Mulk Ka Sab Se Bara Maslah

ملک کا سب سے بڑا مسئلہ!

جمعرات مئی

Mulk Ka Sab Se Bara Maslah

میں نے گھر سے آفس جانے کے لیے گاڑی سٹارٹ کی تو تھوڑی دیر بعد ہو بند ہو گئی اور پھر میری تمام تر کوشش کے باوجود سٹارٹ نہ ہو سکی۔ میں اپنے گھر کے قریب واقع ایک ورکشاپ کے میں مکینک کو لے کر آیا جس کی کوشش سے تھوڑی دیر بعد ہی گاڑی سٹارٹ ہو گئی۔ میں نے خرابی کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ پٹرول میں کچرا آگیا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ گزشتہ روز میں نے اپنے قابل اعتماد پٹرول پمپ کی بجائے ایک دوسرے پٹرول پمپ سے پٹرول لیا تھا اوریہ خدشہ اسی وقت سے میرے ذہن میں موجو د تھا کہ ناقص پٹرول کی وجہ سے گاری میں ضرور کوئی خرابی پیدا ہو گئی۔

گھر سے ستلج بلاک کی سٹرک جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی تھی جس کی وجہ سے مجھے اور گاڑی کو جو ہچکولے لگ رہے تھے وہ ہم دونوں کا ستیاناس کرنے کے لیے کافی تھے۔

(جاری ہے)

خدا کا شکر ہے کہ گندے نالے سے دوبئی چوک کی طرف مڑنے کے بعد سڑک ہموار ہو گئی اور میں اقبال ٹاو¿ن کی مین روڈ پر آگیا اور یہاں بھی اسی طرح کا کوئی پرابلم نہ تھا البتہ یہاں کارپوریشن کا گندگی سے بھرا ہوا ٹرک میرے آگے لگ گیا اور جارو طرف سے کھلا ہونے کی وجہ سے اس میںسے غلاظت نکل نکل کر سڑک پر بہہ رہی تھی جس سے پوری فضاءمتعفن ہو گئی تھی ۔

میں نے ہارن پہ ہارن دئیے مگر ٹرک ڈرائیور کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور وہ سڑک کے عین درمیان میںٹرک دوڑاتا رہا۔ خدا خدا کر کے اس ظالم کا دل پسیجا اور میں اسے اوورٹیک کرنے میں کامیاب ہو گیا!۔وحدت روڈ پر بائیں جانب کے بعد سڑک بہت بہتر گئی تھی چنانچہ میں نے کارکی رفتار مزید تیر کر دی مگر کچھ دیر بعد مجھے بریک لگانا پڑی کہ ایک دس بارہ سالہ دونوں پاو¿ں سے معذور بچی گھسٹ گھسٹ کر سڑک پار کر رہی تھی۔

وہ تو خدا کا شکر ہے کہ زمین پر کیڑے مکوڑے کی طرح رینگتی ہوئی یہ بچی کار کی سکرین میں سے نظر آگئی ورنہ اس کا حشر بھی زمین پر رینگنے والے دوسرے کیڑوں مکوڑوں جیسا ہوتا۔ وحدت روڈ کے اختتام پر ایک سگریٹ کا دکان کے پاس میں نے کار روکی۔ آٹھ نو سال کا ایک بچہ آرڈر لینے کے لیے دوڑا ڈوڑا میرے پاس آیا، اتنی ہی عمر کے ایک دوسرے بچے نے میلے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے ایک میلے کچیلے کپڑے سے میری کار کو مزید چمکانا شروع کر دیا۔

برقع میںملبوس ایک عورت چند ماہ کی بچی گود میںلئے ہوئے میرے سامنے ہاتھ پھیلا کر کھڑی ہو گئی۔ اتنے میں لڑکا سگریٹ لے آیا تھا۔ میں نے چینج ان سب میں تقسیم کر دیا اور بائیں ہاتھ مڑ کر فیروز پور روڈ پر آگیا۔رحمان پورہ میں ‘ میں نے اپنے درزی سے کپڑے لاناتھے چنانچہ میں فیروز پور روڈ پر ذرا سا چلنے کے بعد بائیں ہاتھ رحمان پورے کی طرف مڑ گیا ۔

ٹیلر ماسٹر دکان میںموجود نہیں تھا میری نظر سڑک کے دوسرے کنارے پر گئی تو ہو منہ دیوار کی طرف کئے کھڑا تھا۔تھوڑی دیر بعد وہ ازار بند باندھتا ہوا دکان میں داخل ہوا۔ میں نے کہا ماسٹر جی! سر عام یہ حرکت کرتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آتی؟ ماسٹر جی نے گردن جھکا کر کہا۔” آتی ہے جی! لیکن اس پورے علاقے میں ٹائلٹ نہیں ہے، اگر زیادہ دیر شرم ضبط کیا جائے تو اس سے کئی گنا شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے!۔

“ ماسٹر نے ڈاکوو¿ں، زنا بالجبر، غبن اور سکینڈلز کی خبروں سے بھرے ہوئے ایک اخبار میںمیرے کپڑے لپیٹے اور مجھے تھما دئیے!۔واپس فیروز پور روڈ آںے کے بعد رخ اچھرے موڑ کی طرف تھا۔اچھرے موڑ پر ڈیڑھ دو سو کے قریب مزدور ہاتھ میں برش، کوچی اور کدالیں وغیرہ پکڑے کھڑے تھے، مضافات سے مزدوری کی تلاش میں آنے والے ہی لوگ روزانہ شہر کے مختلف چوراہوں میں کھڑے نظر آتے ہیں اور روزانہ خالی گھر میںلوٹ جاتے ہیں جہان ان کے بچوں کی گرسنہ آنکھیں ان کی منتظر ہوتی ہیں چنانچہ میرے لیے یہ منظر نیا نہیں تھا ۔

شمع سینما سے آگے دائیں ہاتھ پر جیل کے دروازے کے باہر بیسیوں عورتیں، بچے اور بوڑھے اپنے ان لواحقین سے ملنے آئے تھے جن پر ابھی جرم ثابت نہیں ہوا لیکن وہ برسوں سے اس حوالاتی جیل میںبند ہیں۔ آگے چل کر پندرہ بیس مدقوق سے چہرے نظر آئے، یہ سب ننگے پاو¿ں تھے، ان کے کپڑے بوسیدہ تھے اور آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔ آگے آگے ڈھول بج رہا تھا اور پیچھے چار افراد ایک سبز رنگ کی چادرکو چاروں کونون سے پکڑے چل رہے تھے۔

ان کی کوئی مراد بر آئی تھی چنانچہ ہو کسی بزرگ کے مزار پر شکرانے کے لیے چادر چڑھانے جا رہے تھے،راستے میں دیواریں جعلی حکیموں اور جعلی ڈاکٹروں کے اشتہارات سے بھری پڑی تھی۔ جعلی لیڈروںکے بڑے بڑے پوسٹر بھی دیواروں پر لگے تھے۔ میں نے گاڑی مزنگ چونگی سے کوئز روڈ کی طرف موڑ لی۔یہاں نئی نکور چمکتی دمکتی کاروں کے شوروم تھے۔لاکھوں روپے مالیت کی ان کاروں کے خریدار یہاں نوٹوں سے بھرا بریف کیس الٹتے ہیں اور نئے ماڈل کی کار لے کر اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں ۔

جہاں تمام افراد خانہ کی الگ الگ کاریں پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ پلازہ سنیما سے چند قدم آگے جانے کے بعد میںنے اپنی گاڑی بائیں موڑی اور آفس کے سامنے کھڑی کر کے اوراوپر چلا آیا اور اپنی ڈاک کھول کر دیکھنے لگا۔پہلا خط تاندلیا نوالہ کے ایک قاری کا تھا اس نے لکھا تھا۔” قاسمی صاحب! آپ اکثر ادھر ادھر کے موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں جن کا ہمارے اصل مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ اخبارات میں خواتین کی تصویروں کی اشاعت کا ہے۔ یہ تصویریں دیکھ کر میری آنکھوں میںخون اتر آتا ہے اور شرمندگی سے میری آنکھیں جھک جاتی ہیں کیا ہم نے پاکستان اسی لیے بنایا تھا کہ۔۔۔۔“

Your Thoughts and Comments