Sheen

ش

سہیل عباس خان بدھ جولائی

Sheen

پیارے بچو ش شروع میں لگ جائے تو شیر بن جاتا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ شروع شروع میں ہی شیر ہوتا ہے، درمیان میں لگے تو عشق، کچھ لوگ تو ش ق درست کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔اور آخر میں لگے تو کوشش جو ہم آبادی بڑھانے سے بجلی پیدا کرنے کی کر رہے ہیں، یہ دنیا کی تاریخ کا معجزہ ہے کہ آبادی سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

ش سے شعلے نامی فلم بنی تھی، جہاں بنی تھی اس ملک کا نام نصاب سے خارج ہے۔

اس کی ہیروئن بسنتی، آج کل پاکستان میں ہے، اس کا موجودہ نام بے سنتی ہے اور وہ سنا ہے خود ہیروئن پیتی ہے۔

ویسے تو ش سے پینے والی بہت سی چیزیں ہیں لیکن ہم صرف شربت پیتے ہیں، پہلے صرف شربت دیدار ہوتا تھا جس کے لیے عشاق گلیوں میں دیوار سے پیٹھ اور آس لگائے سارا دن پیاسے بیٹھے رہتے تھے، اب فیس بک پہ روح افزا ہوتا ہے بلکہ اس کی بھی افزائش ہو گئی ہے۔

(جاری ہے)

اب تو یہاں تک نوبت آ گئی ہے کہ آپ کی دیوار پہ نوبت بجا کے کہتے ہیں مینوں ویکھ.

ش سے شک بھی ہوتا ہے اور سچ پوچھیں تو ہمیں اس کا بھی پہلے ہی پتہ ہوتا ہے، کیونکہ ہم ایسی قوم ہیں کہ ہمیں ہر چیز کا پہلے پتہ ہوتا ہے، عدالت میں شک کا فائدہ صرف اسی کو دیا جاتا ہے، جس پر شک ہو۔

ش سے شکر بھی ہوتی ہے، یہ عام طور پر گنے سے بنائی جاتی ہے، جو بناتے ہیں وہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ گنے کے پیسے روک کے بنائی جاتی ہے، پھر بھی پتہ نہیں خون میں کیسے شامل ہو جاتی ہے۔

پیارے بچو ش سے شامت بھی ہوتی ہے، پرانے زمانے میں اس کا تعلق اعمال سے اور آج کل عمال سے ہے۔ یہ الف کس نے گرایا ہے، یہ آپ کسی شاعر سے پوچھیں، کیونکہ ہمارے ہاں صرف ایک آزادی ہے جسے شاعرانہ آزادی کہتے ہیں، ویسے تو ہم آزاد ہیں، جہاں مرضی تھوک سکتے ہیں، اور تھوک کے مال میں جو مرضی ملا سکتے ہیں، کوئی سوموٹو کیا سوپتلو ایکشن بھی لینے کو تیار نہیں۔

پیارے بچو ہمارا ملک دنیا کے ان خوش نصیب ممالک میں سے ایک ہے جسے پروردگار عالم نے ہر نعمت سے جی بھر کے نوازا ہے، لیکن ہم سب جب سے آزاد ہوئے ہیں اس کو جی بھر کے بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حیرت اس بات پر ہے کہ اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے، بس خود بگڑ گئے ہیں، پتہ نہیں وہ کون ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے۔

ش سے شکر بھی ہوتا ہے اور شاعر نے کہا تھا رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی، شاعر کو کیسے پتہ چل گیا کہ یہ اللہ میاں کی گائے نہیں بلکہ مقدس گائے ہے، حالانکہ ہم ہندو بھی نہیں ہیں۔

پیارے بچو ش سے شلوار بھی ہوتی ہے، منٹو کے زمانے میں یہ صرف افسانوں میں ہوتی تھی آج کل عظمی اور عالیہ کے گھر کی دیوار پر لٹکائی جاتی ہے۔

پیارے بچو ش سے شاباش ہوتی ہے، شابش اے بھائی شابش ہے

Your Thoughts and Comments