پر اعتماد کیا ورنہ اس سے قبل تو ان کی باتوں پہ کبھی ہنسی آتی تھی تو کبھی رونا ۔

دعا کریں کہ وہ ملک اور عوام کے لئے بہتر ثابت ہوں اور جن ارادوں کا وہ اظہار کرتے ہیں ان کو پورا کرسکیں ورنہ انہیں ناکام کرنے کے لئے چور ڈاکو تو ایک ہو ہی چکے “۔اس کے ساتھ ہی حضرت نے محفل برخاست کردی ۔

Your Thoughts and Comments