So Jana Toup Ki Naal Main

سو جانا توپ کی نال میں

پیر مئی

So Jana Toup Ki Naal Main

انگلستان میں میرا پہلی پار جانا اتفاقیہ ہوا یہ موجودہ بادشاہ کے راج کے ابتدائی دنوں کی بات ہے میں کچھ سامان جہاز کے راستے ہمبرگ بھیجنے کے لیے قریبی بندرگارہ پر گیا تھا ۔ وہاں سے واپسی میں دھوپ بہت تیز تھی ایک تو دن بھرکے کام کی تھکن ، دوسرے دھوپ سرراہ مجھے ایک توپ پڑی نظر آئی اور میں اس کی نال میںگھُس کر لیٹ گیا۔ماندگی کی وجہ سے ایسی نیند آئی کہ کسی بات کی ہوش نہ رہی ۔

یہ دوپہر کی بات ہے اتنے میں ایک بج گیا اور وقت کا اعلان کرنے کے لیے توپ داغ دی گئی جس میں پہلے سے باردو وغیرہ بھرارکھا تھا۔ ان لوگوں کوکیا خبر کہ ایک آدمی توپ کی نال میں لیٹا سویا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میں جو گولے کی طرح نکلا تو دوسری پار ایک زمیندار کے کھلیان پر جا گرا۔ بھوسے کی وجہ سے کچھ چوٹ نہ آئی بلکہ آنکھ بھی نہ کھلی ۔

(جاری ہے)

کوئی تین مہینے ایسے ہی گزر گئے حتیٰ کے بھوسے کے دام چڑھ گئے اور کسان نے اسے بیچنے کے لیے منڈی بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

جس ڈھیر پر میں جا کر گرا تھا وہ سب سے بڑا تھا۔ کوئی پانچ سو پولے اس میں ہوں گے ۔ زمیندار کے کارندے جو پولے اُتار نے کے لیے سیڑھی لگا کر چڑھے تو میری آنکھ کھُل گئی۔ میں اس زمیندار کے سر پر آن کر گرا جس سے اس کی گردن ٹوٹ گئی لیکن مجھے کوئی آنچ نہ آئی۔ بعد میںمجھے یہ جان کر اطمینان ہو اکہ وہ زمیندار بڑا نابکار تھا ہمیشہ مال مہنگا کر کے بیچتا تھا اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔

Your Thoughts and Comments