Shetan

شیطان

منگل اگست

Shetan

ایک دن ایک اداکارہ نے مجھ سے پوچھا: ”اس دنیا کی رنگا رنگی اور خوبصورتی کس کے وجود سے ہے؟“یہ سوال کر کے وہ جواب بن کے سامنے بیٹھ گئی،لیکن جب میں نے کہا شیطان کے دم قدم سے !تو اس نے سرسے لے کر پاؤں تک مجھے یوں دیکھا جیسے میں نے کہہ دیا ہو ”میری وجہ سے“شیطان سے میرا پہلی بار باقعدہ تعارف اس دن ہوا جب میری ملاقات اپنے گاؤں کے مولوی صاحب سے ہوئی، میں نے ان کی کسی بات پر اختلاف کیا تو انہوں نے میرے والد صاحب سے کہا”آپ کا لڑکا بڑا شیطان ہو گیا ہے۔

“انہوں نے ٹھیک ہی کہا تھا کیوں کہ اس دنیا میں پہلی بار اختلاف رائے شیطان ہی نے کیا۔ یوں وہاس دنیا میں جمہوریت کا بانی بھی ہے۔
شیطان مرد کے دماغ میں رہتا ہے اور عورت کے دل میں۔ ہر آدمی سے پناہ مانگتا ہے اور کئی لوگوں کو وہ پناہ دے بھی دیتا ہے۔

(جاری ہے)

شیطان اور فرشتے میں یہ فرق ہے کہ شیطان بننے کے لئے فرشتہ ہونا ضروری ہے۔ جہاں تک شیطان کا آدم کو سجدہ نہ کرنے کا تعلق ہے، وہ سب اس کا پبلسٹی سٹنٹ تھا جس کی وجہ سے اسے اتنی شہرت ملی کہ جہاں رحمان کا نام آتا ہے وہا اس کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔

ورنہ اس آدم کو تو وہ آج بھی سو سو سجدے کرنے کے لئے تیار ہے۔ میں شیطان سے کبھی نہیں گھبرایا لیکن برا آدمی دیکھ کر ہی ڈر جاتا ہوں کیونکہ شیطان برا فرشتہ ہے برا انسان نہیں۔
میں جب تک بزرگوں اور نیک لوگوں کے پاس رہتا ہوں، اپنا آپ برا لگتا ہے کیونکہ جب ان کی روزانہ نیکیوں کی گنتی سنتا ہوں تو خود کو برا سمجھنے لگتا ہوں۔ یہ تو بھلا ہو شیطان کا جس کے پاس جا کر مجھ جیسا بھی نیک لگتا ہے۔

کہتے ہیں شیطان نہ ہوتا تو کئی برا آدمی نہ ہوتا لیکن میں کہتا ہوں کہ شیطان نہ ہوتا تو کوئی اچھا آدمی نہ ہوتا کہ شیطان سے ڈر کر تو سارے نیکیاں کر تے ہیں۔
اس دنیا میں شیطان اکیلا نہیں بلکہ رحمان اکیلاہے ۔ جب آدمی اچھا کام کرنے جا رہا ہو شیطان ساتھ ہوتا ہے اور جب برا کام کرنے جا رہا ہو تو شوہ شیطان کے ساتھ ہوتا ہے۔ کہتے ہیں لاحول ولاقوة پڑھو تو شیطان غائب ہو جاتا ہے۔

میرا دوست ”ف“کہتا ہے ”کسی کو غائب کرنا کونسا مشکل کام ہے‘یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ “ٹھیک کہتا ہے جب وہ بایاں ہاتھ بڑھا کر ادھار مانگتا ہے تو مقابل آنکھ جھپتے ہیں غائب ہو جاتا ہے۔
شیطان کائنات کا سب سے پہلا صحافی ہے، جس نے اللہ تعالیٰ کو یہ خبر دی کہ آدم زمین پر جا کر کیا کیا کرے گا!یہی نہیں وہ پہلا وکیل بھی ہے جس نے آدم کو مشورہ دیا کہ پھل کھا لو پھر کوئی تم سے جنت کا قبضہ نہ لے سکے گا، ہمیشہ کے لئے یہی رہوگے اور فیس مشورے میں جنت لے لی۔

اپنی غلطی تسلیم کرنا دراصل خود کو انسان ماننتا ہے۔ کیونکہ وہ صرف شیطان ہے جس نے آج تک اپنی غلطی تسلیم نہی کی شاید اسی لیے ہم بھی آج کل اپنی غلطی نہیں مانتے۔
اس دنیا کا پورا نظام شیطان کی وجہ سے چل رہا ہے، اگر شیطان نہ رہے تو کوئی انسان نہ رہے، سب فرشتے ہو جائیں ، ہمیں انسان رہنے کے لئے شیطان چاہیے، وہ نہ ہوتاتو مولویوں اور داعظوں کے بچے بھوکے مر جاتے کہ یہی تو ان کا ذریعہ روزگار ہے۔

شیطان چاہیے،وہ نہ ہو تو وہ کس کے خلاف تقریریں کریں یہ سارے حسن کے بازار، رقص و موسیقی کی محفلیں اسی کے دم قدم سے تو ہیں، یہی نہیں عبادت گاہیں بھی اسی سے پناہ مانگنے کے لیے ہیں۔وہ نہ ہوتا تو کوئی سیاست دان اور شاعر نہ ہوتا، عورت کا تو کوئی کام ہی نہ رہ جاتا۔ کہتے ہیں عورت زمین پر شیطان کی ایجنٹ ہے۔ یہ ٹھیک لگتا ہے کیوں کہ شیطان بھی تو مذکر ہی ہے۔


انسان اور جانور میں یہی فرق ہے کہ بندے کے پاس شیطان ہے اور جانور کے پاس رحمان تو ہے مگر شیطان نہیں۔ شیطان نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ورنہ تو وہ ایک سماجی جانور ہے۔ جس دن جانوروں کو یہ شعور مل گیا کہ ایک شیطان کی راہ ہے اور ایک رحمان کی۔ اپنی مرضی سے جو چاہو چن لو، اسی دن جانور بھی اشرف المخلوقات میں سے ہوجائیں گے ”ف“کہتا ہے: ”جانور تو سگریٹ بھی نہیں پیتے ، جھوٹ بھی نہیں بولتے ، وہ اشرف المخلوقات کیسے بن سکتے ہیں؟“
اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں پر کتابیں اتاریں، کچھ ادبیوں کی کتابیں پڑھ کر تو لگتا ہے شیطان نے بھی اپنے برگزیدہ بندوں پر کتابیں اتاری ہیں۔

شیطان کی عمر کیا ہے؟وہ بوڑھا ہے یا ادھیڑ عمر!میں نہیں جانتا لیکن اتنا پتہ ہے کہ اسے وہ سب پسند ہے جو صرف جوانی میں ہی پسند کیا جاسکتا ہے۔
وہ جگہیں جہاں صرف خدا کو یاد کیا جاتا ہے ، وہ ویگنیں یا بسیں ہیں۔ ورنہ عبادت گاہوں میں تو زیادہ تر شیطان ہی کے بارے میں تلقین ہوتی ہے۔ بڑے بوڑھے بچوں کو ابتدا ء ہی سے شیطان سے ڈرانا شروع کر دیتے ہیں تاکہ وہ ان کا ادب کرتے رہیں۔


میرا دوست ”ف“کسی اداکارہ کو برتھ ڈے پر بھی برتھ ڈے سوٹ میں دیکھ لے تو شیطان کو برا بھلا کہنے لگتا ہے اور آج کل وہ دن رات شیطان کو برا بھلا کہنے کے موقع ڈھونڈتا رہتا ہے۔ ویسے اگر شیطان نہ ہوتا تو اردو ادب کو بڑا نقصان پہنچتا، ڈاکٹر شفیق الرحمٰن مزاح نگار کیسے بنتے!
شیطان انسان کا دوست ہے یا دشمن، اس کا تو پتہ نہیں ۔ اتنا پتہ ہے کہ دوست اپنی برائی آپ کے نام لگا کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں جب کہ آپ برائی کر کے شیطان کو برآئی الذمہ کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں مولوی حضرات ہمیں دنیا میں ہراس چیز سے منع کرتے ہیں جسے حاصل کرنے کے لئے ہی وہ جنت میں جانا چاہتے ہیں، حالانکہ جنت اور دنیا کا بڑا فرق ہی یہ ہے کہ جنت میں شیطان نہ ہوگا۔
شیطان کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ اسے موت نہیں آتی، ورنہ وہ اتنا شیطان نہ ہوتا۔ پہلے اس نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کیا تو شیطان بنا، اب اسے شیطان رہنے کے لئے آدم کو روز سجدہ کرنا پڑتا ہے۔


جس دن انسان نے پہلی بار کسی دوسرے کی دھڑکن سنی اور اس نے چاہا کہ یہ آوازدو سروں کو سنائے تو اس نے ڈھول بنایا۔ پچھلے ہفتے میں اپنے گاؤں گیا تو ڈھول کی دھڑکن گاؤں کے سینے میں صاف سنائی دے رہی تھی۔لوگوں نے ایک پہلوان کو کاندھوں پر اٹھار کھا تھا اور دنگل جیتنے کی خوشی میں اس کے گلے میں ہار ڈال رہے تھے اور جو یہ دنگل ہارا تھا، سرجھاکائے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔

مجھے عجیب سا لگا کہ کاندھوں پر تو اسے اٹھانا چاہیے جس کی وجہ سے سب کو یہ خوشی نصیب ہوئی ۔ اگر وہ نہ ہوتا تو جسے سب لوگوں نے کاندھوں پر اٹھا رکھا تھا، کوئی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتا ۔ آج انسان اشرف المخلوقات ہے، اسے اگر تمام مخلوقات نے اسے رتبے کی وجہ سے کاندھوں پر بٹھایا ہے تو صرف اس لیے کہ یہ شیطان سے د نگل جیتتا رہتا ہے۔ اس لیے شیطان کی سلامتی کی دعا مانگنا چاہیے کیونکہ اس کی سلامتی کی دعا ہماری بلند قامتی کی دعا ہے۔

Your Thoughts and Comments