Ustad G

اُستاد جی

جمعہ اکتوبر

Ustad G

رشید

خادم حسین مجاہد محض استاد ہی نہیں بڑے استاد ہیں لیکن ان کے شاگر د ان سے بھی بڑے استاد ہیں ۔اگر یہ شاگردوں کی نفسیات کو جانتے ہیں تو وہ ان کی نفسیات کو اچھی طرح جان گئے ہیں ۔یہ ڈسپلن کے بڑے سخت ہیں بچوں کو کلاس کے دوران بڑی مشکل سے باہر جانے دیتے ہیں اوپر سے ان کو صفائی کا وہم ہے کاغذ کا کوئی پرزہ ریپر یا معمولی سی گرد بھی دیکھ لیں تو بے چین ہو جاتے ہیں اس لئے ان کے شاگرد خود ہی کوئی کاغذ یا ریپر پھینک کر پھراٹھا کر باہر پھینکنے کے بہانے باہر جانے کی اجازت لے لیتے ہیں اور پھر باہر سے سارے کمروں کے پیچھے سے گھوم کر واپس آتے ہیں تا کہ جو وقت ان کے عتاب اور پڑھائی کے بغیر گزر سکے،گزرجائے۔


بعض بچوں نے تو اس کے لئے لکھے ہوئے کاغذوں کی بجائے رجسٹر یا کاپی سے نئے کاغذ پھاڑ کر پھینکے اور پھر اٹھا کرباہر جانے کی اجازت مانگی جس پر انہوں نے ٹوکری کمرے کے اندر رکھوادی۔

(جاری ہے)

پھر بچوں نے واش روم جانے کے بہانے نکلنا شروع کر دیا۔اب وہ اس سے کیسے روکتے بعض مشکوک اور عادی مجرموں کو روکا بھی مگر انہوں نے وہ کمال ایکٹنگ کی کہ ان کو جانے کی اجازت دینا ہی پڑی لیکن جب وہ بچے آتے تو ان کے ہاتھ میں پاپڑ اور بسکٹ ہوتے ۔


ظاہر ہے واش رو م میں کوئی دکان تھی نہیں لامحالہ وہ بازار کا چکر لگا کے آئے ہوتے تھے اس پر انہوں نے واش روم جانے والوں کی سختی سے نگرانی شروع کر دی۔بچے پھر بھی نہیں ہارے وہ اجازت لے کر ایک بار واش روم جاتے ہیں وہاں جھوٹی سچی پیشاب کرتے ہیں اور پھر نکل کر بازار سے ہو کر آتے ہیں ۔پا پڑ بسکٹ البتہ اب وہ چھپا کر لاتے ہیں مگر پکڑے جانے پر سزا ملتی ہے ۔


مگر وہ کتنی نگرانی کریں اور کس کس کی نگرانی میں ہی لگے رہیں تو پڑھائیں کس وقت؟اس لئے ناچار انہوں نے بھی کچھ سمجھوتا کرلیا ہے ۔خود چھٹی کرتے ہیں نہ بچوں کو کرنے دیتے ہیں لیکن ان کے پاس چھٹیوں کے عادی مجرم طلبہ بھی ہیں جو کسی نہ کسی بہانے چھٹی کرکے ان سے گوشمالی کراتے رہتے ہیں ۔ایسا ہی ایک بچہ دودن کے بعد جب سکول آیا تو اس کی پنڈلی پر پٹی بندھی تھی اور وہ لنگڑا کر چل رہا تھا۔

انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے پاس سے گزر کے اس کا لنگ ٹھیک ہو گیا تھا شک ہوتے ہی انہوں نے پٹی کھلوائی تو نیچے سے زخم تو کیا زخم کا بچہ بھی نہ نکلا۔
ان کی کلاس میں ہر قسم کے طلبہ پائے جاتے ہیں ،جب یہ کام کررہے ہوں تو سب بچے شور شروع کر دیتے ہیں ۔یہ ڈنڈا لے کر اٹھتے ہیں تو کایاں بچے سبق لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہ لفظ بائیں کچھ خوشامدی ہیں جو کہے بغیر بھی ان کے کام کرنے کو تیار رہتے ہیں ۔

بعض ان کو دوسرے بچوں اور استادوں کی خفیہ اطلاعات دے کر اپنے لئے رعایت حاصل کرتے ہیں اور جب یہ پیپر چیک کررہے ہوں تو کسی کام کی اجازت لینے کے بہانے ان کے پاس آکر نمبر دیکھ کر دوسروں کو اشارے سے بتا دیتے ہیں اور جب سبق سننے لگتے ہیں تو لائق بچے رشوت کے بدلے نالائق بچوں کو درست جواب کے نمبر کا اشارہ کر دیتے ہیں اور پکڑے جانے پر خود مار کھاتے ہیں ۔


بہر حال بچوں اور ان کی جنگ چلتی ہی رہتی ہے کبھی یہ فاتح ہوتے ہیں تو کبھی وہ جیت جاتے ہیں ۔ان کی محنت کی بدولت ان کے کئی شاگر د بہت آگے جاچکے ہیں حتیٰ کہ چند ایک تو عالم بالا بھی پہنچ چکے ہیں ۔ان کے ننھیال چاولے ہیں لیکن جو ہی چاولہ یا بھومیکا چاولہ سے ان کی کوئی رشتے داری نہیں ۔شادی سے قبل یہ کم از کم چاربیویوں کے قائل تھے ۔دو سال بعد کہنے لگے کہ تین بھی کافی ہیں ۔

پانچ سال بعد دو کے قائل ہو گئے اور دس سال بعد بولے کہ ایک بھی بہت ہے اور آج کل کہتے ہیں کہ ایک بھی نہ ہوتی تو ٹھیک رہتا ہے ۔
کہتے ہیں کہ موچی ،دھوپی ،نائی دوست اور بیوی ایک ہی اچھے رہتے ہیں کہ ان کو بار بار سمجھانا نہیں پڑتا لیکن بیوی کے بارے میں ان کی بات ٹھیک نہیں ۔کوئی بھی کام یہ عا م لوگوں کی طرح نہیں کرتے۔لوگ پہلے سوٹ لیتے ہیں پھر اس کے ساتھ بٹن وغیرہ میچ کرتے ہیں یہ پہلے بٹن پسند کرتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ سوٹ میچ کرتے ہیں ۔

کہتے ہیں کہ سوٹ پہلے لے لیں تو بٹن بعض اوقات میچ نہیں ہوتے اسی طرح کسی سم کا نمبر پسند آجائے تو لے لیتے ہیں اور پھر اس کے لئے موبائل خرید تے ہیں کیونکہ پہلے موبائل میں تو پہلے ہی سمز موجود ہوتی ہیں یہ تو پیڈل میں سائیکل ڈلوانے والی بات ہی ہوئی۔
انہوں نے گھر میں ہر طرف کلاک لگا رکھے ہیں حتیٰ کہ کچن اور واش روم میں بھی ۔خود ان کے کمرے کی ہر دیوار پر کلاک لگا ہوا ہے ۔

اس کے علاوہ بیڈسائیڈ پہ الا رم کلاک اور شوکیس میں شوپیس کلاک الگ ہے ۔اس کی وجہ سے نہیں کہ ان کو وقت کی بہت اہمیت ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو مختلف کمپنیوں کی طرف سے کلاک کی صورت میں تحائف ملتے رہتے ہیں جو دوستوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کے بعد بھی بچے رہتے ہیں۔
خیر انہوں نے ان کے عجیب وغریب استعمال شروع کر دےئے ہیں ۔جو گھڑی عین ان کے سامنے لگی ہے اس میں وقت ہمیشہ کچھ آگے رکھتے ہیں تا کہ انہیں لگے کہ دیر ہو رہی ہے اور جلد تیار ہو کر بر وقت دفتر پہنچ سکیں ۔

ایک دیوار کی گھڑی دسِ پندرہ منٹ پیچھے رکھی ہوئی ہے تاکہ اگر کسی کام میں سستی کرنی ہوتو جواز بنایا جا سکتے کہ ابھی وقت ہے ۔ایک گھڑی پر درست وقت بھی رکھا ہوا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر دیکھا جا سکے۔
ویسے تو آگے وقت والی اور پیچھے وقت والی گھڑی کی اوسط لے کر بھی اصل وقت معلوم کیا جا سکتا ہے لیکن چوں کہ اس میں کچھ مشقت پائی جاتی ہے اس لئے احتیاطاً درست وقت والی گھڑی بھی لگا رکھی ہے ۔

اتنی گھڑیوں کے ہوتے ہوئے بھی کبھی کسی گھڑی کا سیل ختم ہو جاتا ہے تو کبھی کسی کا اس لئے موبائل پر درست وقت اور الارم بھی لگا رکھا ہے ۔یہ آسانی سے دوستی چھوڑتے ہیں نہ دشمنی ان کی مستقل مزاجی کے بعد ایک خاص عرصہ گزرنے کے بعد ان کے دوست دشمن اور دشمن دوست بن جاتے ہیں ۔خوشامد کے فوائد سے کما حقہ آگاہ ہیں لیکن اس خوبی سے کلیتاً محروم ہیں۔


درست زبان کے وہم کی حد تک قائل ہیں کسی خاتون کے لئے سفارشی رقعہ لکھیں تو حامل رقعہ ہذا کی جگہ حاملہ رقعہ ہذا ہی لکھتے ہیں کہ گرامر کا تقاضا یہی ہے کچھ اور مطلب نکلتا ہے تو نکلتا رہے ان کی بلا ہے ۔اسی طرح لیڈی سٹاف جب تک اپنی درخواست کے نیچے العارض کی جگہ العارضی نہ لکھے ان کی درخواست قبول نہیں کرتے حالاں کہ عارضہ کا مطلب تو کچھ اور ہو جاتا ہے ۔


اگر آپ ان سے کوئی کام نکلوانا چاہتے ہیں تو دُھلی ہوئی شستہ اور درست اردو بولیں ۔غلط اردو بول کر ان سے درست کام نکلوانا بھی ناممکن ہے کیونکہ یہ بہت کچھ معاف کر سکتے ہیں مگر غلط زبان نہیں ۔ان کے خانگی جھگڑوں میں بڑا ہاتھ ان کی بیگم کی غلط اردو کا ہوتا ہے کیونکہ یہ غلطی نکالتے ہیں تو دنیا کی ہر بیگم کی طرح ان کی بیگم بھی تسلیم کرنے کی بجائے ناراض ہوجاتی ہیں ان کو ہمیشہ شکوہ ہی رہتا ہے کہ جتنی تو جہ غلطیوں پر دیتے ہیں اتنی بات پر دیتے تو گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ۔اللہ ان کو خصوصی ہدایت سے نوازے۔آمین!

Your Thoughts and Comments