Sikh Naujawan Aur Ik Nara E Mastana

سکھ نوجوان اور اک نعرہ مستانہ

پیر مارچ

Sikh Naujawan Aur Ik Nara E Mastana
حافظ مظفر محسن:
نہایت شان سے چمکتے ہوئے مینا ر پاکستان پر 25دسمبر کی شام میری نظریں اٹھیں تو دوسری طرف مغل دور حکومت کی یاد لاتے ہوئے بادشاہی مسجد کے مینار اور راہداریاں تھیں ۔ جہاں روشنیاں پھوٹ رہی تھیں اور عجب سماں کررہی تھیں۔ دوسرے شاہی قلعہ کے بغلی حصہ میں ایک صوفی بزرگ حضرت شیر شاہ والی کے مزار پر بھی وہی سماں تھا یہ سارا منظر قائداعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش اور مسیحی بھائیوں کی عید جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے منسوب تھی کے موقع پر تھا کہ جب پورا شہرروشنیوں سے لبریز تھا۔

لاہور کا یہ حصہ توکمال خوبصورتی پیش کررہا تھا اور پورے پاکساتن سے آئے ہوئے لاکھوں لوگ یہ شام انجوائے کررہے تھے اس دوران میری نظر پڑی شاہی قعلہ اور بادشاہ مسجد درمیاں میں سکھ عہد کے فرمانر وارنجیت سنگھ کی سمادہی تھی کہ ان تاریخی عمارتوں کے ساتھ وہ بھی بقعہ نور نبی ہوئی تھی اور لوگوں کی توجہ کی مرکز تھی یہ ہے اسلام رواداری کی عظیم مثالوں میں سے ایک کہ جہاں نفرت نہیں بردباری ہے حقارت نہیں محبت واحترام کا گہرا تعلق ہے یقینا بھارت میں بھی حضرت خواجہ معین دین چشتی اجمیری رحمت اللہ علیہ اور دوسرے دیکھائی دیتی ہے مگر وہاں بھارت میں آباد کروڑوں مسلمان بھی توموجود ہیں کہ جن کا ان مزارات اور خانقوہوں پر برابر بطور شہری حق ہے مگر سکھ مذہب کو پیرو کار توپاکستان میں بہت ہی کم ہیں پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہمارابرادرانہ رویہ اور پیار اور احترام کا تعلق واقعی مثالی نوعیت کا ہے چند روز پہلے اخبارات میں ایک منفرد نوعیت کو خبر پاکستان عوام کے لیے ایک خوشی کاباعث بنی کہ ننکانہ صاحب ایک سکھ نوجوان پاکستان کی مسلح افواج میں اپنی تعلیمی قابلیت کی بنا پر کمیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا بلاشبہ یہ ایک اعزاز ہے اور پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ نہایت پیار والے روارکھنے جانے والے روئیے کی ایک زندہ مثال ہے پاکستان کی مسلح افواج میں اسی سے پہلے عیسائی افسروں کی بھرتی کی مثالیں موجود ہیں شاید 1965ء کی جنگ میں بھارت پر حملے کے لیے جوطیارہ سب سے پہلے اڑاتھا اس کو ایک عیسائی ہوا بازسیل چودھری اڑار ہے تھے کسی سکھ نوجوان کا پاکستانی افواج میں کمیشن حاصل کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے جب میں نے پاکستان آرمڈفورسز میں کمیشن حاصل کیااور اکیڈمی جوائن کی تو چنددنوں بعد میرے ایک سنیئر افسرنے مجھ سے پوچھا مظفر پاک فوج کی اس اکیڈمی میں دوران تربیت کیا محسوس کرتے ہوتوبے ساختہ میرے منہ سے نکلا سرسب سے پہلے تو مجھے پاک فوج کی وردی بہت پسند ہے اور بچپن سے یہ وردی پہننے کودل چاہتا تھا دوسری بڑی وجہ پاک فوج کا ڈسپلن ہے جبکہ تیسری وجہ وہ نعرہ ایک نہایت جذباتی اور پیار محبت کے انداز میں لگانا میری روح کو گرما دیتا ہے کہ جو ہم فوج والے مخصوص انداز میں ہاتھ ایک ساتھ اٹھا کر لگاتے ہیں اور فضاء گونج اٹھتی ہے اور درودیوار ہل جاتے ہیں۔

(جاری ہے)


پاکستان زندہ آباد
پاکستان زندہ آباد
جس دن سے میں نے یہ خبر پڑھی ہے کہ ننکانہ صاحب کا یہ سکھ نوجوان اکیڈمی جوائن کر گیا ہے اور جلد وہ ٹرنینگ مکمل کر کے بطور سکینڈ لیفٹیننٹ فوج میں شامل ہوکر پاکستانی فوج کا مستقل حصہ بن جائے گا پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اگر کہیں معمولی سی کسی شہریا ادارے کے ہاتھوں منفی صورت سامنے آئے تو پوری کی پوری مشنیری حرکت میں آجاتی ہے اور ہمارے ادارے اور پاکستانی قوم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے کہ جب تک اس کی منفی صورتحال کاازالہ نہ ہوجائے۔


حال ہی میں ایک ایسی کتاب مجھے پڑھنے کو ملی کہ جو مجھے میاں چنوں کی ایک علمی وادبی شخصیت جناب مظفر سلیم چغتائی نے پیش کی اس کتاب میں بتایا گیا کہ پاکستان کس طرح پاکستان میں موجود اقلیتوں کے ساتھ نہایت رواداری کا رویہ روا رکھے ہوئے ہے یہاں سکھ پارسی آتش احمدی ذکری بھورے اسماعیلی ہندوورغیرہ نہایت آرام سکون سے اورپوری پوری مذہبی آزادیوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور ہر حکومت اس بات پر خاص توجہ دیتی ہے کہ یہ اقلیتی گروپ بغیر کسی دباؤ کے خوش خرم زندگی بسر کر سکیں۔


سرکار درجہان حضرت محمد مصطفیﷺ جو کہ اللہ کے آخری نبی اور تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہم ان کے امتی سرکار کاتعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ دوسرے مذہب جو کہ ہمارے ہاں بطور اقلیت ہمارا حصہ بنے ہوئے ہیں ہمارے کسی منفی عمل سے نفرت کا پہلو نہ نکالیں اور جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے اقلیتوں کے ساتھ پاکستان کے عوام اور حکومت کا رویہ نہایت دوستانہ ہے مگر سکھ نوجوان میرٹ پر اور اس کی قابلیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان آرمی میں جس فراخدلی سے کمیشن دیا گیا اس کی مثال پہلے نہیں ملتی بلاشبہ پاکستان کی مسلح افواج میں کمیشن ہمیشہ میرٹ پر ہی ملتا ہے جبھی تو ہماری مسئلہ افواج دنیامیں اپنی مثال آپ ہیں جہاں مجھے اس سکھ نوجوان کو فوج میں کمیشن ملنے سے خوشی ہورہی ہے اور اچھا لگ رہا ہے کہ آج بھی پاکستانی فوج میں کمیشن میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر ملتا ہے وہیں میں جذباتی بھی ہورہا ہوں اور مجھے اس سکھ نوجوان کا کمیشن ملنا ان دنوں کی یاد دلارہا ہے کہ جب میں بھی اکیڈمی میں موجود تھا ہر پاکستانی فوجی کی طرح ننکانہ صاحب کا یہ سکھ نوجوان بھی پاک فوج کا حصہ بن کروہ جذباتی اور دل کی گہرائیوں سے فضاؤں میں بلند ہونے والا نعرہ پوری طاقت سے ہاتھ بلند کرکے لگائے گا۔


پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان زندہ باد۔ پاکستان زندہ باد

Your Thoughts and Comments