Yun Bhi Hota Hai

یوں بھی ہوتا ہے

بدھ اگست

Yun Bhi Hota Hai

ابر اہیم جلیس
مجھے اپنے دوست محمدریاض خاں پر بہت غصہ آتا ہے جس نے سید شاہ ضیاء الحسن سے ایک مبارک یا منحوس دن میرا تعارف کرایا ۔یہ کوئی سخن سازی نہیں بلکہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ جس دن بھی سید شاہ ضیاء الحسن سے کسی کا تعارف ہو گا وہ دن اس شخص کے لیے یقینا ایک منحوس دن ہوگا چنانچہ میری زندگی میں اب اس منحوس دن کے علاوہ روز بروز منحوس گھڑیوں کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ سید ضیاء الحسن صاحب روز بروز مجھ سے ملتا ہے ۔

میں جتنا اس سے دور بھاگتا ہوں ‘ وہ اتنی ہی تیزی سے میری طرف دوڑتا ہے مجھے پکڑلیتا ہے اور مجھے اپنی شکست مان کر مجبوراََ دانت کھول کر مسکر انا پڑتا ہے اور پھر میں پوچھتا ہوں ۔” اوہ ! سید ضیاء الحسن صاحب کہئے مزاج تو اچھے ہیں ؟“ اب پھر کچھ نہ پو چھئے ‘ سید شاہ ضیاء الحسن کی زبان چلنے لگتی ہے تو گھنٹو ں چلتی رہتی ہے رکنے کا نام ہی نہیں لیتی ۔

(جاری ہے)

آپ بیٹھئے ا ور اپنے صبر وضبط کا امتحان دیتے رہئے ۔نیتجتاََ ناکامی آپ کو یا مجھے ہی ہو گی ‘سید شاہ ضیاء الحسن کبھی ناکام نہیں ہو سکتا وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہے چونکہ وہ دودوتین تین گھنٹوں تک بے تکان گفتگو کر سکتا ہے اور سننے والے چپ چاپ اس کی باتیں سنتے رہتے ہیں تو یقینا اس کی گفتگو بڑی دلچسپ ہوتی ہے جبھی تو لوگ اپنے زخم جگر کو دیکھنے کے بجائے ہمیشہ ہمہ تن گوش ہو کر بڑے انہماک سے اس کی باتیں سنتے ہیں۔

ضیاء الحسن جب کبھی ملتا ہے تو پہلے یہ ضرور کہہ دیتا ہے ” نہیں کوئی خاص بات نہیں ہے ‘ بس ادھر سے گزررہاتھا ‘ سو چا تم سے دو ایک منٹ کے لیے باتیں کر تا چلوں ۔“ اب سنئے اس کی دو ایک منٹ کی باتیں ۔” ارے بھئی ‘ کچھ سناتم نے ‘ ابھی ابھی ایک بڑا افسوس ناک واقعہ ہوا وہ مو ہن لال ہے نا چلتی موٹر سے گر پڑا ۔بے چار ے کو بڑی سخت چوٹ آئی ۔

“ میں پو چھتا ہوں ۔ ” کون موہن لال ؟“ وہ حیرت سے کہتا ہے ۔ارے موہن لال کو نہیں جانتے ؟ہاں ہاں ‘موہن لال کو تم نہیں جانتے ۔تم اس سے کبھی نہیں ملے ‘ موہن لال بے چارہ ایک بڑا پیارا دوست ہے ڈپٹی دیانرائن کا بھانجا۔بڑا دلچسپ ہنس مکھ ‘ بالکل ڈپٹی دیا نرائن ہے ۔بڑی حسرت ناک موت تھی ۔ہاں اس حسرت ناک موت پر خوب یاد آیا۔ وہ بے چارہ قمر الدین بھی تو مر گیا ۔

اس کی موت بھی بڑی درد ناک تھی ۔قمر الدین کو بھی شاید تم نہیں جانتے ‘ بے چارے کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ۔”ارے ہاں بھئی تمہارے چھوٹے کا مزاج اب کیسا ہے کون سے ڈاکٹر کا علاج کرارہے ہو؟آج کل تو یہاں کوئی اچھا ڈاکٹر ہے ہی نہیں ‘ سب نیم حکیم خطرہ جان ہیں ۔اب تو یار میرے علاج کرانے والے بھی ڈاکٹر ہیں اور کالج میں پڑ ھانے والے بھی ڈاکٹر ہیں ۔

اس پر ایک بات یاد آگی ۔وہ جو ڈاکٹر فاروق حسین معاشیات کے پر وفیسر تھے ۔انہوں نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔بڑاخوددار آدمی تھا ۔میں نے اپنی زندگی میں دو ہی خوددار آدمی دیکھے ہیں ایک ڈاکٹر فاروق حسین ‘ دوسرا اپنا محمد قاسم طبلہ مرچنٹ ۔تم نے محمد قاسم طبلہ مر چنٹ کا واقعہ تو ضرور سنا ہو گا کہ ایک بار انہوں نے ایک بڑے رئیس کا طبلہ درست کرنے سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ رئیس نے دکان کے باہر ہی سے موٹر میں بیٹھے بیٹھے بڑی رعونت سے کہا تھا :”ارے میاں طبلے والے ‘ ادھر آؤا سے درست کرنا ہے ۔

محمد قا سم خوددار آدمی تھا ۔اس نے ویسے ہی دکان میں بیٹھے بیٹھے جواب دیا :” عر ض پڑی ہے تو موٹر سے اتر کر یہاں آؤور نہ اپنا راستہ ناپو ۔“ یہ ہے خودداری ‘ تجارت کرتا ہے آزاد پیشہ آدمی ہے ۔وہ بھلا کسی رئیس کا دبیل کیوں ہو ‘ وہ تواس ․․․․․ارے بھائی جلیس ‘ اٹھ کھڑے ہوئے ‘ اماں یار بیٹھو کہا جارہے ہو ‘ بیٹھو بھئی بیٹھو ۔

مگر میں نے جواب دیا کہ مجھے ساڑھے گیارہ بجے ایک صاحب سے ملنا ہے ‘ معاف کرنا ضیاء الحسن میں محمد قاسم طبلچی کی داستان خودداری پوری طرح نہ سن سکا مگر کیا کروں مجبور ہوں ‘ ٹھیک گیارہ بجے ان صاحب سے ملنا ضروری ہے اور اب گیارہ بجنے میں پندرہ منٹ باقی ہیں ۔اچھا پھر ملاقات ہوگی ‘ خدا حافظ !اس کے بعد وہاں سر پر پاؤں رکھ کر بھا گتا ہوں یہ بالکل جھوٹ ہے ساڑھے گیارہ بجے کسی صاحب سے ملنا ہے ‘ مگر یہ بالکل سچ ہے کہ زخمی موہن لال یا ان کے خوش مذاق زندہ دل ماموں ڈپٹی دیا نرائن آنجہانی یا چھوٹے چھوٹے بچوں والے مرحوم قمر الدین ڈاکٹر فاروق حسین سابق پر وفیسر معا شیات اور خوددار طبلہ مر چنٹ سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں ۔

سید شاہ ضیاء الحسن کے ایک ہم پیشہ بھائی ابو الفضل صاحب ہیں ۔یہ ابو الفضل صاحب کسی ضلع کی تحصیل کے پیش کار ہیں ۔اپنی کسی نہ کسی کارروائی کے سلسلے میں ہر اٹھوارے ‘ پندر ھواڑے شہر آتے رہتے ہیں اور جب بھی مجھ سے ملتے ہیں تو پہلا سوال یہ کرتے ہیں : ” میاں تم کب آئے ؟“ میں جواب دیتا ہوں ” جی میں تو یہیں ہو ں ‘ عر صے سے یہاں رہتا ہوں ‘ میں تو پانچ سال سے کسی چھوٹے سے سفر پر بھی نہیں گیا ۔

“ وہ فرماتے ہیں ” ادھر وہ شاید آپ کے بھائی ہیں جو بمبئی میں ہیں ۔“ میں کہتا ہوں ” جی میر ے تو کوئی بھائی بمبئی میں نہیں ہیں ۔“ وہ مصر ہو جاتے ہیں ” ارے کوئی تھے نا میاں تمہارے بمبئی ہیں ۔“ وہ جب کبھی اپنی تحصیل سے شہر آتے ہیں تو پہلے پو چھے ہوئے سوالات ہر مر تبہ دہر اتے ہیں اور دوتین گھنٹے تک میرا دماغ چاٹتے رہتے ہیں مگر پر سوں میں نے انہیں بڑا چکمہ دیا ۔

وہ شہر آئے تھے اتفاق سے عابد روڈ پر نظر آگئے ۔میں سائیکل پر جارہاتھا ‘ مجھے دیکھ کر پکارا ۔” میاں ! ارے ٹھہرو ‘ ٹھہرو بات تو سنو۔“
مگر میں نے بالکل انجان بن کر پیڈل تیز کیے اور نام پلی سڑک پر مڑگیا حالانکہ معظم جاہی مارکیٹ جاناتھا ۔ضیاء الحسن کے تیسرے بردار طریقت ہمارے ایک پڑوسی بزرگ بھی محکمہ مال گزاری کے پنشن یا فتہ منتظم ہیں ۔

انہیں بڑھاپے کی وجہ سے جلدی نیندنہیں آتی ‘ اس لیے بے خوابی کا وقت میرا دماغ چاٹنے میں گزارتے ہیں ۔روزانہ رات کو کھانے کے بعد آجاتے ہیں اور آتے ہی پہلا سوال یہ کرتے ہیں :”سنا ؤ بابا اخبار میں کیا لکھا ہے ؟“ میں کوئی حافظ اخبار تو نہیں ہوں ‘ اس لیے عمد اََ اخبار ان کی طرف بڑھا دیتا ہوں مگر وہ اخبار جوں کاتوں واپس کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

” اخبار تو میں صبح ہی کا پڑھ چکا ہوں اس میں کیا رکھا ہے ‘ کچھ تو سناؤ اسٹا لن ہندوستان پر کب ہلہ بولنے والاہے ؟“میرا ارادہ ہے کہ کسی دن جب میرے صبر و تحمل کا پیالہ چھلک جائے گا تو میں ان سے صاف صاف کہہ دوں گا کہ قبلہ نہ تو اسٹالن کو باؤ لے کتے نے کاٹا ہے کہ وہ ہندوستان پر حملہ کرے اور نہ مجھے کہ اور نہ آپ کے ساتھ بیٹھ کردو تین گھنٹوں تک اخبار کا آموختہ پڑھوں ۔

آپ پنشن یا فتہ ہیں ۔آپ کو بے خوابی کی شکایت ہے تو پھر آپ اپنے گھر بیٹھ کر نارے گنتے رہئے میرا جوان وقت کیوں ضائع کرتے ہو ۔میرا دماغ کہاں اتنا فالتوہے کہ آپ بیٹھے چاٹا کیجئے‘ حضرت مجھے سونے دیجئے رات کے گیا رہ بج رہے ہیں ۔اپنی بزرگی یا میری سعادت مندی سے للہ ناجائز فائدہ تو نہ اٹھائیے ۔ضیاء الحسن کے ایک چوتھے ہم مشرب آرٹسٹ ہیں۔

لوگ انہیں ہر فن مولا کہتے ہیں مگر انہوں نے انتہائی سادگی سے اپنا تخلص بے کمال رکھا ہے ‘ وہ ایک بہت اچھے شاعر بہت اچھے افسانہ نگا ر ‘ بہت اچھے مصور ‘ بہت اچھے گوئیے اور بہت اچھے لطیفہ گو ہیں ۔بلبل ترنگ بھی بہت اچھا بجاتے ہیں ضیاء الحسن صاحب کے پانچویں بھائی چودھری رام کشن جی ہیں ‘ بہت بچپن سے میرے ساتھ پرائمری جماعت میں پڑھتے تھے ۔

پر ائمری پاس کرنے کے بعد وہ اپنے بابا کی کپڑے کی دکان پر بیٹھ گئے ‘ پھر زمانہ گزر گیا ۔میں نے بی ایک کر لیا اس کارام کشن جی کو بھی پتہ چل گیا وہ مجھے بڑا لائق آدمی سمجھنے لگے اپنے کاروباری خطوط پڑ ھانے اور لکھانے کے علاوہ اپنے راج پھوڑے کے علاج سے لے کر اپنی لڑکی کی شادی تک ہر معاملے میں مجھ سے مشورہ کرتے ہیں ۔ان کی گفتگو کا باربار دہر ا یاجانے والاحملہ یہ ہے ۔

” بھئی تم علم وادب کے خوب چرچے کرتے ہے ۔کچھ بتاؤتو سہی کہ دیسی کپڑے کے ساتھ ولایتی کپڑے کی بھی تجارت کروں ؟“ کوئی نہ کوئی صلاح مشورہ کرنے ضرور آتے ہیں اور محض اس لیے کہنمیں بقول ان کے علم وادب کے خوب چرچے کر رہاہوں اور میری کھو پڑی میں بہت بڑا دماغ ہے ۔اب میں رام کشن جی کو کس طرح سمجھاؤں کہ میری کھو پڑی میں جتنا کچھ مغز تھا وہ ضیاء الحسن نے پیش کار تحصیل نے ‘ پڑوسی بزرگ نے ‘ آرٹسٹ نے ‘ اور ․․․․․․․․خود آپ نے چاٹ ڈالا ہے ۔اب میں آپ کو کیا مشورہ دے سکتا ہوں کہ اپنے راج پھوڑے کا آپریشن کرانا چاہئے ۔اس لیے اب مجھے معاف کیجئے اور اجازت دیجئے ۔خدا حافظ !۔

Your Thoughts and Comments