Waisy Tou Hum Khriyat Sy Hy

ویسے تو ہم خیریت سے ہیں

منگل دسمبر

Waisy Tou Hum Khriyat Sy Hy
ابنِ انشاء:
ایک شخص کے پاؤں کے انگوٹھے پر ایک گومڑ سانکل آیا تھا کسی نے کہا اسپتال جاکر اسے کٹوادو معمولی سا آپریشن ہوگا پس وہ اسپتال چلاگیا آپریشن کے لیے اسے بے ہوش کرنے کی دوادی گئی جس سے اس کو دل کا دورہ پڑگیا اسے آکسیجن ٹینٹ میں رکھا گیا جس میں ہڈیوں کی سوزش کے جراثیم پہلے سے موجود تھے چنانچہ اسے وہ بیماری لگ گئی اسے اسٹریچر پر لیے جارہے تھے کہ اسٹریچر الٹ گیا جس سے اس کی ایک ٹانگ اور ہنسلی کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس ضرب سے اس کو دل کا ایک اور دورہ پڑگیا دم تحریر وہ اس عالم میں ہے کہ اس کے ایک ٹنکی سانس لینے کے لیے لگی ہے ایک ٹنکی پیشاپ خارج کرنے کے لیے ٹانگ پلاسٹر میں جکڑی ہے اور بازو پٹی میں بندھا گلے کا ہارہورہا ہے اب رہا وہ گومڑا اسے سب بھول گئے ہیں وہ جہاں تھا وہیں ہے،یہ خبر ارجنٹائن کی ہے اور کسی اور کے بارے میں ہے لیکن یہ یہاں کی بھی ہوسکتی ہے اور ہم خوش قسمت نہ ہوتے تو ہمارے میں بھی ہوسکتی تھی کیونکہ اپنی ٹانگ کو لیے لیے ہم ایک مقامی اسپتال میں بھی ہو آئے ہیں جہاں ہر کوئی ہر کسی سے شاکی تھا زیادہ تفصیل میں اس لیے انہیں جاتے کہ ہمیں تجربے نے بتادیا ہے کہ کبھی اسپتالوں کے بارے میں نہ لکھنا چاہیے کبھی پولیس اور تھانے کے بارے میں نہ لکھنا چاہیے بلکہ جیسا کہ قدرت اللہ شہاب کے مشہور افسانے رپورٹ پٹواری مفصل ہے ‘میں ہے کسی پٹواری کے بارے میں بھی لکھنے کی حماقت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہر پھر واسطہ انہی لوگوں سے پڑتا ہے شہاب صاحب کے وسائل نے جس کی زمین پٹواری نے کسی اور کے کھاتے میں ڈال دی تھی شکایت تو گورنر کے نام بھیجی تھی انہوں نے اپنے سیکریٹری کو برائے ضروری کاروائی بھیج دی سیکریٹری نے کمشنر کو کمشنر نے ڈپٹی کمشنر کو ڈپٹی کمشنر نے تحصیل وار کو اور تحصیل دار نے اسی پٹواری کو منتقل کردی کہ اس پر ضرروی کاروائی کی جائے پٹواری نے درخواست دہندہ کو بلایا ایک جوتا لگاتا تھا اور ایک درخواست دکھاتا تھا درخواست دکھاتا تھا اور ایک جوتا لگاتا تھا کہ اور دے درخواست گورنر کو۔

(جاری ہے)

بڑا آیا ہماری شکایتیں کرنے والا اس”ضروری کاروائی“کے بعد درخواست یہ لکھ کر گورنر صاحب کو لوٹادی کہ مناسب تحقیق کی گئی مدعی جھوٹا ہے جھوٹی درخواستیں دینے کا عادی ہے شکایت داخل دفتر کی جائے۔ہم کوئی دن سے اپنی ٹانگ سمیت بستر پر پڑے ہیں ہمارے دوست ڈاکٹر منیر الحق ہمیں دیکھ جاتے ہیں اور دلاسا دیتے ہیں کہ چند ہی روز انہوں نے نصیحت بھی کی کہ پرائے پھٹے میں ٹانگ نہیں اڑنی چاہیے ہم نے کہا ڈاکٹر صاحب ہم نے نہیں اڑائی لیکن اگر پرایا پھٹہ خود آکر ہماری ٹانگ میں اڑجائے تو کیا کرسکتے ہیں ایک اور دوست نے فرمایا کہ یہ جو تم دعوے کرتے پھرتے ہو کہ تم کو دولت مل رہی تھی تم نے اس پر لات ماردی کوئی بڑا عہدہ مل رہا تھا اس پر لات ماردی تو ایسے کاموں کا تو یہی نتیجہ ہوتا ہے ہم نے کہا نہیں صاحب یہ بات نہیں زبان سے کہنے کی بات اور ہے ہم عزت شہرت یا عہدے پر لات مارنے والے آدمی نہیں ہیں بات فقط اتنی ہے کہ 31 جنوری کو ریڈیو پاکستان کے سامنے ٹیکسی لینے کے لیے ہم سڑک پار کررہے تھے کہ غلط سائیڈ سے آکر ٹیلی فون کے محکمے کی ایک جیپ نے ہمیں ٹکر ماردی اور دور اچھال دیا رپورٹ ہم نے اس لیے نہیں کی کہ اس مقام پر جہاں پانچ طرف ٹریفک آتا ہے اور سڑک عبور کرنے میں پندرہ منٹ لگتے ہیں نہ کوئی زیبرا کراسنگ ہے نہ کوئی ٹریفک کا آدمی ہوتا ہے ہوتا بھی تو رپورٹ کا کچھ مقام نہ تھا قصور ہمارا تھاہم کیوں گھر سے باہر نکلتے ہیں الٹا ہم نے جیپ والے کاشکریہ ادا کیا کہ ہمیں زندہ رہنے دیا خبر اس واردات کی اس لیے کسی کو نہ ہوئی کہ ہمارے شہر میں اگر کوئی گاڑی کسی آدمی کو ٹکر ماردے تو یہ خبر نہیں ہے ہاں کوئی آدمی کسی گاڑی کو ٹکر مارے تو خبر بنتی ہے،عباسی شہیداسپتال بہت بڑا عالیشان اسپتال ہے وہاں کے ڈاکٹروں نے ہمیں پہچان کر ہماری طرف خاطر خواہ توجہ دی لیکن اسپتال صرف سنگ وخشت نہیں ہوتا ایکسرے کرنے والا آدمی پون گھنٹے کی تلاش کے بعد ملا اور ملا تو ہم سے ایمرجنسی کی فیس چارج کی لیبارٹری کا نظام جیسا اس اسپتال میں ہونا چاہیے ویسا نہیں ہے ماہر ڈاکٹروں کی بھی کمی ہے ہمارا خیال تھا کہ اتنے بڑے علاقے کے لیے اتنا بڑا اسپتال بناہے تو کچھ ماہرین جناح اسپتال مرکزی حکومت کا ہے سول اسپتال صوبائی حکومت کا اور عباسی اسپتال میونسپل کارپوریشن کا۔

یہاں اکثر ڈاکٹر نئے ہیں بعض تو شاید اسی سال فارغ التحصیل ہوئے ہیں تجربہ کم رکھتے ہیں لیکن ایک صاحب نے کہا چند سال چیر پھاڑ کرتے رہیں گے اور دوائیں آزماتے رہیں گے تو ان کو بھی تجربہ ہوجائے گا انسان گاتے گاتے ہی کلاوت ہوتا ہے ویسے ان طالب علم نما ڈاکٹروں کو دیکھ کر ہمیں وہ مریض یا دآیا جو آپریشن ٹیبل پر لیٹا تو کہنے لگا ڈاکٹر صاحب مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے کیونکہ یہ میرا پہلا آپریشن ہے ڈاکٹر نے کہا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے میرا بھی تو یہ پہلا آپریشن ہے میں کوئی گھبرارہا ہوں، ویسے تو ہم خیریت سے ہیں لیکن اس تقریب سے بستر پر پڑے سارا سارا دن یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ہم اپنے اہل وطن کی کس طرح خدمت کرسکتے ہیں اور ہمارے اہل وطن ہماری کیا خدمت کرسکتے ہیں چونکہ ہم مشرقی تہذیب کے آدمی ہیں پہلے آپ کے قائل ہیں لہٰذا اس معاملے میں بھی پہل کرنے کا موقع اہل وطن ہی کو دینا چاہیے ہیں قومی خدمت کا جذبہ ہم میں ایک تو فراغت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے کچھ یارعزیز الحاج جمیل الدین عالی کی صحبت سے جو ہمیں برابر دیکھنے آتے رہے ہیں حج کرنے کے بعد سے ہم ان میں نمایاں فرق دیکھ رہے ہیں لہو دلعب کی طرف ان کو رغبت مطلق نہیں رہی خیالات فاسدہ ان میں پہلے بھی نہیں تھے اب تو اور بھی نہیں رہے غزلوں دوہوں کو لاحاصل قرار دے کر انہوں نے عزم کیا ہے کہ آئندہ صرف قوالوں کی فرمائش پر گراموفون کمپنیوں کے لیے لکھا کریں گے ایک ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ لکھتے ہیں جس سے دنیا بالکل ٹھیک ہوجائے پر طرف عربی ہی عربی رائج ہوجائے اور مسلمانوں میں کسی قسم کی کوئی خرابی باقی نہ رہے تبلیغی تقریریں اس جذبے سے کرتے ہیں کہ بے اختیار جی چاہتا ہے ان کے ہاتھ اسلام قبول کرلیں پھر خیال آتا ہے ہم تو پہلے سے مسلمان ہیں اگر آپ کو کوئی شخص عربی لباس میں رجز پڑھتا ہوا ننگی شمشیر ہاتھ میں لیے گھوڑے پر سوار بحر ظلمان کا راستہ پوچھتا نظر آئے تو نام پوچھنے کی ضرورت نہیں اور کون ہوسکتا ہے،

Your Thoughts and Comments