Maqbooza Allama Iqbal

مقبوضہ علامہ اقبال

پیر 26 مارچ 2018

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
ہمیں بھارتیوں کی یہی سمجھ آئی ہے کہ انہیں جس کی سمجھ نہ آئے اس کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور جس کی سمجھ آجائے اس پر قبضہ کرنے لگتے ہیں اس لیے پچھلے دنوں اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارتی سفیر نے علام اقبال کے شعرسنائے اور انہیں بھارتی شاعر کہا تو ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ منیر اکرم صاحب نے احتجاج کیا کہ کشمیر کے بعد بھارت ہمارے قومی شاعر پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے مگر ہمیں اس پر حیرانی نہ ہوئی۔

ہمارے ہاں آج کل اتنی شاعری نہیں ہورہی جتنے شاعر ہورہے ہیں لیکن اس مملکت خداداد میں وہی شاعر پیار ا ہے جو اللہ کا پیارا ہے یوں ہم اس سے پیار کرنے کے لئے اس کے اللہ کو پیارے ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ابھی پچھلے دنوں ہمارے ایک دوست ایک شاعر سے مل کر حیران ہوئے اور کہا میں تو سمجھا تھا خدا نخواستہ یہ مرچکے ہیں۔

(جاری ہے)

“ہم نے پوچھا آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں بولا دراصل میں نے پاک ٹی ہاﺅس میں کئی شاعروں کو دیکھا وہ سب ان کی بڑی تعریفیں کررہے تھے۔

علامہ اقبال ان شاعروں میں سے ہیں جو مرتے نہیں لوگ ان پر مرتے ہیں ان کے بغیر تو ہمارا روزمرہ کا گزارا ممکن نہیں وہ حکیم الامت ہیں اس لئے حکیم ان کے کلام میں نسخوں کو طب نسخے سمجھتے ہیں ہم حکیموں کو نہیں پوچھ سکتے جیسے ٹی وی والوں کو نہیں پوچھ سکتے کہ وہ بڑی عید کے پروگرام میں اداکارہ انجمن کو ہی کیوں بلاتے ہیں خدا جسے دیتا ہے چھپر پھاڑ کر دیتا ہے مگر مسلمانوں کو چھپڑ پھاڑ کر بھی اتنا ہی دیتا ہے جس سے صرف پھٹے چھپڑ کی مرمت ہوسکتی ہے مگر علامہ اقبال دے کر اس نے ہمارا اقبال بلند کیا۔

بھارتیوں نے پہلے کبھی علامہ اقبال کو نہ مانا رابند رناتھ ٹیگور کو ہی مانا سنا ہے ٹیگور زیادہ اس لیے پاپولر ہو ا کہ وہ شرمیا تھا اور شرمیلا ٹیگور ہمیں بھی پسند ہے ایک دوست نے ان کی کتاب گیتا انجلی ہمیں دی اور ہفتے بعد پوچھا کتاب کو پڑھا ہم نے کہا ہم نے کچھ بھی نہیں پڑھا بولے گویا تم نے آدھی کتاب پڑھ لی شاعروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے والا ادب کا قبضہ گروپ تو یہاں بھی ہے جس نے میرو غالب کی نہیں اقبال کی زمینیں بھی ہتھیالیں لیکن لگتا ہے کہ بھارتیوں نے علامہ اقبال کو علامہ اقبال سمجھا ہے ہمارے آج کے ایک مقبول شاعر جن کی زندگی میں نشیب کم اور فراز زیادہ ہے فرمایا میری تو بھارت میں پوجا ہوتی ہے ۔

تو ہم نے کہا یہ کون سی خوبی والی بات ہے وہاں تو بچھڑے کی بھی پوجا ہوتی ہے مگر ہمیں یہ اندازہ نہ تھاکہ بھارت کشمیر کے بعد کشمیریوں پر قبضہ کرنا شروع کردے گا۔کشمیر بھارت کا ”ٹوٹ انگ“ہے مگر اقوام متحدہ میں یہ کیس اتنی دیر کا ہے کہ اب تو امریکنوں کوبھی اس مسئلے کا پتہ چل گیا ہے کیونکہ امریکہ وہ ملک ہے جس میں لوگوں کو یہ تو پتہ ہوتا ہے کہ سینکڑوں سال پہلے ان کے آباﺅاجداد کس علاقے میں کیا کیا کرتے رہے مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ گذشتہ رات انکے بچے کہاں اور کیا کرتے رہے۔

دیکھتے ہیں اقوام متحدہ ان شعر انگیزیوں کا کیا توڑ کرتی ہے۔
دنیا میں پاکستان کی نظیر اور بے نظیر نہیںملتی جب سے بنا ہے نازک حالات سے گزر رہا ہے نازک حالات نہ ہوں تو ہم پریشان ہوجاتے ہیں کہ نازک حالات سے گزرنا سخت حالات سے گزرنے سے بہر حال آسان ہوتا ہے ہمیں مقبوضہ کشمیر کی فکر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ اقبال کی فکر لگ گئی ہے فکر تو نرسیما راﺅ کو بھی ہے مگر وہ تو فکر میں اتنے پریشان ہوجاتے ہیں کہ انہیں یاد نہیں رہتا کہ فکر کیا ہے؟قوت فیصلہ تو نر سیماراﺅ کی ایسی ہے کہ دہلی میں مشہور ہے جب وہ کسی اجلاس میں شرکت کے لیے جائیں اور ان سے پوچھا جائے کہ آپ چائے پئیں گے یا کافی تو اجلاس کے خاتمے تک وہ دونوں میں کسی ایک کا انتخاب نہیں کرسکتے میز پر دونوں لگانا پڑتی ہے خوشونت سنگھ کہتے ہیںراﺅ چونکہ بارہ زبانیں جانتے ہیں اس لیے وہ بار بار ہر زبان میں ہر سوال پر غور کرتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں ان کی قوت فیصلہ کمزور ہے،بہر حال قومی شاعر کی اس حرکت پر قبضہ کرنے پر ہم نرسیما راﺅ کو مولانا اختر علی مرحوم صاحب کی طرح دھمکی دیتے ہیں مولانا اختر علی مرحوم وزیر اعظم اٹیلی سے ملے اور کہا دیکھیے جناب مسئلہ کشمیر فوراً حل کرادیجئے ہاں ایک مہینے کی مہلت دیتا ہوں ورنہ“اٹیلی کی سٹی گم ہوگئی پوچھا ورنہ کیا؟مولانا بولے ورنہ آپ کے خلاف زمیندار میں اداریہ لکھوں گا۔

Your Thoughts and Comments