Tota Kia Kehta Hai

طوطا کیا کہتا ہے؟

عطاالحق قاسمی پیر فروری

Tota Kia Kehta Hai

طوطے سے فال نکلوانے کا اپنا ہی مزہ ہے ”جوتشی“ پنجرے کا دروازہ کھولتا ہے طوطا پھد کتا ہوا کارڈوں کے پاس جاتا ہے اور ایک کارڈ چونچ سے پکڑ کر واپس جوتشی کے پاس آجاتا ہے بس اسی کارڈ پر میری اور آپ کی قسمت کا حال لکھا ہوتاہے اور ایک حدتک”جوتشی“اور طوطے کا بھی گاہک سے جو دو چار روپے ملیں گے اس سے دور روز اپنا پیٹ بھریں گے تاہم ایک اخبار کے فیچر نگارنے اس ضمن میں جدت یہ پیدا کی ہے کہ اپنی فال نکلوانے کی بجائے مشاہیرہ کی فال نکلوائی ہے اور یہ فال خاصی دلچسپ ہے مثلاً وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کے متعلق طوطے کا کہنا ہے تمہارے پچھلے چند مہینے بھاری گزرے ہیں جو کچھ بھی ہوا تم جانتے ہو تمہارا ایک حاسد ایک مخالف ہے جس کا رنگ گندمی ہے اپنا بھید کسی کو نہ دینا غصے سے پرہیز کرو عنقریب کسی کام میں کامیابی ہوگی۔

(جاری ہے)


میاں صاحب کے چند مہینے واقعی بھاری گزرے ہیں مگر مجھے پریشانی اس بات کی ہے یہ خبر طوطوں تک بھی پہنچ گئی ہے ویسے میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کی پریشانیوں میں ہاتھ بھی بعض طوطوں ہی کا تھا جو وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کا مالک انہیں رٹادیتا ہے،
باقیہ رہا یہ کہ ان کا حاسد اور مخالف ہے جس کا رنگ گندمی ہے بہت گمراہ کن قسم کی نشانی ہے کیونکہ گندمی رنگ والے تو میاں صاحب کے اردگرد بہت ہیں اوردوستوں کے روپ میں ہے کراچی کے ایک گندمی رنگ والے کی سیاسی بلیک میلنگ سے وہ تو نکونک بھی آئے ہوئے ہیں بلکہ ایک کالے رنگ والا بھی ان کے لئے خاصی مشکلات پیدا کررہا ہے باقی رہا طوطے کا یہ مشورہ کہ میاں صاحب غصے سے پرہیز کریں تو زیادہ غصہ انہیں ایک سفید بلکہ سرخ وہ سپید رنگت ولاے بزرگ پر آتا ہوگا لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ طوطے کی بات مانیں اور غصے سے پرہیز کریں کہ خاندان کے بزرگ ٹوکاٹا کی کرتے ہی رہتے ہیں جو نوجوان کی بری لگتی ہے تاہم میاں صاحب کے اصل حریف وہی ہیں جن سے وہ پہلے دن سے برسر پیکار ہیں طوطے نے میاں صاحب کو ایک خوشخبری بھی سنائی ہے اور وہ یہ ایک انہیں عنقریب کسی کام میں کامیابی ہوگی اب اللہ جانے اس کا اشارہ کس کام کی طرف ہے لیکن اگر یہ طوطا پیر پگاڑا کے ہاتھ لگ گیا تو اس بات پر وہ اس کی گچی ضرور مروڑدیں گے۔


صوفی علی احمد نامی ”جوتشی“کے اس طوطے نے صدر پاکستان غلام اسحاق خان کی فال بھی نکالی ہے جو یہ ہے تم کوشش بہت کرتے ہو مگر کامیابی نہیں ہوتیں کیونکہ تمہارا ستارہ گردش میں ہے مخالف تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے تم میٹھی زبان اور نرمی استعمال کرو تمہارا کام ایک بندے کی مدد اور کوشش سے ہوگا۔اب اللہ جانتے ہیں یا خود غلام اسحاق بہتر جانتے ہیں کہ وہ کس کام کے لئے کوشش کرتے ہیں اور کامیابی نہیں ہوتیں میرا دھیان چونکہ خواہ مخواہ ادھر ادھر بھٹکنے لگا ہے لہٰذا میں اس پر تبصرہ آرائی نہیں کروں گا البتہ جس ایک کام کی طرف میرا دھیان خصوصی طور پر گیا ہے وہ کام ایک بندے کی مددا ور کوشش سے بھی نہیں ہوگا کہ وہ بندہ بھی اس مضمرات سے واقف ہے اور پوری قوم بھی ہے بلکہ خود غلام اسحاق خان ایسے زیرک بزرگ کے ذہن میں اس قسم کی کوئی بات آہی نہیں سکتی!طوطے نے محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی فال بھی نکالی ہے جس کے مطابق رسول برحق سے کامیابی ہوگی لوگوں کی مکروفریب سے ہوشیار اور خبردار رہو سفر تیرے لئے بڑا مفید ثابت ہوگا مقصد میں کامیابی ہوگی محترمہ کو کامیابی توتب ہوگی جب دھاندلی نہیں ہوگی اور دھاندلی تب نہیں ہوگی جب کامیابی ہوگی چنانچہ صوفی علی احمد کا یہ طوطا مجھے بہت سیاسی لگتا ہے کہ اس نے کامیابی کا لفظ بہت ویک معنوں استعمال کیا ہے ورنہ ہر ناکامی پر کسی جیالے کے ہاتھوں اس بچارے طوطے کی شامت آجاتی،
طوطے کی فال یہ بھی بتاتی ہے کہ محترمہ کے لئے سفر بڑامفید ثابت ہوگا اور مقصد میں کامیابی ہوگی میرے خیال میں اس طوطے کا اشارہ سفر امریکہ کی طرف ہے مگر اس ناداں طوطے کو یہ علم نہیں کہ امریکہ میں آج کل برف پڑرہی ہے اور وہاں کا درجہ حرارت بیلو زیرو ہے چنانچہ محترمہ کو ان دنوں ہاں سے فلو کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا،ط وطے نے ان سیاسی رہنماﺅں کے علاوہ اداکارہ ریما اور عمران خان کی فالیں بھی نکالی لیمن ان کا ذکر تو میں تب کروں گا اگر پہلی فالوں پر میں نے طوطے کو داددی ہو ایک مشاعرے میں ایک شاعر نے اپنی منزل جیب میں ڈالی اور یہ کہہ کر اسٹیج سے اتر آیا کہ حضرت اجازت چاہتا ہوں غزل کے باقی شعر بھی ایسے ہی ہیں صوفی علی احمد کے طوطے نے باقی جن لوگوں کی فال نکالی ہے وہ بھی ایسی ہی ہیں جیسی اوپر بیان ہوئی ہے لہٰذا یہ تذکرہ ختم البتہ کسی دن اس طوطے کو اپنی فال بھی نکالنی چاہیے

Your Thoughts and Comments