Satth Ka Dulha Bees Ki Dulhan Is Baraat Se Dar Lagta Hai

ساٹھ کادولہا، بیس کی دُلہن ․․․ اس بارات سے ڈرلگتاہے

جمعرات جنوری

Satth Ka Dulha Bees Ki Dulhan Is Baraat Se Dar Lagta Hai
السلام علیکم“ ایک محلے دارنے میرے کان کے بالکل قریب آکرکہا۔ اور میں گھبراگیا․․․ میں بھاگنے ہی لگا تھاکہ اس نے مجھے بازو سے پکڑکراپنی طرف کھینچا۔ میں نے بن دیکھنے پوچھا کون․․․ میں نے پہنچان لیا پھر بھی خوف طاری رہا۔ خود کش حملہ آور“ کوخوف مزید گہراہوتاجارہاہے۔ بڑی سڑک سے گزرتے ہوئے ڈرلگتا ہے، بڑی بلڈنگ کے پاس جاتے ہوئے ڈرلگتا ہے بڑے آدمی سے ملتے ہوئے ڈرلگتا ہے کوئی زورسے السلام علیکم کہے۔

ڈرلگتا ہے۔ بندہ وعلیکم السلام کہنا بھول جاتاہے۔ کوئی غور سے دیکھے۔ ڈر لگتاہے۔ کوئی چپک سے گزرنا چاہے۔ ڈرلگتاہے۔ کوئی چھوکے گزرے ڈرلگتاہے۔ غریب آدمی سے ڈر لگتاہے (حالانکہ غریب آدمی کوبہت ڈرگتا ہے۔ بیمار ہونے ڈرتاہے بجلی کے بل ڈرتا ہے۔ روٹی خریدنے سے ڈرتاہے۔

(جاری ہے)

یہاں تک کہ غریب آدمی مرنے سے بھی ڈرتاہے کہ قبرستان میں جانا بھی کسی فائیوسٹار ہوٹل میں جانے کے برابرہے)
امریکہ سے بھی ڈرلگتا ہے۔

امریکیوں سے بھی ڈرلگتاہے (میریٹ میں خود کش حملہ کی وجہ سناہے امریکی مہمان ہی تھے جو میریٹ ہوٹل میں سازوسامان کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے) بارک اوباماسے ڈر لگتا ہے، جان مکین سے ڈرلگتاہے، اس چڑیل (کنڈالیزا رائس) یہودی کی بیٹی“ سے توبہت زیادہ ڈر لگتا ہے ویسے تو (پیارسے) سارہ پالین سے بھی ہمیں ڈرلگتاہے (ہمارے صدرجناب آصف علی زرداری کوشاید سارہ پالین سے ڈرلگتا ہو) جاسوسی طیاروں سے بھی ڈرلگتاہے۔

جوان سے فائر کیے گئے میزائلوں کا شکار ہورہے ہیں ان سے بھی ڈرلگتاہے (ہم نے ہمیشہ سناہے کہ مظلوم، مجبوراور بے کس کی آہ سے ڈرنا چاہئے ڈرون حملے کروانے والوں سے ڈرلگتاہے۔
اپنے بچوں سے ڈرلگتاہے (جب تنخواہ روٹی اور بجلی، پانی، گیس کے بلوں کی نظر ہوجائے توبچوں کی کتابیں، کاپیاں، بسکٹ ، کھلونے گولی ٹافی کہاں سے آئے) اپنے بڑوں سے ڈرلگتاہے (بارہ بارہ گھنٹے بجلی نہ ہوگی توبڑوں کابلڈپریشراس قدرہائی ہو جائے گاکہ انھیں اچھی بات بھی بری لگنے لگے گی) پشتو گلوکاروں سے ڈرلگتاہے (طالبان پشتو گلوکاروں کوبھی نشانہ بنارہے ہیں) شاعروں سے ڈرلگتا ہے (سلمان تاثیرگورنرصاحب کی وجہ سے) دفتر جانے (لیٹ) سے ڈرلگتاہے، سیاسی ورکروں سے ڈر لگتا ہے (سڑکون پردس سال بے چارے رسواہوتے رہے۔

پولیس کی گولیاں کھائیں۔ ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹتے رہے۔ شدیدگرمی میں جمہوریت کے لیے جلوس نکالتے اور جلسے کرتے رہے ڈنڈے برستے رہے اور ان بے چاروں کے بچے روٹی اور دودھ کی اک بوندکرترستے رہے۔ جمہوریت آجانے کی خواہش لیے)۔ میری تازہ نظم ملاحظہ ہو:
بھوکا بچہ اُداس پھرتاہے
ہائے ۔۔ وہ بے لباس پھرتاہے
جونہ پوری کبھی بھی ہوشاید
لے لے ایک ایسی آس پھرتاہے
خشک ہونٹوں سے کون بہتاہے
لے کرچہرے پہ یاس پھرتاہے
مانگتا بھی نہیں وہ ڈرتا ہے
وہ اکیلا اُداس پھرتا ہے
دودھ کی ایک بوندمل جائے
لے کے خالی گلاس پھرتاہے
جس نے محلوں میں آنکھ کھولی ہے
اس کے ہی آس پاس پھرتاہے
ہائے۔

۔ وہ بے لباس پھرتاہے
بھوکا بچہ اداس پھرتاہے
اب سناہے جمہوریت ہے۔۔ بجلی نہیں ہے۔۔ بجلی نہیں ہے توکاروبارنہیں ہے۔۔ کاروبارنہیں ہے تو روٹی نہیں ہے۔ بھوک موت کادوسرانام ہے؟ ہاں ڈالر موجودہے مگرآسمان سے باتیں کررہاہے۔ روزبہ روز اُوپر کی طرف بڑھ رہاہے اور پاکستانی روپیہ ڈالر سے ڈررہاہے۔ (امریکی حکومت، امریکی سیاست امریکی فوج اور ڈالر سے ہم سب ڈررہے ہیں)
جھگڑے سے ڈرلگتاہے۔

بکرے سے ڈرلگتاہے (بکراعیدکی آمدآمدہے) جرگے سے ڈرلگتاہے۔ خودکش حملی آوراب جرگے پربھی بم برسارہاہے) ماڑے سے ڈرلگتاہے۔۔ تگڑے سے ڈرلگتاہے۔ صابرلوگوں سے ہمیشہ ڈراہوں۔ بے صبرے سے ڈرلگتاہے۔ پھولوں سے ڈرلگتاہے۔ (جب محترمہ بے نظیربھٹوشہید کی قبرپرپھول ڈالے جارہے تھے دل خون کے آنسورورہاتھا) اپنے بنائے اصولوں سے ڈر لگتاہے۔۔ باغوں میں موجود کالی جھولوں سے ڈرلگتاہے (لوگ ڈرکے مارے تفریحی مقامات پربھی جانا چھوڑگئے) اصول ولے سہمے بیٹھے ہیں بے اصولوں سے ڈرلگتاہے۔

۔ دلہنیں پریشان ہیں۔ انھوں نے کہہ دیاہے۔۔ انھیں آجکل کے دلہوں سے ڈرلگتا ہے۔ بارش سے ڈرلگتا۔۔ طوفان سے ڈرلگتا ہے۔۔ روٹی روٹی ہونے لگی ہے۔ انسان کے بھیس میں حیوان سے ڈرلگتاہے۔ اپنے جسم اپنی جان سے ڈر لگتا ہے۔۔ جہاں موم بتی سوروپے میں ملے اس دوکان سے ڈرلگتاہے۔۔ دل پریشان اور چشم حیران سے ڈر لگتاہے۔۔ خالی جیب سے ڈرلگتاہے۔۔ خالی مکان سے ڈرلگتا ہے۔

۔ اسٹیج ڈرامے والے کہتے ہیں انھیں شیطان سے ڈرلگتاہے۔۔ میں غریب سیاسی کارکن ہوں، جیالاہوں متوالا، ان سب کادیکھا بھالا ہوں۔ سیاستدان سے ڈرلگتاہے۔۔ جوپڑا ہے پھولوں کے بیچ پارک میں، اس سامان سے ڈرلگتاہے کچھ ملانہ دیاہودشمن نے۔۔ میٹھے پان سے ڈرلگتاہے۔۔ سردرات بھی ڈراتی ہے، شمع دان سے ڈرلگتا ہے۔ ٹوٹ کے بکھرے جسم بھی ڈراتے ہیں، جسم بے جان سے ڈرلگتا ہے۔

۔۔ میریٹ ہوٹل کے گیٹ پرجو کھڑا تھا( وہ اللہ کے حکم سے خودکش حملہ میں زندہ بچ گیاتھا)اس دربان سے ڈرلگتاہے۔۔ بچے پر کتابوں کااس قدر بوجھ پڑچکاہے، اس کواماں جان سے ڈر لگتا ہے۔۔ سیٹھ عابد کے بیٹے کواس کے گن مین نے مارڈالا۔۔۔ گویا نگہبان سے ڈرلگتاہے۔ جھوٹی شان سے ڈرلگتاہے۔
کالی رات سے ڈر لگتاہے۔۔۔ شہرسوات سے ڈرلگتاہے۔۔ گویافرات سے ڈرلگتا ہے، اپنے ہاتھ سے ڈرلگتاہے۔

۔ اچھی عادات سے ڈرلگتاہے۔۔ جہاں نہیں ہیں انساں باقی ان محلات سے ڈرلگتا ہے۔۔ مفت میں جومل جاتی ہے اس سوغات سے ڈر لگتا ہے۔۔ دشمن سے بھی ڈرلگتاہے۔۔۔ اس کی گھات سے ڈرلگتاہے۔ عبادت گاہ نہیں محفوظ سومنات سے ڈرلگتا ہے۔۔ کچل کے جورکھ ڈالے ہیں۔۔ ان جذبات سے ڈرلگتاہے۔۔ مقدار کی تھاعلامت کل تک نمبرسات سے ڈر لگتا ہے۔۔ دنیا بھرمیں خوف ہی خوف، ان حالات سے ڈرلگتاہے۔

۔ شہرعلامت خوف کی ٹہرے اب دیہات سے ڈرلگتاہے۔ لیڈرکے جومنہ سے نکلے، ایسی بات سے ڈرلگتا ہے، بن سوچے جوآن پڑیں گے، اخراجات سے ڈرلگتاہے، رات مجھے اک جن نے بتایا۔۔ توہمات سے ڈرلگتاہے“ منموہن سنگھ سے ڈرتاہوں، دیناناتھ سے ڈرلگتا ہے جو مجبوری ہے عورت کی۔۔ ایسی دھات (سونا) سے ڈرلگتاہے، ساٹھ کادلھا بیس کی دلھن، اس بارات سے ڈرلگتاہے۔

اُس نے کہاکل روتے روتے․․․ تیرے ساتھ سے ڈرلگتاہے۔
ڈرتاجاؤں۔۔۔ سوچ رہاہوں۔۔۔ کچھ نہ کھاؤں سوچ رہاہوں (بجلی بندہے) بلب جلاؤں۔۔ سوچ رہا ہوں۔۔۔ (آج کاوعدہ تھا) بھائی سے) مکرہی جاؤں۔۔۔ سوچ رہاہوں (بیوی بہت بیمار ہے کل سے) گلہ دباؤں۔۔۔ سوچ رہاہوں۔۔ دستک ہوئی ہے دروازے پر(جس سے قرضہ لیاتھا وہ تقاضا کر رہاہے)۔۔۔ باہرجایوں۔۔ سوچ رہاہوں۔

۔ مرغی بچے مانگ رہے تھے۔۔ دال لے جاؤں۔۔سوچ رہاہوں۔۔ جائز کام کے پیسے مانگے۔۔۔ کام کراؤں۔۔۔ سوچ رہاہوں۔۔ ڈورگلاکاٹے گی لیکن۔۔ بسنت مناؤں۔۔ سوچ رہاہوں۔۔ جیب جالب کے چنداشعار۔۔۔ پھرسے گاؤں سوچ رہا ہوں۔۔ مجرم مارکے پچھتایاوہ ۔۔ جرم مٹاؤں سوچ رہاہوں۔۔۔ فقیرنی کھڑی ہے دروازے پر۔۔۔ خود کھاؤں یااسے کھلاؤں۔۔ سوچ رہاہوں۔۔۔ رات ہے سرپر۔

۔ گھپ اندھیرا۔۔۔ کیسے بچے چپ کراؤں۔۔ سوچ رہاں ہوں۔۔۔ کیسا تھاپتھرکازمانہ۔۔۔ دل کویہ کیسے بتلاؤں۔۔۔ سوچ رہاہوں۔۔۔ تین دن سے بھوکے ہیں۔۔۔ ان بچوں سے ملنے جاؤں۔۔ سوچ رہاہوں۔۔۔ جوآتاہے چپ رہتاہے بولے کیسے۔۔۔ میں بھی اس کو دیکھ کے۔۔۔ کہیں نہ گھبرا جاؤں۔۔۔ سوچ رہاہوں۔۔۔ طاعون کے ہاتھوں لاکھوں انساں مرے تھے ایک دن۔۔۔ ان کاپھرسے سوگ مناؤں۔

۔۔ سوچ رہاہوں ۔۔۔ وہ اچھے تھے جنھیں سمندرنے اگلاتھا۔۔۔ ان لاشون سے ملنے جاؤں۔۔ سوچ رہا ہوں۔۔۔ بھوک افلاس گولی اور بندوق کاخوف۔۔۔ خوف سے بہتر ہے مرجاؤں۔۔۔ سوچ رہاہوں۔۔۔ تجھ سے، اس سے، سب سے، خود سے ڈرتاہوں میں۔۔۔ دل کی بات میں کسے بتاؤں۔۔۔ سوچ رہاہوں۔۔۔ قبر کاکتبہ اپنے ہاتھ سے لکھ جاؤں اور اس پرایک شعرلکھاؤں۔۔۔ سوچ رہاہوں۔۔۔ میں اس دورکا انساں ہوں جس دور میں سب۔۔۔ جھوٹے ہیں۔۔۔ جابرہیں، بے حس ہیں، سب سے بڑھ کر۔۔۔” خوف زدہ ہیں“ کسے بتاؤں۔۔۔ سوچ رہاہوں۔۔۔ اسامہ کوکس جگہ اُتارا؟ پتہ چلاؤں۔ سوچ رہاہوں!! اپنی ہی سوچوں میں محسن گم ہوجاؤں۔ سوچ رہاہوں․․․ چپ چاپ میں اس دنیا سے بھاگ ہی جاؤں۔۔ سوچ رہاہوں۔

Your Thoughts and Comments