Mera Qeema Bana Dijiay

میرا قیمہ بنا دیجیے

بدھ فروری

Mera Qeema Bana Dijiay
مستنصر حسین تارڑ :
میں ٹولنٹن مارکیٹ کی چھوٹے گوشت کی ایک دکان پر کھڑا اپنی باری کا انتظار کررہا تھا اور کچھ اس قسم کے ”جذباتی “ سوال جواب سن رہا تھا ۔
نسیم بھائی پہلے میرا قیمہ بنادیجیے “ ایک خاتون کہہ رہی تھیں ۔
بہن جی آپ فکر ہی نہ کریں میں آپ کاایسای قیمہ بناؤں گا کہ آپ یاد کریں گی ․․․․․!
ذرا جلد کریں نسیم بھائی ۔


بس آپ کھڑی رہیں ۔ آپ کے کھڑے کھڑے میں آپ کاقیمہ بنادوں گا ۔
قیمہ روکھا بناؤں یا موٹا۔
روکھا ٹھیک رہے گا لیکن میں ذراجلدی میں ہوں ۔
بہن جی یہ قریشی صاحب کا قیمہ ہے یہ والا جومیں کوٹ رہا ہوں اس کے بعد انشاء اللہ آپ کا قیمہ بنے گا ۔
نسیم صاحب ․․․․․․ مغز چاہیے مل جائے گا، ایک صاحب دریافت کرتے ہیں ْ
کیوں نہیں جناب ․․․․․ یہ ہمارے لیڈران کرام تھوڑی ہیں بکرے ہیں ان میں بہت مغز ہے ابھی دیتا ہوں ۔

(جاری ہے)


اور میرے گردوں کا کیا ہوا ؟ ایک آواز آتی ہے ۔
یہ والے “ نسیم کابھائی جوشکل سے ہیرہ لگتا ہے چند گردے فضا میں بلند کرتے ہوئے کہتا ہے “ آپ کے گردے ہیں ․․․․․․ ابھی نکالے ہیں بناکردیتا ہوں ۔
اور میری ران ․․․․
یہ رہی آپ کی ران بالکل نرم اور تازہ تازہ ۔
اور میری سری ۔
ابھی توڑتا ہوں ۔
ایک صاحب جو آرڈر دے کرجاچکے تھے واپس آکر پوچھتے ہیں یارابھی تک میراگوشت نہیں بنایا․․․․ ؟
اوہو آپ یہ بتائیں کہ آپ کی بوٹیاں کیسے کاٹوں ․․․․․ چھوٹی یا بڑی ․․․․․ میں پانچ منٹ میں آپ کا گوشت بناتا ہوں جناب ․․․․․ ہم آپ کا گوشت نہیں کاٹیں گے تو اور کس کا کاٹیں گے ۔


بالآخر میری باری آتی ہے اور میں ایک مختصر آرڈر دیتا ہوں ۔
تارڑ صاحب نسیم مسکراتے ہوئے کہتا ہے ، اتنا گوشت تو پورے محلے کے لیے کافی ہوگا کیا کریں گے اتنے گوشت کو دیگ پکائیں گے ۔
بھائی آپ براہ کرم جگتیں نہ کریں اور گوشت بنادیں ․․․․․ اور یہ والی بوٹی تواچھی نہیں ہے ! یہ نہ ڈالنا ۔
یہ والی ․․․․․ وہ بوٹی کواٹھا کر اس کی نمائش کرتا ہے “ یہ والی توبڑی جذباتی بوٹی ہے تارڑ صاحب ․․․․ “
نسیم اپنے گوشت کے بارے میں جذباتی کا لفظ بے دریغ استعمال کرتا ہے ․․․․․ مثلاََ جنا یہ گردہ ملا خطہ کیجیے بالکل جذباتی ہے ․․․․․․․ یہ چانپ جو آپ دیکھ رہے ہیں جذباتی ہورہی ہے آہستہ آہستہ یہ ران تو خیر ہے ہی جذباتی ․․․․․ ویسے میرے پاس غیر جذباتی گوشت بھی ہے لیکن آپ کو مزہ نہیں آئے گا ․․․․․․ وہ سامنے والا بکرا جو لٹک رہا ہے وہ شہنشاہ جذبات ہے اور بکری جوہے یہ ملکہ جذبات ہے اس کی ٹانگ پیش کروں
گوشت کے بارے میں کالم لکھنا کچھ غیرادبی سافعل ہے لیکن کیا کیا جائے یہ مہنگا ہوتا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کی ” مسلمانی “ کم ہوتی جارہی ہے گوشت اور مسلمان لازم وملزوم ہیں ․․․․․․ ہمارے گاؤں میں تویہ بھی کہاجاتا ہے کہ زیادہ گوشت کھانے ایمان مضبوط ہوجاتا ہے لوہے کی طرح ․․․․․․․․ ظاہر ہے کہ اگر گوشت مہنگا ہوگا تو کم کھایا جائے گااور اسی تناسب سے ” مسلمانی “ کم ہوتی جائے گی میں بھی اسی لیے فکر مند ہوں ․․․․․․ گوشت کی قیمتوں میں یکدم اضافہ ہوگیا ہے اور کہیں سے احتجاج کاایک لفظ سنائی نہیں دیا․․․․․․ سگریٹ مہنگے ہوجائیں توچھوڑ دو چائے مہنگی ہوجائے تو کم پیو۔

آٹا مہنگا ہوجائے تو کیک کھالو لیکن گوشت تو کم نہیں کھایاجاسکتا ․․․․․ مجھے چونکہ گوشت کی قیمتوں میں اضافے کی خبر نہ تھی اس لیے میں نے جیب میں پڑی رقم کے مطابق آرڈر دیااور پھربعد میں بل زیادہ بننے پر خوب خوب شرمندہ ہوا ․․․․․․ تو پھرآج گوشت کا بیان چلتارہے چھوٹے گوشت کی مارکیٹ سے باہر آجائیے۔ پنجاب پبلک لائبریری کے سامنے بڑے گوشت کی مارکیٹ ہے ․․․․․․․ یہاں بھی علم اور گوشت کا چولی دامن کاساتھ ہے اس مارکیٹ کے اندر بھی دکاندار تقریباََ ایک ہی علاقے اور ایک ہی خاندان سے متعلق ہیں ․․․․․․ ایک مرتبہ میرے والد صاحب جو انتہائی حساس طبیعت کے مالک ہیں گوشت خریدنے آئے تو قصاب نے ایک بوٹی اٹھا کر کہا ” چوہدری صاحب بالکل بچے کی بوٹی ہے بھون کر کھائیے گا مزہ آجائے گا ․․․․․․․ وہ دن اور آج کادن والد صاحب کبھی بڑا گوشت خریدنے نہیں گئے ․․․․․․ یہاں پر گوشت کے عجیب وغریب شوقین نظرآتے ہیں ․․․․․․ ایسے شوقین جو پلاؤ کے لیے الگ گوشت منتخب کرلیتے ہیں اور کریلے پکانے کے لیے ایک ان میں وہ حضرات بھی شامل ہوتے ہیں جو صرف سری پایوں کی تلاش میں یہاں آتے ہیں ۔


گوشت کھانا مسلمانوں کی اور خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں کی فطرت ثانیہ ہے وہ خوشی کا اظہار کرنا چاہے تو بھنا ہوا گوشت کھائیں گے یاشکرانے کے طور پرایک دوبکرے حلال کردیں گے ۔
اگر فوتیدگی ہوجائے تو بھی مہمانوں کی تواضع آلو گوشت سے کی جائے گی ۔
میرے ماموں اللہ بخشے کہاکرتے تھے کہ بالکل گلا ہوا نرم گوشت کس کام کاگوشت وہ جو نوچ نوچ کر کھایا جائے ۔


ایک چھوٹا سا قصہ ہے ․․․․․ جس میں گوشت کے بارے میں ہی کچھ بیاں ہے ․․․․․․میں اس وقت تقریباََ 15-16برس کا تھا اور پہلی مرتبہ ولایت جارہا تھا جہاز میں میرے برابر کی نشست پر ایک مولانا براجمان تھے وہ خاصے معصوم تھے میں نے دریافت کا کیا کہ کیوں چچا جان آپ کس سلسلے میں انگلستان جارہے ہیں تو کہنے لگے ! بیٹا میں کافروں کو مسلمان کرنے جارہا ہوں میں نے پوچھا آپ کو انگریزی آتی ہے ؟ کہنے لگے نہیں جس نے مسلمان ہونا ہوگا اسے خود بخود میری زبان کی سمجھ آجائے گی ․․․․․․ا ن دنوں ابھی جیٹ مسافر بردار طیارے اڑان نہیں کرتے تھے چنانچہ پنکھوں والا جہاز بڑے مزے سے ہواؤں اور بادلوں سے اٹکھیلیاں کرتا منزل کی جانب جاتا تھا۔

ہم کراچی سے چلے اور پھر طہران ۔ قاہرہ ۔ ایتھنز وغیرہ میں رکتے روم پہنچے ۔ روم میں دو گھنٹے سٹاپ تھا اور ایئرلائن کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ مسافر حضرات ائیرپورٹ کے ریستوران میں جا کراپنی پسندکا کھانا تناول فرمائیں بل کمپبی کے ذمہ ہوگا ۔ اس اعلان پر مسافر حضرات بے حد خوش ہوئے میں خوش ہوااور مولانا توبے حد خوش ہوئے کیونکہ ہمیں شدید بھوک لگی تھی ۔


ریستوران میں بیٹھے توایک خوبرواطالوی خاتون ہاتھ میں مینو پکڑے ہمارے قریب آگئی ․․․․․․ مولانا کھانسے اور ناپسندیدگی کااظہار کیا میں چونکہ ابھی بچہ تھا اس لیے مجھے کھانسی بالکل نہ آئی ۔ میں نے اپنے لیے ایک عددروسٹ چکن ” مولانا آپ کیا کھائیں گے ؟ میں نے اپنے مسافر چچا جان سے ” پوچھا “ اس گوری گوری لڑکی سے کہو کہ میرے لیے صرف اُبلی ہوئی سبزیاں لے آئے کیونکہ گوشت تو یہاں پر حلال نہیں ہوگا “ انہوں نے منہ بنا کر کہا ۔


اب میں تو اس معاملے کے بارے میں غور نہیں کیاتھا کہ یہاں گوشت کس قسم کا ہوتا ہے اور مجھے بھوک بھی بہت لگی ہوئی تھی بہرحال میں نے ان کاآرڈر بھی دے دیاآدھے گھنٹے کے بعد ویٹرس خوراک لے آئی ایک ٹرالی پر میرا روسٹ مرغ ابھی تک روسٹ ہورہا تھا اس کی خوشبو پورے ریستوران میں پھیلی تھی مرغ کے گرد انڈے اور آلو کے قتلے اور سلاد وغیرہ بہار دکھارہے تھے ․․․․․․ یہ سب کچھ میرے آگے رکھ دیا گیا پھرویٹرس واپس گئی اور ایک چھوٹی سی پلیٹ لاکر مولانا کے آگے رکھ دی اس میں ایک اُبلی ہوئی گاجراور ایک دو آلو تھے سفری چچاجان نے گاجریں کھانے کی کوشش کی لیکن ان کی نظریں میرے روسٹ مرغ پر سے اٹھائے نہ اٹھتی تھیں میں مزے سے کھاتا جارہا تھا اور وہ مجھے دیکھتے جارہے تھے بالآخر انھوں نے گرج کر کہا ” برخوردار “
” جی جناب میں نے گھبرا کر جواب دیا ۔


یہ ہوٹل والی زنانی کو کہو کہ میرے لیے بھی یہی مرغ لے آئے یہ شکل میں حلال لگتا ہے ۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ گوشت کھانے کے شوق میں ہم بعض اوقات اپنی مسلمانی کوبھی خطرے میں ڈال لیتے ہیں ۔
لاہور کے ایک بہت ہی معروف ڈاکٹر صاحب اکثربازار جاکر ایک بکراخریدلاتے گھر جا کر اسے خود ذبح کرتے گوشت بناتے خود ہی بھونتے اور پھر اپنے بیٹوں کے ہمراہ ایک ہی نشست میں اسے نوش کر جاتے ․․․․․․ موصوف فرمایا کرتے تھے کہ گوشت ہونا چاہیے ، چاہے گدھے کا ہی کیوں نہ ہو․․․․․․!
میں نے مکان بنایا تو ایک مزدور تقریباََ روزانہ شام کو مزدوری کی رقم وصول کرتااور گوشت خریدتا اور بھون کر کھاجاتا ۔


میں خود اگرچہ کھانے پینے کا بہت زیادہ شوقین نہیں ہوں لیکن گوشت کھائے ہوئے اگر دوچار دن گزر جائیں تو جمائیاں آنے لگتی ہیں دنیا بے رنگ نظرآنے لگتی ہے اور اپنے مسلمان ہونے پرشبہ ہونے لگتا ہے لیکن اب تو قیمت زیادہ ہونے سے ایسا لگ رہا کہ قیمہ بکرکے کا نہیں ہمارا اپنا بن رہا ہے ․․․․․․ ہمارے گردے نکالے جارہے ہیں اور مغز کھایا جارہا ہے ․․․․․․ اور وہ دن دور نہیں جب ہم گوشت کی دکان پر جا کر قصائی کے آگے لیٹ کر کہیں گے ”براہ کرم میرا قیمہ بنادیجیے ۔

Your Thoughts and Comments