Naswar Khanum

نسوار خانم

جمعہ مارچ

Naswar Khanum

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
نسوار کو دیکھ کر ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ نشہ ہے جسے منہ میں ڈالنے کے لیے بھی بندے کو نشے میں ہونا چاہیے جیسے لوگ اپنی نالیاں اورنیکیاں دریا میں ڈال دیتے ہیں ایسے ہی ہم سمجھتے ہیں نسوار منہ میں وہ رکھتے ہیں جن کے پاس اسے رکھنے کے لئے کوئی بہت جگہ نہیں ہوتیں سنا ہے پہلے اسے پریاں کھایا کرتیں۔


ہمارے سامنے تو کوئی پری بھی اسے کھائے تو ہم اسے پری کی بجائے پرے پرے!ہی کہیں گے وہ پری نہیں خانہ پری ہے جس کے چہرے پر زیر لب مسکراہٹ کی بجائے زیر لب نسوار ہو آج کل ہم نسوار کو پٹھانوں سے چھڑوانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ مختصر پشتو فلموں کی تفصیلی اداکارہ نے اخباری بیان دے دیا کہ میرا رقص دیکھ کر پٹھان نسوار منہ میں ڈالنا بھول جاتے ہیں اس اداکارہ کا رقص دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے کوئی وزنی شاہین مسرت کا اظہار کررہا ہے ایک ماہر مرگی کے مطابق رقص میں ایسا فٹ لباس پہنتی ہے کہ دیکھنے والوں کو فٹ پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے اگرچہ ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی کسی اداکارہ سے پوچھ کہ جس دن شوٹنگ کینسل ہوجائے گھر جاکر آپ پشتو میں تو ہیروئن پرپینٹ کو پینٹ کردیا جاتا ہے اکثر فلمساز فلم بنانے کے لئے چھوٹی بچی کے کیڑے لیتے ہیں اس میں سب سے بڑی ہیروئن ڈال کر سکرین پر انڈیل دیتے ہیں جیسے اردو شاعری میں جو تراکیب استعمال ہوتی ہے ایسے ہی اس اداکارہ کا رقص دیکھ کر لگتا ہے وہ اپنے قریب ہونے کی کوشش کررہی ہے رقص اعضاءکی شاعری ہے مگر پشتو فلمی رقص دیکھنے والے کے اعضاءشاعر ہوتا ہے مشہور عالم امریکی ڈانسر اگنس ڈی ملی نے کہا ہے کہ اچھی تعلیم رقص کے لیے نقص ہے کیونکہ رقص کے لئے سر سے زیادہ پنڈلیوں کی ضرورت ہوتی ہے بقول یوسفی ایران میں نسوانی حسن کا معیاءچالیس صفات ہیں مشہور ہے کہ فرباد کی فریاد شیریں میں انتالیس صفات موجود تھیں چالیسویں صفت کے بارے میں سورخ خاموش ہیں لہٰذا گمان ہے اس کا تعلق چال چلن سے ہوگا ایسے ہی پشتو فلمی رقص کی دس صفات ہیں جس میں پہلی نو کا تعلق یوسفی صاحب کی بیان کردہ انتالیس کا چالیسواں ہے جبکہ دس نمبری رقاصہ کے لیے سب سے آخری شرط موٹا ہونا ہے کہ پشتو فلمی ہیروئین کسی گنتی میں آئیں نہ آئیں تول میں پوری ہوتی ہے وہاں تو محاورہ ہے پہلے تو لو پھر بولو۔

(جاری ہے)


ہمیں یہ تو پتہ نہیں سب سے پہلے نسوار کس نے دریافت کی یہ پتہ ہے کہ آج کل پشاور میں ہر تیسرا شخص اسی کے بارے میں دریافت کررہا ہوتا ہے وہاں تو لوگوں کے ہاں تھوکنے کے لئے اگال دان نہیں نسوار ہوتی ہے کہتے ہیں نسوار لینے سے ڈبی پر ہمیشہ شیشہ لگا ہوتا ہے تاکہ بندہ دیکھ سکے کہ اس نے نسوار ہی منہ میں ڈالی ہے جیسے پولیس گن مین سے انسٹرکٹر نے پوچھا،
”گن لوڈ کرتے وقت سب سے پہلے کیا دیکھنا چاہیے؟“
تو اس نے کہا۔


”گن کا نمبر تاکہ پتہ چل سکے کہ اپنی ہی گن لوڈ کررہے ہیں۔“
سنا ہے نسوار کھانے سے مچھر نہیں لڑتے واقعی نسوار کھانے کے بعد مچھر آپس میں نہیں لڑتے سگریٹ پینے سے منہ او ر ناک سے دھواں نکلتا ہے جبکہ نسوار سے کانوںسے دھواں نکلتا ہے یہ بھی تحقیق ہے کہ نسوار کھانے سے بندے کا سر مضبوط ہوجاتا ہے ہم نے پوچھا اس کا فائدہ؟جواب ملا پھر نسوار کھاﺅ تو چکر نہیں آتے ویسے ہم خود چکر میں پڑگئے کیونکہ ثرید اور نسوار کے ذکر ہی سے مچھانوں کے منہ میں پانی بھر آتا ہے انہیں رنگ تک نسواری پسند ہے ویسے پٹھان ہمیشہ دشمن کو منہ میں رکھنے والی قوم ہیںشاید اس لئے نسوار کو منہ میں رکھتے ہیں تاکہ اسے موقع ملے اورو ہ ان کا دماغ چرالے لیکن غریب پٹھان ہمیشہ سے منشی اور منشیات سے تنگ ہے ہمارے کئی جاننے والے نسوار چھوڑنے پر راضی ہیں اور کہہ رہے ہیں ہمیں اس اداکارہ کا رقص دکھایا جائے تاکہ ہم نسوار کو بھول سکیں لیکن ہمیں خدشہ ہے کہ اگر آج انہیں دکھا بھی دیا تو وہ کل پھر آسکیں گے کہ کچھ انتظام کرو ہم آج بھر نسوار چھوڑنا چاہتے ہیں ممکن ہے وہ اس عادت بد سے نجات کے لیے مستقل موقع فراہم کرنے کو کہیں سنا ہے اداکارہ کا حسب سابق خاوند ہر گھنٹے بعد نسوار کی چٹکی لیتا ہے یوں ہنی مون چٹکیوں میں کٹ گیا تاہم بعد میں اس نے کبھی نسوار کو منہ نہ لگایا ناک میں رکھنے لگا کسی نے کہا ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ کو جب موقع ملے نسوار لے لیتے ہیں تو وہ بولا موقع ملے تو نسوار نہیں لیتا ہاں موقع نہ ملے تو لے لیتا ہوں مگر یہ بھی سنا ہے بعد میں اس نے بالکل نسوار چھوڑ دی تھی مگر اسے ہیروئین لگ گئی تھی اور کئی وکیلوں نے بمشکل اسے اس ہیروئین سے چھڑوایا تھا،

Your Thoughts and Comments