Rozay Hisaab Jab Mera

”روزے“حساب جب میرا۔۔۔۔!

منگل جولائی

Rozay Hisaab Jab Mera

گزشتہ روز ہماری ملاقات اپنے ایک”فاسق وفاجر“ دوست سے ہوئی، ’نان بیلیور“ہونے کی وجہ سے ہم نے ان کے متعلق کبھی اس حسنِ ظن سے کام نہیں لیا کہ وہ روزہ بھی رکھتے ہوں گے،مگراس روز ہم نے انہیں دیکھا کہ رنگ فق ہے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں، زبان سوکھ کر کانٹا ہو رہی ہے چنانچہ بار بار تھوک نگلنے کی کوشش کرتے ہیں اور نڈھال اس قدر ہیں کہ بات نہیں ہو رہی۔

چنانچہ ہم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو کہا کہ برادرتمہاری حالت تو غیر ہو رہی ہے، اگر تم میں روزے کی سکت نہ تھی اور اس میں تمہاری جان کو خطرہ تھا تو اللہ تعالیٰ بڑا غفورالرحیم ہے تو نے اپنی جان کو خطرے میں ضرور ڈالنا تھا۔ یہ سن کر مری ہوئی آواز میں بولے تم سے کس نے کہا کہ میرا روزہ ہے۔ ہم نے چونک کر کہا اگر روزہ نہیں تو پھر مرے کیوں جا رہے ہو؟بولے”صبح گھر سے نکلا تھا، اب شام ہونے کو آئی ہے مگر پانی کی ایک بوند حلق سے نہیں اتری، کافی ہاؤس سمیت شہر کے سارے ہوٹل بند ہیں، دفتروں میں بہت سختی ہے، چنانچہ نہ کھانے کو کچھ ملا ہے اور نہ پینے کو ، حتیٰ کہ صبح سے سگریٹ تک نہیں پی سکا۔

(جاری ہے)

پچھلے سال مجھے رمضان کے مہینے میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی کیونکہ میرا ایک دوست روزہ خوروں کو پکڑنے پر مامور تھا، روزہ خوروں سے جو مال برآمد ہوتا وہ ہم دونوں دوست عملے کے دوسرے افراد کے ساتھ مل کر کھا لیتے، اب میں گذشتہ دنوں سے اس دوست کی طرف جا رہا ہوں مگر اس کے اہلکاروں سے پتہ چلتا ہے کہ صاحب چھاپہ مارنے گئے ہوئے ہیں، بس دعا کرو خیروبرکت کا یہ مہینہ خیرو عافیت سے گزر جائے“۔


مگر یہ گزشتہ روز کی بات ہے ، یہی دوست آج دوپہر کو ملے تو بہت تروتازہ تھے اور خاصے خوش و خرم نظر آرہے تھے، ہم نے پوچھا کیا آج روزہ خوروں کو پکڑنے پر ماموردوست سے ملاقات ہو گئی؟ بولے ”ان سے ملنے کی اب ضرورت نہیں رہی“ ہم نے پوچھا”وہ کیسے؟“بولے”ریلوے اسٹیشن چلا گیا تھا، وہاں پینتیس پیسے میں شاہدرہ کے لیئے ٹکٹ خریدا ، شاہدرہ کس کم بخت نے جانا تھا، میں نے پلیٹ فارم پر بطور مسافر ڈٹ کر کھانا کھایا، خربوزے کھائے، چائے پی، سگریٹ پیا اور اب سیدھا تمہارے پاس آرہا ہوں “ ہم نے پوچھا ”اب کیا پروگرام ہے؟“بولے”پیٹ تو بھر گیا ہے ، نیت نہیں بھری، اب قیمے والے نان کھانے کو جی چاہ رہا ہے“ ہم نے کہا ”تو پھر یہ یال دل سے نکال دو، رمضان المبارک میں اتنی عیاشی بہر حال نہیں ہو سکتی“ ہنس کر بولے کیسی بھولوں والی باتیں کر رہے ہو، تمہارے دفتر سے چند قدم کے فاصلے پر گرما گرم قیمے والے نان لگ رہے ہیں، یقین نہیں آتا تو چل کو دیکھ لو“ہم نے کہا”ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے ، جسے ضرورت ہے وہ جائے“ کہنے لگے یار چلا تو جاؤں مگر ذرا رسکی سا معاملہ ہے۔

ہم نے پوچھا”وہ کیسے؟“بولے ”نان والی دکان سے سو گز کے فاصلے پر دکان کے مالک کے کارندے اچانک چھاپے کی اطلاع دینے کے لیے کھڑے ہیں چنانچہ وہاں جائیں تو ایسے لگتا ہے کہ یہاں قیمے والے نان نہیں ، ہیروئن فروخت ہو رہی ہے، خیر اس وقت تو ویسے بھی پیٹ بھرا ہو اہے، کل دیکھی جائے گی!“
اب اگر ان بدنصیبوں کا ذکر چھڑ ہی گیا ہے جو روزے نہیں رکھتے مگر روزہ داروں سے زیادہ خود کو تکلیف محسوس کرتے ہیں،تو اس ضمن میں ایک روزہ دار بی بی کی بھی سنیے، اس نیک خاتون کا کہنا ہے کہ روزہ داروں کی سہولت کے لیئے ضرور ی ہے کہ روزہ خوروں کے ہوٹل کھلے رکھے جائیں۔

ہم نے حیران ہو کر اس بی بی کو دیکھا اور کہا اے نیک خاتون یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ بولیں ٹھیک کہہ رہی ہوں ، یہ جو مردروزے نہیں رکھتے ، دوپہر کو گھر آکر اپنی روزہ دار بیویوں کے لئے مصیبت بن جاتے ہیں، اور انہیں روزے کی حالت میں کھانا پکانے پر مجبور کرتے ہیں لہٰذاروزہ داروں کی سہولت کے لئے ضروری ہے کہ ان مردوں کے لئے ہوٹل کھلے رکھے جائیں تا کہ یہ ہماری جان کو نہ آئیں!
خیر ! یہ تو ان روزہ دار بیویوں کا ذکر ہے جن کے شوہریا جن کی اولاد روزہ رکھنے کی سعادت سے محروم ہے اور یوں روزہ نہ رکھنے اور روزہ داروں کو تنگ کرنے کے دوہرے عذاب سمیٹتی ہے۔

مگر جن بیویوں کے شوہر روزہ رکھتے ہیں، وہ ان دنوں اتنی خوش ہیں کہ انہیں روزے کی صعوبتیں بھی محسوس نہیں ہوتیں، یہ بیبیاں خوش ہیں تو اس بات پر کہ ان کے شوہر نامدار آج کل سہ پہرہی کو واپس گھر لوٹ آتے ہیں اور پھر ساری رات گھر پر ہی گزار تے ہیں انہیں حیرت اس امر پر ہے کہ اس مہینے کے دوران وہ سہ پہر کی میٹینگ کا بہانہ کرتے ہیں، نہ شام کی کسی دفتری مصروفیت کا حوالہ دیتے ہیں اور نہ رات کی کسی پارٹی میں ان کی شرکت ضروری ہوتی ہے۔

تاہم شوہر کے سارا دن گھر رہنے کی خوشی ضرور ی نہیں کہ ہر بی بی کو ہو ، ممکن ہے کہ شوہر اچھے بھی ہوں جو جتنی دیر بارہ رہتے ہوں، اتنی دیر گھر والی خود کو سکھی محسوس کرتی ہو، ایک ایسے شوہر کو تو ذاتی طور پر ہم بھی جانتے ہیں، موصوف روزہ رکھ کر گھر میں کیا داخل ہوتے ہیں، زلزلہ گھر کے درودیوار میں داخل ہوتا ہے۔ آدم بو، آدم بو کرتے پھرتے ہیں برتن توڑتے ہین، نل کے نیچے لیٹ کر لمبے لمبے سانس لیتے رہتے ہیں، ہر آنے جانے والے کو اپنی خشک زبان نکال کر دکھاتے ہیں اور اسے زبان نکال کر دکھانے کو کہتے ہیں، بچہ قریب آئے تو اسے مارنے کو دوڑتے ہیں، بڑوں کو آنکھیں دکھاتے ہیں. اور بیوی کو فرط غیظ و غضب میں کاغذ لکھنے کی دھمکی دیتے ہیں۔

سو ہمیں تو خدشہ ہے کہ قیامت والے دن جہاں کچھ روزہ نہ رکھنے کے گناہ میں پکڑے جائیں گے ، وہاں یہ صاحب ”روزے“حساب روزے رکھنے کی وجہ سے دھر لیے جائیں گے۔

Your Thoughts and Comments