Schools Main Admission Nahi Milta Tou

اسکولوں میں داخلہ نہیں ملتا تو

بدھ جنوری

Schools Main Admission Nahi Milta Tou
ابنِ انشاء:
اسکولوں میں داخلوں کی مشکلوں کے متعلق اخباروں میں پچھلے دنوں بہت کچھ آتا رہا ہے ہمارے بعض کرم فرماؤں نے ہم سے اصرار کیا کہ تعلیم اتنا بڑا مسئلہ ہے اس پر آپ بھی کچھ لکھیے ہم نے بہت عذر کیا کہ ہم خود چنداں تعلیم یافتہ نہیں ہمیں معاف رکھا جائے لیکن اس کا جواب یہ ملا کہ اسی کے لیے تو آپ سے کہہ رہے ہیں کسی مسئلے پر بے لاگ اور موثق رائے دہی دے سکتا ہے جس کا اس سے تعلق نہ ہو بعضوں نے مثالیں بھی دیں کہ دیکھ فلاں سیٹھ نے جو کچھ لکھا پڑھا نہیں فلاں مشاعرے کی صدارت کس خوبی سے کی فلاں شخص جو ساری عمر عربی کا مدرس رہا ہے اس نے حکومت کی ایکسپورٹ امپورٹ پالیسی کی حمایت میں کتنا اچھا مراسلہ اخبار میں لکھا ہے یہ دلیلیں اپنی جگہ صحیح ہیں اور ہمیں اس مسئلے پر لکھنے کا واقعی حق پہنچتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کس پہلو سے لکھیں یہ مسئلہ لوگوں کا اپنا پیدا کردہ ہے حکومت یا کوئی اور تو انہیں مجبور نہیں کرتا کہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجو اور اپنے لیے اور معاشرے کے لیے مسائل پیدا کرو بچہ اسکول جائے گا تو اس کے لیے کپڑے وردی فیس چندے سن چیزوں کی ضرورت پڑے گی نہیں جائے گا تو نہیں پڑے گی ایک سیٹھ سے ہماری یا د اللہ ہے انہوں نے اپنے بچوں کو گنتی سکھا کر کاروبار میں لگادیا اوروہ کامیاب بزنس مین ثابت ہورہے ہیں ان سے ہم نے پوچھا تو انہوں نے کہا ہمیں تو اسکولوں میں داخلے کی مشکلات کے متعلق کوئی شکایت نہیں لوگ تو خوامخواہ شور مچارہے ہیں کیوں نہیں اپنے بچوں کو بزنس میں لگاتے ان کے لیے آئل ملیں اور کھالیں رنگنے کے کارخانے کھولتے۔

(جاری ہے)

ایک اور بزرگ ان کے ہم رائے تھے انہوں نے کہا ہمارے زمانے میں تعلیم عام نہ تھی تو لوگ سچ بولتے تھے اور پورا تولتے تھے انہوں نے اکبر الٰہ آبادی کے الشعار کے حوالے بھی دیے کہ وہ کتابوں کو قابل ضبطی سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ اگرفرعون بچوں کو تیغ تلوار کے گھاٹ اتارنے کی بجائے کالج کے گھاٹ اتارتا تو اس کا منشا پورا ہوجاتا اور قتل کی تہمت بھی نہ آتی لیکن مشکل تو یہی ہے کہ لوگ عقل کی بات نہیں سنتے اور علموں بس نہیں کرتے سو خود کردہ راعلاج نیست چراکارے حکومت کو تو تب الزام دیا جائے اگر اس نے تعلیم کا لازمی قرار دیا ہو۔

پچھلے دنوں کئی امتحانات کے نتیجے شائع ہوئے ہم نے جس زمانے میں پڑھا ہے پاس ہونا اور نئی کلاس چڑھنا معیوب نہ سمجھا جاتا تھا بلکہ اکثرلوگ تو اس پر مبارک بادیں دیتے اور وصول کرتے تھے اور بعض انتہا پسند مٹھائی وغیرہ بھی بانٹتے تھے جووالدین زیادہ بردبار اورسنجیدہ تھے وہ بھی کم از کم اس بات پر صف ماتم نہ بچھاتے تھے۔ہمارے ہاں ایک دوست کے بیٹے نے اب کے سیکنڈری بورڈ کا ایک امتحان دیا تھا اور اس کا رول نمبر اتفاق سے ہمارے پاس تھا اب کے اتوار کو نتیجہ نکلا تو ہم نے دیکھا کہ صاحبزادے پاس ہوگئے ہیں ہم انہی پرانی روایات کے عادی حالات حاضرہ سے بے خبر مٹھائی کا ایک ڈبا لےٰ مبارک باد دیتے پہنچ گئے وہاں کچھ اور ہی حال دیکھا چاندنی بچھی تھی اگر بتیاں سلگ رہی تھیں اور کچھ لوگ منہ لٹکائے ماتمی صورت بنائے بیٹھے تھے ہم نے کہا خیر باشد؟کہیں عزیز فیل تو نہیں ہوگیا اخبار میں تو اس کا رول نمبر پاس ہونے والون میں ہے ہمارے دوست بولے یہی تو رونا ہے نالائق پاس ہوگیا اور یہ تقریب اس کے داخلے کے مسئلے کی تقریب میں ہے اب کے ہم نے اس کو فلمیں بھی خاصی دکھائی تھیں ٹیڈی لباس بنوا کر ایک اسکوٹر بھی لے دیا تھا۔

گھرمیں ریڈیو تو تھا ہی کمرشل پروگرام اور فرمائشی پروگرام بھی باقاعدگی سے سنواتے تھے فلمی پرچوں کا بھی ہمارا گھر باقاعدہ خریدار ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ چھپ چھپا کر اسکول کی کتابیں پڑھتا رہا ہے ہم سے کہتا تھا کہ دریا پر مچھلی پکڑنے جارہا ہوں یار دوستوں کے ہاں تاش کھیلوں گا یا فلاں جگہ زندہ ناچ گانا اور تہولا ہے لیکن اصل میں لائبریری یا اسکول چلایا جاتا تھا گھر میں بھی یہ چالاکی کرتا تھا کہ باہر جاسوسی ناول کی جلد ہوتی تھی ہمیں کیا خبر تھی کہ اندر گرائمر یا تایخ کی کتاب ہے امتحان ہوا تو اس وقت بھی اس نے ہمیں دھوکے میں رکھ کہ پرچے خراب ہوئے ہیں آپ فکر نہ کیجیے ضرور اچھے نمبروں میں فیل ہوں گا لیکن اب اس کے کرتوت سامنے آگئے ہیں نہ صرف پاس ہوا ہے بلکہ سیکنڈ ڈویژن بھی لی ہے بورڈ سے نمبربورڈ سے نمبر نکلوانے کے لیے عرضی تو دی ہے کہ ممکن ہے غلطی سے پاس ہوگیا ہو نمبر جوڑنے میں چوک ہوگئی ہو لیکن امید کوئی نہیں ہے ہماری تو قسمت پھوٹ گئی۔

ثابت ہوا کہ یہ ایک بڑا سماجی مسئلہ ہے کیونکہ سب لوگ تو ایسے خوش قسمت نہیں کہ ان کے بچے فیل ہوجائیں اور داخلے کے مسائل سے بے نیاز وہ نتیجہ آتے ہی گھی کے چراغ جلائیں یا مٹھائی بانٹیں والدین اس سلسلے میں حکام تعلیم کو بڑی حد تک قصور وار گردانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امتحان کے پرچے طالب علموں کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے نہیں بنائے جاتے بلکہ فاضل ممتحن اپنی صلاحیت کے مطابق بناتے ہیں لہٰذا وہ نہایت آسان ہوتے ہیں ان کو کوئی بچہ بھی حل کرسکتا ہے پھر وہ ہوتے بھی نصاب کی کتابوں میں سے ہیں باہر سے نہیں رہی سہی کسر پرچہ دیکھنے والے پوری کردیتے ہیں ان میں اکثریت ایسے بے درد اور شقی القلب لوگوں کی ہے کہ کسی کو فیل ہی نہیں کرتے ایسا لگتا ہے جیسے ان کی اپنی اولاد ہی نہ ہو۔

ہم نہیں کہتے کہ سبھی ممتحن ایسے منتظم المزاج ہوتے ہیں ان اچھے لوگ بھی ضرور ہوں گے جس کا ثبوت یہ ہے کہ بہت سے لڑکے فیل بھی ہوتے ہیں لیکن بہ شکایت بے بنیاد بھی نہیں ایک ممتحن کو ہم خود جانتے ہیں کہ بیوی سے اس کا سخت جھگڑا ہوا تھا قرض دار بھی پریشان کررہے تھے اور اسکول میں اس کی ترقی بھی رکی ہوئی تھی اس کا بخار انہوں نے غریب طالب علموں پر نکالا جس کا پرچہ سامنے آیا اسے ستر اسی فیدی نمبر دیے گئے حالانکہ بعض طالب علموں نے بڑی محنت سے سوالات کے جواب غلط لکھے تھے اور بعض نے تو پرچے کورے چھوڑ رکھے تھے کسی سوال کو ہاتھ ہی نہ لگایا تھا،اس کا حل ہماری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اسکول اور کالج بند کردیے جائیں اور بورڈ اوریونیورسٹیاں توڑی دی جائیں چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے اکا دکا لوگ پھر بھی گھروں یا مسجدوں میں پڑھنے سے باز نہیں آئیں گے لیکن داخلے میں مشکلات کی شکایتیں کم از کم نہ رہیں گی۔

اس سلسلے میں ایک بات ہمیں اپنے تعلیمی اداروں سے بھی کہنی ہے پچھلے دنوں بعض اسکولوں نے اپنے پھاٹک بند کرکے باہر سنتری بھی تعنیات کردیے تھے کہ طالب علم یا ان کے والدین اندر نہ گھس آئیں بعض جگہ تو سنا ہے ہلکا سا لاٹھی چارج بھی ہوا ہے بے شک ہم مانتے ہیں کہ اسکولوں میں طالب علموں کا کیاکام اگر طالب علموں نے داخلہ لینے کی کوشش کی تو یہ ان کی زیادتی ہے لیکن سبھی لوگ تو اتنے سمجھ دار نہیں ہوتے کہ اپنا برا بھلا سمجھ سکیں ان کی محبت اور ملائمت سے سمجھانا چاہیے کہ تعلیم کے کیا نقصانات ہیں اور تعلیم کا پھیلاؤ معاشرے کے لیے کیوں خطرہ ہے حکومت کو بھی چاہیے کہ جس طرح اس نے جا بجا فیملی پلاننگ سنٹر کھول رکھے ہیں اس طرح کے مرکز کھولے جن میں مانع تعلیم ترکیبیں بتائی جائیں۔

Your Thoughts and Comments