Paris Oye Paris

پیرس اوئے پیرس

منگل اگست

Paris Oye Paris
احمد سعید
بڑے بھائی کے گھر سے ٹرین سیدھی ” ایفل ٹاور “ جاتی ہے جسے یہ ”توغ ایفل“ کہتے ہیں ،اور معذرت ٹرین با لکل سیدھی نہیں تھوڑا بہت بل بھی کھاتی ہے ۔ ایک اور بات کہ بھائی کے گھر سے نہیں تھوڑا اُن کے گھر سے باہر نکل کر ۔
بھا ئی کا پیرس میں ہونا ساس کے ہونے سے کم نہ تھا ،اور میری حیثیت ان کے سامنے پرانی بہوؤں کی سی تھی ، جس پر ہر پل انہوں نے نظر رکھی ہوئی تھی ۔

ہر دو گھنٹے بعد فون آجاتا کہ کہاں ہیں کب آنا ہے ؟
میں نے کہا جی کہ ”توغ ایفل “ آ کر کوئی غلطی ہو گئی۔ یہ کیا ڈانٹنے لگ جاتا ہے اگر زیادہ دیر یہاں گزاریں تو؟ لیکن ایفل ٹاور کا جیسے سنا تھا ویسا ہی نکلا۔ واقعی دنیا کا ا یک عجوبہ ہے ۔بہت ہی لمبا ہے ۔سنا ہے کہ لمبوں کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

جتنا یہ لمبا ہے اس کے پاس تو عقل نام کی کوئی شئے نہ ہو گی ۔


اس کے اوپر جا نے کی خواہش اس لئے نہ کی کہ ٹکٹ لینے کے لئے سینکڑوں لوگوں کی لائن لگی ہوئی تھی ۔اپنا تو حوصلہ نہ پڑا ۔ہم نے جہاز سے اترتے ہوئے سارا پیرس دیکھ لیا تھا ۔ایفل ٹاور کے اوپر سے بھی ویسا ہی نظرآ نا تھا ۔ وہاں ایک عجیب بات دیکھی ،ایفل ٹاور کے سامنے ” لِموزین “ گاڑیاں آتی تھیں ۔اُس میں کوئی دس کے قریب لڑکیاں اترتیں اور ایک آدھا لڑکا ۔

عجیب لموزین کا آنا نہیں تھا ۔یہ جو ایک آدھ لڑ کے کے سا تھ دس دس حسیناؤ ں کا جھنڈتھا۔اس کا کچھ سمجھ آیا کچھ نہیں۔
فرانس ایک جدید قوم ہے ،لیکن آم ابھی بھی پاکستان سے ہی آتے ہین ۔فرانس کے دوسرے شہروں سے بھی فرنچ لوگ” پیرس “میںآ م خریدنے آتے ہیں انہیں اکژ دکاندار کہہ بھی دیتے ہیں کہ ”ایتھے امب لین آیاں“ وہ آگے سے مسکرا کے جی جی کہہ دیتے ہوں گے ۔

جی جی کو یہاں سی سی کہتے ہیں ۔اس قسم کا ملتا جلتا لفظ پاکستان میں بھی بہت کارآمد ہے یعنی ”ٹی سی“ ۔بس ٹی سی کرتے جائیں کام نہ کریں،پر یہاں ٹی سی نہیں چلتی ۔البتہ ٹیکسیاں بہت چلتی ہیں ۔ بہت پیاری پیاری ٹیکسیاں چلتی ہیں،یعنی مرسڈیز وغیرہ بطور ٹیکسیاں ہی چلتی ہیں۔فرانس میں غلط فرنچ بولنا صحیح انگلش بولنے سے بہت بہتر ہے ۔انگلش بولیں گے تو پھر یہ آپ سے نہیں بولیں گے۔

”کُٹی ہوسکتی ہے،بلکہ ہو کیاسکتی ہے، ہو جائے گی۔لیکن اب کہیں نہ کہیں ایڈریس پوچھنے کے لئے چل جاتی ہے ۔اکژ فرنچ ایسے بھی ملیں گے جنہیں انگلش بھی آتی ہو گی آپ کی بات بھی سمھج لیں گے پر جواب فرنچ میں ہی دیں گے یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ کو فرنچ نہیں آتی۔کیونکہ فرنچیوں کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو فرنچ نہیں آتی تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔

پیرس شہر دیکھ کر محسوس ہوا کہ پیرس پیرس ہے ،پر پیرس جتنا بھی خوبصورت ہو لاہور لاہور اے۔
فرنچ لمبے اور بہت سمارٹ ہوتے ہیں۔اتنے سمارٹ کہ پاکستان میں ہوں تو ہر شخص گزرتا ہوا کہے کہ جناب کچھ کھا بھی لیا کریں ،لیکن بہت فریش اور ایکٹو ہوتے ہیں۔بات سیدھی کرتے ہیں اکژبدتمیزی کرتے ہیں۔اپنے آپ کو کچھ سمھجتے ہیں لیکن سب ایسے نہیں ہیں۔


ٹرین سسٹم میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔دنیا کی سب سے تیز ترین ٹرین انہی کی ایجاد ہے ۔بغیر ڈرائیور کے ٹرین بھی انہی کی ایجاد ہے ۔ دنیا کی سب سے فضول ترین ایجادیں بھی یہیں دستاب ہیں،جیسے کہ فرنچ کٹ اور ” فر نچ کِس“ وغیرہ۔ٹائم کے بہت پابند ہیں ۔یورپ کے دوسرے ممالک سے بھی زیادہ ۔میں اور میری بیگم صاحبہ جب بارسلونا سے پیرس فرنچ ٹرین”تے جے وے“پہ آئے تو پیرس پہنچنے سے کچھ لمحات پہلے بار بار کوئی انونسمنٹ ہو۔

مجھے شک گزرہ کہ ٹرین میں کوئی بڑی شخصیت نہ گھس گئی ہو ۔ ذہن میں کبھی” انجلینا جولی “ اور کبھی ”نکول کڈمین“۔یہاں تک کہ وینا ملک کی طرف بھی ذہن چلا گیا ۔پھر خیال آیا کہ” تے جے جے وے “تین سو پچاس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑرہی ہے ۔یہ کیسے آسکتی ہے ۔دل پھر بھی کہے کہ آگئیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ” سپائیڈر مین “ کے توسط سے آئی ہوں۔

اس معرکے کے بانی وہی ہوں گے۔
کس احمق کی خواہش تھی کہ” سپائیڈر مین “ کو دیکھے ، میں توNicole کی آنکھوں اور ”انجلینا“کی اداوں کے تعاقب میں تھا ۔فوری طور پر ایک لڑکی سے دریافت کیا کہ بار بار یہ کیا اعلان ہو رہا ہے؟فرمانے لگیں کہ ٹرین تین منٹ دیر سے فرانس پہہنچ رہی ہے ۔میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔ ٹرین رُکی تو انونسمنٹ ابھی بھی جاری تھی ۔

دل نے کہا کہ کوئی نہ کوئی تو آگئی ہے اور نہیں تو” مِیرا “ ہی آئی ہو گی ۔ ان میں سے تو کوئی نہ اایا ،البتہ بھائی ہمیں لینے آئے ہوئے تھے۔ انہیں وہاں رہتے ہوئے دس سال ہو گئے تھے ۔کہنے لگے ، ٹرین تین منٹ لیٹ پہنچی ۔غصہ مجھے پہلے ہی بہت تھا کسی ایکٹرس کے نہ اآنے پر ،بھائی کی بات سنتے ہی میں بولا کہ فرنچ ٹی وی چینلز پہ آپ نے سُنا ہو گا ۔

اب تھوڑی دیر تک CNNاور BBCپر بھی یہ خبر چلنی ہو گی ۔بھائی میرا منہ دیکھیں،میں پیرس دیکھوں۔جی دیکھنے جو پیرس آئے ہوئے تھے ، ایک دوسرے کا منہ تھوڑی ․․․․․․
فرانس جانے سے پہلے میں فیصل آبا د ، ایگرکلچر یونیورسٹی سے فرنچ کورس کر کے نکلا تھا اور یہاں آ کے کئی ”فرنچیوں “کے دانت کھٹے کر چکا تھا ۔ایک جگہ دو ” فرنچ “ لڑکیوں کے ساتھ ایسی فرنچ بولی کہ ان کے دانت ہی اندر نہ جا ئیں۔

وہ ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ، حالانکہ میں نے فرنچ میں کوئی لطیفہ نہیں سنایا تھا ۔اب تین چار ماہ کے فرنچ کورس سے اتنی ہی فرنچ آنی تھی ، جیسے کسی” ٹھیٹ “پنجابی بولنے والے نے نئی نئی اُردو بولنی شروع کی ہو ۔ وہ ہنستی جا ئیں اور معذرت کرتی جا ئیں ۔ معذرت کی کیا ضرورت ؟ میں تو چاہتا تھا کہ ہنستی جا ئیں ۔آپ نے وہ محاورہ تو سنا ہی ہو گا کہ ” ہسی تے پھسی “
لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ آپس میں پہلے ہی پھنسی ہوں ۔

یہ یورپ تھا ،اوپر سے فرانس کا شہر پیرس ،یورپ کا بھی باپ۔یہاں سب کچھ ہوسکتا ہے، جہاں بے غیرتی عام ہو وہاں سب کچھ ہی ہو سکتا ہے ۔ ہنسی ابھی بھی متواتر جاری تھی کیونکہ میری فرنچ ان پہ طاری تھی ۔میں اپنی جارحانہ فرنچ مسلسل جاری رکھے ہوئے تھا ،جس سے ایک لڑکی سے تو سانس لینا مشکل ہو رہا تھا ۔اُس نے ایک ہاتھ سے پیٹ کو تھاما ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے مجھے مسلسل اشارے کر رہی تھی کہ بس کر دو ۔


میں بھی فیصل آباد سے آیا ہوا تھا ۔موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے فرنچ اور تیز کر دی ۔ اب میری فرنچ ،فرنچ ٹرین ”تے جے وے “کے مقابل جا رہی تھی یعنی تین سو پچاس کلو میٹر فی گھنٹہ ۔اس سے آدھی سپیڈ پر بھی شعیب اختر نے کبھی گیند نہ پھینکی ہو گی جتنی تیز میں فرنچ پھینک رہا تھا۔ویسے وہ بھی بہت دل پھینک لگ رہی تھیں اور میں اُس لمحے تھِنک ٹینک۔

Your Thoughts and Comments