بند کریں
مزاح مضامین ضرورت سر رشتہ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

مزید عنوان

ضرورت سر رشتہ
آپ ضرورت رشتہ کے اشتہار دیکھیں جن میں اکثر یہ لکھا ہوتا ہے کہ کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی کے لیے ڈاکٹر یا انجینئر یاسرکاری ملازم کا رشتہ درکار ہے ۔یہ نہیں لکھا ہوتا کہ سرکاری ملازم گریڈ 17کا ہویا نیچے کا کیونکہ انہیں پتہ ہے گریڈ جو بھی ہوگا اوپر کی آمدنی کافی ہو گی اور لڑکی خوش رہے گی

وہ تحریر جسے ایک کالم نگار لکھتا ہے کالم ہوتی ہے ۔ایسے ہی وہ حرکت جو ایک سیاستدان کرے سیاست کہلاتی ہے ۔اگر چہ سابق وفاقی وزیر عبدالستار لا لیکا اپنی حرکات کی وہ سے اتنے مشہور نہیں جتنے سکنات کی وجہ سے ہیں ۔اس کے باوجود انہوں نے کر پشن کی پیکنگ کا جدید طریقہ دریافت کرکے ہمیں اتنا حیران کیا ہے کہ ہم تب سے انہی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔انہوں نے تحقیق کے بعد کہا ہے :”کرپشن کی چینگ کے لیے آپ ضرورت رشتہ کے اشتہار دیکھیں جن میں اکثر یہ لکھا ہوتا ہے کہ کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی کے لیے ڈاکٹر یا انجینئر یاسرکاری ملازم کا رشتہ درکار ہے ۔یہ نہیں لکھا ہوتا کہ سرکاری ملازم گریڈ 17کا ہویا نیچے کا کیونکہ انہیں پتہ ہے گریڈ جو بھی ہوگا اوپر کی آمدنی کافی ہو گی اور لڑکی خوش رہے گی ۔اسی لیے ضرورت رشتہ کے اشتہار میں کبھی کسی سیاستدان کی ڈیمانڈ نہیں ہوتی ۔“اس تحقیق سے تولگتا ہے وہ برسوں سے ضرورت رشتہ کے اشتہار ہی پڑھ رہے ہیں ۔ویسے بھی یہ اشتہار کنواروں سے زیادہ شادی شدہ پڑھتے ہیں ‘لیکن لا لیکا صاحب کے بیان کے بعد تو ضرورت رشتہ کے اشتہاروں کے مطالعہ کے لیے الگ سے سر رشتہ چا ہیے ۔کم از کم محکمہ انٹی کرپشن کو تو یہ اشتہار زبانی یاد ہونے چا ہئیں۔کرپٹ کا لفظ ہمارے ہاں استعمال ہو ہو کر اب اتنا کرپٹ نہیں رہا جتنا شروع میں ہوتا تھا ۔کرپشن کس نے شروع کی ؟اس پر بے نظیر اور نواز شریف دونوں میں مکمل اتفاق رائے ہے۔جب نواز شریف سے ان کے دور حکومت میں یہ پوچھا گیا انہوں نے کہا چھپلی حکومت نے ۔“اب بے نظیر بھٹو بھی یہی کہتی ہیں ۔ٹریفک ادوسیاست کے حادثے میں یہ فرق ہوتا ہے کہ ٹریفک کے حادث ے میں مجرم وہ ہے جو زندہ بچ جائے اور سیاست میں اس کے الٹ ہوتا ہے ۔ہماری تو حکومت خودایسے چل رہی ہے جیسے ہماری ٹریفک ۔لیکن کچھ لوگوں کی خواہشیں اس دور حکومت میں آکر پوری ہو ئیں جیسے ہمارے ٹریفک دوست کی خواہش تھی کہ اس پاس مہنگی گاڑی ہو اور وہ کسی مہنگے فلیٹ میں رہے ۔جس کی دونوں خواہشیں پوری ہو گئی ہیں ۔سوزو کی مہنگی ہو گئی ہے اور اس کے مالک مکان نے کرایہ ڈبل کر دیا ہے ۔سیاستدان دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو سیاست میں کچھ کرنے آتے ہیں اور دوسرے وہ جو کچھ بننے آتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں کو وطن نے جو دیا اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔اور انہوں نے وطن کو جودیا اس کا بھی تصور نہیں کیا جاسکتا ۔سوکے نوٹ پر قائداعظم کی جو تصویر ہے ‘اب تو اس میں وہ نوٹ رکھنے والے کے ساتھ آنکھ نہیں ملا رہے ۔جس سے لگتا ہے کہ اب انہیں بھی پتہ چل گیا ہے کہ یہ نوٹ زیادہ کن لوگوں کے پاس ہیں ۔ازبیک زبان میں معیشت کا مطلب عیش و عشرت ہے ۔ہمارے حکمرانوں نے عیش وعشرت کو معیشت بنا دیا ۔ہمارے ایک جاننے والے اسلام آباد میں افسر ہیں ۔ہم نے ان سے پوچھا :”نئے سیاسی لطیفے سنے ؟“بولے :”سنے کیا مطلب ! ایک دو کے ساتھ تو میں نے کام بھی کیا ۔“سیاست دانوں کے بارے میں لوگوں کی رائے ایسی ہے کہ ایک بزرگ سیاستدان پاؤں پھیلنے سے گر پڑے ۔ان کا درکر پاس کھڑا آرام سے دیکھتا رہا ۔ہم نے وجہ پوچھی تو بولا:”میں انہیں جانتا ہوں ‘کچھ دیکھ کر ہی گرے ہوں گے ۔“جہاں تک سیاست دانوں کی ضرورت رشتہ کے اشتہاروں میں ڈیمانڈنہ ہونے کی وجہ ہے ۔یہ وہ بھی ہوسکتی ہے جو اداکارہ ریشم نے اپنے انٹر ویو میں کہی ہے کہ میرا دلہا فلم انڈسٹری سے نہیں ہوگا بلکہ میں کسی تعلیم یافتہ اور مہذب شخص سے شادی کروں گی ۔ویسے یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ضرورت رشتہ کے اشتہاروں میں سیاست دانوں کا کوئی سکوپ ہی نہیں ہوتا ۔کئی اشتہاروں میں لکھا ہوتا ہے کہ دوسری شادی اور بچوں والے بھی رابطہ کر سکتے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں ہر شاد ی کامیاب ہوتی ہے ۔ناکام تو بعد میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہوتا ہے ۔سیاست دان تو اس لیے بھی طلاق نہیں دیتے کہ ایک ووٹ کم ہو جائے گا ۔کچھ تو اسی طرح ایک ایک کرکے ووٹ بڑھاتے ہیں ۔ووٹوں اور ووٹیوں میں اضافہ کرنے والے ایک سیاست دان کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ بچپن ہی سے اتنے تیز تھے کہ بیک وقت دودرختوں پر چڑھ سکتے تھے ۔پاکستان میں شادی کے اشتہارات شاید اس لیے چھپتے ہیں کہ یہاں آپ لڑکی کے والد سے اس کا ہاتھ مانگتے ہیں ۔کئی مغربی ملکوں میں تو ہالی وڈکی طرح لڑکی کے خاوند سے اس کا ہاتھ مانگتے ہیں ۔انگریزی زبان میں تو ویسے بھی طلاق شادی سے پہلے آتی ہے ۔وہاں ایک معروف جوڑے کی شادی ہو جائے تو وکیلوں کا ایک جوڑ ا خوشحال زندگی گزار سکتا ہے ۔ہالی وڈ میں اگر جوڑا چرچ سے شادی کے بعد اکٹھا باہر نکلے تو سوچاجاتا ہے شادی چلنے کے چانسز ہیں۔کہتے ہیں ایک چالاک آدمی کو ایک احمق عورت بھی سنبھال سکتی ہے ‘لیکن ایک بے وقوف کو سنبھالنے کے لیے بڑی عقل مند عورت چاہیے۔سیاست دانوں کی ڈیمانڈ شاید اس لیے بھی کم ہوتی ہے کیونکہ ان کی تو بات پر بھی تب تک یقین نہیں کیا جاسکتا جب تک وہ اس کی باضابطہ تردید نہ کر دیں ۔آپ کسی عام بندے سے جان چھڑانا چا ہتے ہیں تو اسے قرض دے دیں وہ پھر آپ کو نظر ہی نہ آئے گااور اگر کسی بڑے آدمی سے یہ چاہتے ہیں تو اسے ووٹ دے دیں پانچ سال آپ کے مٹھے نہ لگے گا۔ سیاست دان کبھی وہ نقصان نہیں اٹھاتا جو وہ نہ اٹھانا چاہے ۔آج کل بندوں کو جس بات پر شک ہو کہتے ہیں اس میں کوئی سیاست ہے ۔سو شادی کے اشتہاروں میں سیاست دانوں کی ڈیمانڈ نہ ہونا بھی ایک سیاست ہے ۔کیونکہ سیاست دان تو ہمارا قوی سرمایہ ہیں اور شاید یہ سرمایہ پاکستان کرنسی میں ہے ۔اسی لیے دن بدن ان کی ویلیو کم ہو رہی ہے۔ ہم نے جب بھی تجریدی مصوری دیکھی وہ کسی مجرد کی تخلیق لگی۔سیاست بھی ہمیں تجرید ی آرٹ لگتی ہے ۔جیسے اکثر اداکار کہتے ہیں کہ ہماری تو فن سے شادی ہو چکی ہے ۔ایسے ہی سیاست دانوں کی اصل شادی تو سیاست سے ہوتی ہے ۔کم از کم سیاست کے ساتھ ان کے سلوک سے تو ہمیں یہی لگتا ہے.

(2) ووٹ وصول ہوئے