Pakistani Bal Thackeray

پاکستانی بال ٹھاکرے

عطاالحق قاسمی جمعرات مارچ

Pakistani Bal Thackeray

بھارت اس وقت جن مسائل کی زد میں ہے اس کی وجوہات کسی کم فہم محب وطن بھارتی معلوم نہیں ہوسکتی ان وجوہات کا صحیح ادراک ہم پاکستانیوں کو ہوسکتا ہے جو ایک فاصلے سے اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ بھارت میں رونما ہونے والے واقعات کو دیکھتے ہیں اور پھر ان سے نتائج اخد کرتے ہیں مثلاً کسی بھی ملک کی قومی سلامتی قوم کے تمام طبقوں میں اتحاد اور یکجہتی ہی سے ممکن ہے اس اتحاد اور یکجہتی میں جتنی دراڑیں آتی جائیں گی ملک کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جائے گا اور پھر اسے تباہ کرنے کے لئے کسی بیرونی حملہ آور کی ضرورت نہیں رہے گی اندراگاندھی نے جب گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا تو بھارت کے محب وطن ہندو عوام نے مبارک سلامت کے شور سے سارے ملک کو سرپر اٹھالیا اور اندراگاندھی کا شمار اپنی مقدس دیویوں میں کرنے لگے اندراگاندھی اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے اکثریتی عوام یعنی ہندوﺅں کی واہ واہ ہی چاہتی تھی وہ انہیں مل گئی لیکن بھارت کے ہندو اور سکھ جو صدیوں سے سگے بھائیوں کی طرح ایک ساتھ رہتے تھے کم از کم صدیوں تک کے لئے ایک دوسرے سے دور ہوگئے جس کے نتیجے میں بھارت اس وقت اندرونی طور پر بالکل کھوکھلا ہوچکا ہے اندراگاندھی کو اپنے عورت ہونے کا کمپلیکس تھا مشرقی پاکستان اور گولڈن ٹیمپل پر حملہ اپنی مرادنگی کا ثبوت دینے کے لیے تھا لیکن یہ دونوں حملے بھارت کو کمزور بنانے کے باعث بنے بھارت کے ہندو آج بھی اندراگاندھی کو حب الوطنی کی علامت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ خاتون عملی طور پر بھارت کی سب سے بڑی دشمن ثابت ہوئی ۔

(جاری ہے)

ان دنوں بھارت کے محب وطن ہندوﺅں کی سب سے مقبول شخصیت بال ٹھاکرے ہے جو بھارت میں ہندو ازمک کا احیاءچاہتا ہے بال ٹھاکرے ایک مذہبی جنونی جو مسلمانوں اور سکھوں کو صرف ایک صورت میں زندہ رہنے کی اجازت دیتا ہے اگر یہ دونوں اقلیتیں ہندو کی غلام بن کر رہنا قبول کرلیں بصورت دیگر یہ ان کا نام و نشان تک مٹادینا چاہتا ہے بھارتی ہندو ان دنوں اس جنوبی شخص کے دیوانے ہورہے ہیں اور خود ہندوﺅں میں سے اس کے خلاف جو آوازین اٹھتی ہیں ان کی حیثیت آٹے میں نمک یا نقارخانے میں طوطی کی آواز سے زیادہ نہیں محب وطن اور سچے ہندو یعنی بال ٹھاکرے کی وجہ سے بھارت کے غیر ہندو یا رواداری کے قائل لوگ سخت گٹھن کا شکار ہورہے ہیں لیکن عوام عجیب چیزیں ہیں جو پورے خلوص کے ساتھ بال ٹھاکرے قسم کی چیزوں کو اپنے مسائل کا حل سمجھتے ہیں،
بھارت میں گزشتہ 45 برس سے صرف دو ایسی شخصیتیں ابھر کر سامنے آئیں جنہیں میں صحیح معنوں میں بھارت کا دوست تصور کرتا ہوں ایک مرار جی ڈیسائی جنہوضں نے پاکستان کے خلاف جنوبی سرگرمیاں ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ جنگی تیاریوں کے نام پر بھارتی عوام کوبھوکا مارنے کا سلسلہ ختم کیا جاسکے اور دوسرے دی پی سنگھ جنہوں نے نچلی ذات کے ہندوﺅں اور بھارت کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں میں احساس تحفظ پیدا کرنے کی کوشش کی اور یوں قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کیا لیکن بھارت کا اکثر طبقہ یعنی محب وطن ہندو ان دونوں لیڈروں کو ناپسند کرتے تھے وہ قوم بہت بدقسمت ہے جو کھوکھلے اور جذباتی نعروں کو حب الوطنی کے مترادف سمجھ بیٹھتی ہے۔

ابھی تک جو میں نے کہا کچھ کہا ہے وہ دراصل تمہید ہے اس بات کی جو مجھے ابھی کہنا ہے او ر کہنا مجھے یہ ہے کہ جس طرح بھارت میں قومی سلامتی کے خلاف اٹھنے والے طوفان کا اندازہ ہم پاکستانی غیر جذباتی ہونے کی وجہ سے زیادہ بہتر انداز سے لگاسکتے ہیں اسی طرح پاکستان اس وقت جس بھنور میں پھنسا ہوا ہے اس کی وجوہ بھی ہم اگر غیر جذباتی انداز سے ہی تلاش کرنے کی کوشش کریں گے توتبھی دریافت کرسکتے ہیں اور اگر ہم اس جذباتی فضا کا حصہ بن جائیں گے جو لسانی اور مذہبی علیحدگی پسندوں نے ملک میں قائم کر رکھی ہے تو پھر ہمیں حب الوطنی کا کوئی دعویٰ بھی نہیں کرنا چاہیے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کھوکھلی حب الوطنی کے حامل ذوالفقار بھٹو کے ہاتھوں عمل میں آئی جو آج بھی ہمارے لاکھوں جذباتی عوام کے لیڈر ہیں حالانکہ اس شخص کو نہ ملک عزیز تھا نہ عوام اسے صرف اپنے اقتدار سے دلچسپی تھی چنانچہ اقتدار کے لیے وہ 1972 میں کامریڈ ذوالفقارعلی بھٹو بن گیا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے عوامل ایوب خان کے مارشل لاءمیں سامنے آئے اورلسانی تحریکوں کی پرورش مرحوم ضیاءالحق کے زمانے میں ہوئی اوریہ دونوں عوام کے محبوب لیڈر ہیں اسی طرح سندھ میں ان دنوں جو لسانی گروہ سرگرم ہیں وہ اپنے عوام کے بدترین دشمن ہیں کہ کراچی کی ساری معیثیت تباہ ہوکر رہ گئی ہے اور یوں وہ رہے سہے روزگار سے بھی محروم ہوتے جارہے ہیں مگر عوام انہیں اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہیںمذہبی شعبے کابھی یہی حال ہے چنانچہ ہمارے ہاں بیسوں بال ٹھاکرے موجود ہے جو خود مسلمانوں ہی میں نفاق پیدا کرنے کی کوششوں میں مشغول ہیں مگر یہ بال ٹھاکرے آنکھ کے بال ہمیں نظر نہیں آتے بھارت جانتا ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو پارہ پارہ کرنے والی چیزیں کو ن سی ہیں چنانچہ مختلف ایجنسیوں کی رپورٹیں اس بات کی شاہد ہیں کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں بھارتی ایجنٹ داخل کردئیے گئے ہیں جو ملک میں سیاسی اور مذہبی تنگ نظری کی فضا پیدا کرنے کے لئے سرگرم عمل رہتے ہیں کسی بھی قوم کے لے سب سے بڑا زہر تنگ نظری ہے خواہ یہ سیاسی نوعیت کا ہو یا مذہبی نوعیت کا کسی بھی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے اس سے زیادہ سریع الاثر زہرا بھی تک ایجاد نہیں ہوا وہ قوم کتنی بدقسمت ہے جو یہ زہراپنی خوشی سے کھانا شروع کرے اور نہ کھانے والوں کو بدقسمت سمجھے

Your Thoughts and Comments