Sara Sar Gazisht

سراسر گذشت

بدھ ستمبر

Sara Sar Gazisht

میرا جی نے کہا ہے کتابیں تین طرح کی ہوتی ہیں۔کتابوں کی ایک قسم وہ ہے جنہیں ہم لکھتے ہیں اور دوسرے پڑھتے ہیں ۔ یہ ہماری بیٹیاں ہوتی ہیں۔ دوسری قسم کو ہم گھروں پر اونچی جگہوں پر طاق میں ، جزدانوں میں لپیٹ کر اور سجا کر الگ رکھ دیتے ہیں، یہ ہماری بزرگ ہوتی ہیں۔ کتابوں کی تیسری قسم وہ ہوتی ہے جسے دوسرے لکھتے ہیں اور ہم پڑھتے ہیں، یہ ہماری بیویاں ہوتی ہیں۔

پروین عاطف کی کتاب ہمیں بیوی نہیں لگی کیوں کہ یہ تو بڑی دلچسپ ہے۔ اگر بیوی ہے بھی تو کسی اور کی جسے موقع ملنے پر پڑھ لیا جائے تو اس پر تبصرہ ہر گز نہیں کرنا چاہیے۔ کسی سیانے کا قول ہے، تبصرہ لکھنے سے پلے یہ ضرور دیکھ لیں کہ مصنف کے ہاتھ آپ کے تبصرے سے لمبے تو نہیں۔ ہم تو اس لئے بھی کتابوں پر تبصرہ نہیں لکھتے کہ اس کے لئے پہلے کتاب پڑھنا پڑتی ہے اور ہم کسی کتاب کو پڑھ لیں تو اس پر اچھا تبصرہ نہیں لکھ سکتے۔

(جاری ہے)

تبصرہ لکھنے میں ہمیں یہ دشواری ہے کہ ساقی فاروقی کی طرح ہماے پاس کتا نہیں ہے۔ وزیر آغا صاحب جب لندن گئے تو ساقی کے خونخوار کتے کو دیکھ کر ڈر گئے، تو ساقی بولے: ”آپ یونہی گھبرا رہے ہیں۔ یہ صرف برے شاعروں پر بھونکتا ہے۔ احمد فراز آئے تو یہ چپ نہ ہوا تھا۔ “ ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں میں نے دل میں کہا: اگر یہ کتا واقعی سخن شناس ہوتا تو وہ دن رات ساقی کے گھر میں رہتے ہوئے کیوں نہ بھونکتا۔

“ ہمارے ہاں یہ کام نقادہی کرتے ہیں۔ البتہ یہ ہے کہ اگر تبصرہ لکھتے وقت بہت غصہ آئے تو تبصرہ نگار کو چاہیئے ، کتا لے کر بار سیر کو نکل جائے؛۔ واپس آنے تک اس کا غصہ ختم ہو چکا ہوگا۔ نقاد بھی تخلیق کا ر ہوتا ہے۔رائٹر ادب تخلیق کرتا ہے تو نقاد اس کی خامیاں۔
ہم بھارت سے آلو، جاپان سے ہائیکو اور دوسرے ملکوں سے سفر نامے درآمد کرتے ہیں۔

سفر نامے سرگزت کا فارن ایڈیشن ہوتے ہیں بلکہ سراسر گزشت ہوتے ہیں۔ پروین عاطف کا ایک سفر نامہ ہے جس میں مصنفہ کے ساتھ ساتھ پڑھنے والا بھی ”سفر “ کرتا ہے۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ پڑھنے والے جو جلدہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ اک سفر نامہ ہے ورنہ ہم نے جون ایلیا کی پوری کتاب اس لئے پڑھی تا کہ جان سیں کہ یہ کس چیز کی ہے؟ آخر جا کے شاعری کی نکلی۔

تاخیر و تبخیر کے شاعر جون ایلیا کو ہم نے جس ماہ بھی دیکھا ،ہمیں وہ جون ہی لگا۔ ان کی زندگی کا پہلا شعر ہے
چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لے سرخی میرے رخسار کی
اپنے عر پر خود ہی اپنے آپ کو پیٹتے ہیں، جس سے انداز ہ لگا لیں، ان کا شعری ذوق کتنا بلند ہے۔ اجمل نیازی اپنے حلیے سے کئی مذہبوں کی نمائندگی کرتے ہیں جب کہ جون ایلیا اور پروین عاطف کئی جنسوں کی۔

ٹپر واسنی پڑھ کر لگتا ہے، دوران سفر دوتین مرتبہ تو پروین کو بھی خاتون سمجھا گیا، جب کہ امریکہ میں تو جون ایلیاصاحب کو ایک اہکار نے باتھ روم میں گھسنے سے روک دیا تھا کہ خواتین کا باتھ روم دوسری طرف ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں، جون ایلیا کو ان کے لمبے بالوں کی وجہ سے خاتون سمجھا گیا۔ کچھ کے نزدیک ذاہدہ حنا سے شادی کرنے کی وجہ سے۔ جان ایلیا ایسے شاعر گھرانے میں پیدا ہوئے کہ ان کے پیدا ہونے پر والد نے پوچھا : ”نو مولود وزن میں تو ہے؟“اب تو پہلی ہی نظر میں وزن سے گرے ہوئے لگتے ہیں۔

پروین عاطف کے گھر کی فضا ء ایسی ادبی تھی کہ بات یہ ہو رہی ہوتی کہ رات کو کیا پکے گا تو سننے والے کو لگتا ہے کہ کوئی ادبی مذاکرہ ہو رہا ہے۔ پروین نے ادب میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ ان خواتین میں سے ہیں جنہیں ایک بار دیکھو تو ایک بر ہی نظر آتی ہیں۔ دیکھنے میں وہ پروین عاطف کی ملازمہ لگتی ہیں۔ مردوں کے ساتھ مردوں کی طرح ملتی ہیں۔

کسی کو پریشان نہیں دیکھ سکتی، اس لیے بہت کم آئینہ دیکھتی ہیں۔ دوسروں کی خوشی ، غمی میں خود کو اس قدر انوالو کر لیتی ہیں کہ اداکسی کی ہوتی ہے ، شرمایہ رہی ہوتی ہیں۔عزت کسی کی لٹتی ہے، شرم سے کئی دن یہ گھر سے نہیں نکلتی ۔ جب لکھتی ہے تو دوسروں کو دکھا دکھا کر کہتی ہیں، کوشش کی ہے: ”دیکھنا بات بنی بھی ہے یا نہیں ۔“ پہلے بچے کی پیدائش پر بھی یہی کہا تھا۔

پروین عاطف کی وہ تخلیقات جو خواتین میں زیادہ مشہور ہوئیں، ان میں ٹپردانسی اور ظل عاطف قابل ذکر ہیں۔ لگتا ہے، پروین عاطف کی کتاب کی کاپی جوڑنے والا ان کا فین تھا۔ اس لیے اس نے اسے اپنی پسند کی ترتیب سے جوڑا یعنی جو صفحہ زیادہ دلچسپ لگا، اسے پہلے جوڑ دیا۔ کئی سو کتابیں بکنے کے باوجودکسی قاری نے شکایت نہیں کی۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ پروین عاطف کے قارئین اسے کتنا سمجھتے ہیں۔


گیلیلیواردوکا سفر نامہ نگار نہیں تھا، ورنہ لکھتا: ” دنیا میرے گرد گھومتی ہے۔ “پروین عاطف مانتی ہیں دنیا میری جائے سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا سفر نامہ پڑھنے کے بعد ہمیں بھی دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی ۔اس نے اپنے سفر نامے میں دو یا تین افسانے یوں چھاپائے ہیں کہ انہیں ڈھونڈتے بندہ پوری کتاب پڑھ جاتا ہے۔

Your Thoughts and Comments