Yaha Kuch Phool Rakhy Thy

یہاں کچھ پھول رکھے ہیں

Yaha Kuch Phool Rakhy Thy

مشتاق احمد یوسفی

اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے کے ساتھ جب مجھے مطلع کیا گیا کہ میرے تقریباتی فرائض خالصتاً رسمی اور حاشیائی ہوں تو مجھے ایک گونہ اطمینان ہوا۔

(جاری ہے)

ایک گونہ میں رواروی میں لکھ گیا، ورنہ سچ پوچھئے تو دو گونہ اطمینان ہوا۔

اس لئے کہ مجھےاطمینان دلایا گیاکہ رسم اجرا نہایت مختصر وسادہ ہو گئی۔

اس میں وہی ہو گا جو اس طرح کے شاموں میں شایان شان ہوتا ہے یعنی کچھ نہیں ہو گا۔

بس صاحب شام (میں نے جان بوجھ کر صاحبہ شام نہیں کہا) شاہدہ حسن کی تاج پوشی نہیں ہو گی۔

میرے تردّدتامّل اور اس وضاحت کا سبب یہ تھاکہ ایک ہفتے قبل میں شاہدہ کا ایک خیال انگیز تعارفی مضمون مخدومی ومکرمی جناب جاذب قریشی کی تاج پوشی کی تقریب سعید میں سن چکا تھا۔

جاذب صاحب کی شاعری اور تنقید کا دل پذیر سلسلہ، نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔

ایک عمر کےریاض، مہارت تامّہ،ژرف نگاہی، وضعداری اور ادبی سیر چشمی کی جتنی تعریف کی جائے، کم ہے۔

تعجب اس پر ہواکہ جیسا تاج پیرو مرشد کوعقید تمندوں نے پہنایا، ویسا تاج امریکہ میں حسینئہ عالم کو اور پنجاب میں صرف دلہن کو پہنایا جاتا ہے۔

دولہا کے سر پر تو سہ غزلے کی لمبائی کے برابر اونچی طرّے دار کُلاہ ہوتی ہے۔

پنجاب میں اگر دولہا ایسا زنانہ تاج پہن کرآجائے تو قاضی نکاح پڑھانے سے انکار کر دے گا۔

اور
اگر نکاح ایک دن قبل ہو چکا ہے تو دلہن والے نکاح ٹوٹنے کا اعلان کر دیں گے۔

دلہن اپنے بائیں دستِ حنائی سے دائیں ہاتھ کی ہری ہری چوڑیاں توڑ دے گی اور دائیں ہاتھ سے بائیں کی۔

پھر اُن ہی سونٹا سے ہاتھوں سے دھکّے دے کر ہریالے بنڑے کو عقد گاہ سے یہ کہہ کر باہر نکال دے گی کہ

عقد عقد سمجھ مشغلئہ دل نہ بنا

برات کو رات کے ساڑھے گیارہ بجے، کوکا کولا کی بوتل پلائے بغیر کھڑے کھڑے واپس کر دیا جائے گا۔

تاج اور ادھورے ویڈیو سمیت!

تاج پوشی کی تصویریں کلِک کلِک کر کھنچنے لگیں تو مجھے یہ فکر لاحق ہوئی کہ اگرخدا نخواستہ یہ پنجاب کے اخباروں میں چھپ گئی تو لوگ کہیں گےکہ کراچی کےاہل زبان حضرات بزرگوں کے ساتھ دلہنوں کا سلوک کرتے ہیں اورعَرُوسی زیورات کےاستعمال میں تزکیروتانیث کاذراخیال نہیں رکھتے!جب کےالفاظ کےنرومادہ نہ پہچاننے پراب بھی لے دے ہوتی ہے۔

ہم نے دیکھاکہ حضرت جاذب براتِ دلداگاں میں گھِرے، تصویریں کھچوا رہےتھےتو ہمارے دوست پروفیسر قاضی عبدالقدوس ایم۔

اے۔ بی۔ ٹی کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے وہ گھر میں ہوتے ہیں تو اسی حصّہ جسم پر معصوم بچے لوٹتے ہیں۔

مرزا نے ہمارے کان کو ہاتھ سے اپنے منہ کے قریب کھینچ کراُن شعراء کے نام گنوائے جو حسد سے جلے مررہے تھے۔

کہنے
لگےکہ حاسدین کی فہرست میں ایک نثر نگار کا نام بھی ہے۔

پوچھا بھلا کون؟ بولے مشتاق احمد یوسفی۔پھراکبرالہٰ آبادی کےاشعار اپنی تحریف وہ سکتے کے ساتھ سنائے:

اوجِ بختِ مُلاقی اُن کا

چرخ ہفت طباقی ان کا

محفل وتاج طِلائی اُن کا

آنکھیں میری باقی اُن کا

یہ معروضات ازراہِ تففّن نہیں ہیں۔

اگر سِن وسال کا بیّن تفاوت راہِ حسنِ عقیدت وارادت مندی میں حائل نہ ہوتا تومیں محترم المقام جناب جاذب قریشی اور ان کے استاد مکّرم، بلکہ استاذالاساتذہ حضرت فرمان فتح پوری کواپنا پیرومرشد کہنے میں فخرمحسوس کرتا۔

اورواقعہ یہ ہےکہ اُسی رشتہ ارادت ونیازمندی کے باعث رسم تاج پوشی کچھ عجیب سی لگی۔

یادش بخیر، تیس پینتیس برس اُدھرکی بات ہے۔ایسی ہی تاج پوشی ایک شاعرہ مس بلبل کی ہوئی تھی جو اپنے والد کے ہم راہ اندرون سندھ سے تشریف لائی تھیں۔

ان کے سرپرابنِ انشا نے دستِ خاص سے تاج رکھا اورملِکہ تغّزل کے لقب سے نوازا۔

اپنے تیکھے انداز میں ایک مضمون بھی پڑھا جسے مدحیہ ہجویاہجویہ قصیدہ کہا جائے تو دونوں تعریفیں درست ہوں گی۔

بعد کو ابن انشا نے مِس بُلبُل پر چار پانچ مز یدار کالم بھی لکھے۔

اس زمانے میں مس بلبل اور ہیرڈریسرز انجمن کے صدرسلمان، ان کے کالموں کے دل پسند موضوع تھے۔

ہال کا کرایہ، باسی سموسوں اور خالص ٹین کے تاج کی قیمت خود ملکۂ عالیہ نے جیبِ خالص سے ادا کی۔

رہی ان کی شاعری تو اتنا اشارہ کافی ہے ملکئہ اِقلیم سخن کی طبعِ آزاد، عروض کی غلام نہ تھی۔

غزل میں دورنگی نہیں پائی جاتی تھی۔ مطلب یہ کہ مطلع سے مقطع تک ہرشعروزن اوربحرسے یکساں خارج ہوتا تھا۔

پڑھتے وقت ہاتھ،آنکھ اوردیگراعضاء سےایسےاشارےکرتیں کہ شعرتہذیب سے بھی خارج ہو جاتا! ان اشاروں سے شعرکا مطلب تو خاک سمجھ میں نہیں آتا، شاعرہ کا مطلب ہم جیسے کُند ذہنوں کی سمجھ میں بھی آ جاتا تھا۔

بے پناہ داد ملتی جسے وہ حُسنِ سماعت سمجھ کرآداب بجا لاتی تھیں۔

وہ دراصل ان کے حسن وجمال پرواہ واہ ہوجاتی تھی۔ بقول مرزاعبدالودود بیگ، سامعینِ بےتمکین کےمردانہ جذبات کے فی البدیہہ اخراج کو خفیفہ خراجِ عقیدت سمجھتی تھی!لوگ انہیں مصرع طرح کی طرح اٹھائے اٹھائے پھرتے تھے۔

تقریب اجرا کا ماجرا قدرے تفصیل سے بیان کرنے کی دو وجہیں ہیں۔

اوّل،یہ کہ میرے خشگوار فرائض رسمِ اجرا ہی سے متعلق ہیں۔

دوم،
قوی اندیشہ ہےکہ اگرتاجِ شہی کے وصول کُنندگان اور تاج دہند گان کی بر وقت حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو یہ بدعتِ فاخرہ یعنی رسم تاج پوشی اب ہرتقریب رونمائی و اجراکالازمی حصّہ بن جائے گی، جس سے صرف ہر دو قسم کے ان کا ریگرانِ باکمال کو فائدہ ہوگا جو چاندی پر سونے کا ایسا ملمّع کرتے ہیں کہ

نسیمِ صبح جو چھو جائے، رنگ ہو میلا

(دستِ نقّاد جو چھو جائے، رنگ ہو میلا)؟

جواہلِ قلم اب تک کمالِ فن،تمغہ حسن کارکردگی،ہلالِ امتیازاوراکیڈمی آف لیٹرس کے انعامات کے لئے تگ ودَو کرتے اورآپس میں لڑتے بھِڑتے رہتے ہیں وہ اب تاج اورمنصبِ تاجوری کے لیے ایک دوسرے سے برسرِ پیکارپیزارہوں گے۔

ایک دوسرے کے کام اورکلام الملوک ملوک الکلام میں پورے مصرعے کے برابر لمبے کیڑے نکالیں گے۔

مجھ
جیسا ہرگیا گزارادیب اورشاعرخود کوRY Aکے ۲۲ کیریٹ گولڈ کے تاج کا اکلوتا حق دار قراردے گا۔

انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے تاج!

کیسی یہ انوکھی بات!

مرزاعبدالودود بیگ کہتے ہیں کہ چھوٹے بڑے اوراچھے بُرے کی قید نہیں، genuine شاعر کی پہچان ہی یہ ہےکہ وہ اپنے علاوہ صرف میراورغالب کواوپری دل سے شاعر تسلیم کر لیتا ہے۔

وہ بھی محض اس لیےکہ وہ بروقت وفات پا چکےہیں۔بروقت سےمراد اِن کی پیدائش سے پہلے۔

صاحبو، غزل کی زمین کی ہمیشہ یہ خاصیت رہی ہے

ذرا نم ہو تو یہ مِٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

خدشہ ہےکہ تاج پوشی کی رسم اس زردوز زمین میں جڑ پکڑ گئی تو صرف کراچی میں ہی اِقلیم سُخن کے پانچ چھ سو تاجدار نظر آئیں گے۔

بے تخت وسلطنت! جھوٹ کیوں بولیں۔ ہم خود بھی 22 کیرٹ گولڈ سے الرجک نہیں ہیں۔

تاج
کو پگھلا کر روٹھی ملِکہ کےلیے پازیب بھی تو بنوائی جا سکتی ہے۔

جہاں اتنے تاج داروں کی گھمسان کی ریل پیل ہو، وہاں خون خرابا لازمی ہے۔

بادشاہ لوگ نیشنل اسٹیڈیم میں ایک دوسرے کے تاج سے فٹبال کھیلیں گے۔

اورایک
دوسرے کے دیوان اور ناول ان کے سرچشمے یعنی متعلقہ
تاریخ اشاعت: 2018-11-07

Your Thoughts and Comments