Wo Kon Tha

وہ کون تھا

جب میں اس کے قریب گیا تو اچانک اس آدمی کا قد بلند ہونا شروع ہو گیا اور چند سیکنڈ کے اندر اس آدمی کا قد اتنا بڑھ گیا کہ دوکانوں کی چھتوں سے بھی کئی فیٹ اوپر چلا گیا اور پھر اچانک اس آدمی نے میری طرف گردن موڑی۔

پیر نومبر

wo kon tha

رابعہ فاروق ،ڈیرہ اسماعیل خان
میرا نام خورشید بٹ ہے ۔میں نے اپنے گھر کی بیٹھک میں کریانے کی ایک چھوٹی سی دوکان کھولی ہوئی ہے۔لوگوں کے خیال میں ،میں کافی بزدل آدمی ہوں۔جنوں بھوتوں کے واقعات سے بہت ڈرتا ہوں۔

آج سے پانچ سال پہلے میں چوکیدار تھا۔میری ڈیوٹی شہر کے ایک بازار میں لگی تھی۔میں رات 8سے صبح8تک ڈیوٹی کرتا تھا۔ایک رات ایسا واقعہ ہوا جس کی وجہ سے میں نے نوکری چھوڑی ۔جنوری کے آخری ایام چل رہے تھے۔رات 2بجے کا وقت تھا تو مجھے تھوڑی سی اونگھ آگئی۔
ڈھائی بجے کے قریب میری آنکھ کسی گاڑی کی آواز سے کھلی۔میں نے دیکھا کہ ایک پرانے ماڈل کی گاڑی دور سے آرہی ہے۔میں چوکنا ہو کر بندوق سنبھال کر بیٹھ گیا۔
گاڑی میرے قریب سے گزری تو میں نے گاڑی اور گاڑی والے کا جائزہ لیا۔

(جاری ہے)

ایک آدمی ہیٹ اور کوٹ پہنے ہوئے تھا اور ڈرائیونگ کررہا تھا۔

ہیٹ کا اگلا حصہ کافی نیچے تھا۔اس کی آنکھیں نظر نہیں آرہی تھیں۔ گاڑی میں کوئی اور فرد سوار نہیں تھا۔تھوڑی دور جا کر اس آدمی نے گاڑی روک دی۔وہ گاڑی سے اُترا اور میری طرف دیکھ کر اُنگلی سے مجھے اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔
جب میں اس کے قریب گیا تو اچانک اس آدمی کا قد بلند ہونا شروع ہو گیا اور چند سیکنڈ کے اندر اس آدمی کا قد اتنا بڑھ گیا کہ دوکانوں کی چھتوں سے بھی کئی فیٹ اوپر چلا گیا اور پھر اچانک اس آدمی نے میری طرف گردن موڑی۔خوف کے مارے گھگی بندھ گئی تھی۔
ایسے لگتا تھا جیسے ابھی میری موت واقع ہو جائے گی۔میرے ہاتھ پیر ٹھنڈے برف ہو گئے تھے۔اس نے میری طرف دیکھا۔اس کی آنکھیں چونے کی طرح سفید تھیں۔میں نے زور دار چیخ ماری اور جلدی سے ساتھ والی گلی میں گھس گیا۔اس نے میری کندھے کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔
میں اپنا پورا زور لگا کر بھاگتا چلا گیا۔
پیچھے سے ایسی آوازیں آرہی تھیں جیسے کوئی خونخوار جانور غرارہا ہو۔ایک دفعہ آواز آئی:”تمھارے پیسے گر گئے ہیں آؤ یہ لے لو اور پھر چلے جاؤ۔“
لیکن مجھے پتا تھا کہ یہ سب دھوکا ہے۔
وہ شیطانی مخلوق مجھے اپنے شکنجے میں جکڑ نا چاہتی ہے۔
میں گلیوں میں بھا گتا رہا۔آخر کچھ منٹ بعد اپنے گھر کے دروازے پر تھا۔میں نے اِدھر اُدھر دروازے کو پیٹا۔ساتھ ساتھ”بچاؤ بچاؤ“کی آواز بھی لگائی ۔میرے ذہن میں تھا کہ اگر وہ شیطانی مخلوق میرے پیچھے آبھی گئی تو بہت سے لوگوں کو دیکھ کر بھاگ جائے گی۔
میری کوشش رائیگا ں نہیں گئی۔محلے کے کئی افراد میرا شور سن کر دروازہ کھول کر گلی میں آگئے۔میری بیوی نے جلد ہی دروازہ کھول دیا۔میں بے دم ہو کر اندر گر پڑا۔محلے داروں نے مجھے اُٹھا کر کمرے میں بستر تک پہنچایا۔میں دیوانہ وار بول رہا تھا:“گھر کا دروازہ بند کرو،جلدی کرو،جلدی کرو۔

جلدی سے گھر کا دروازہ بند کر دیا گیا۔فرید چچا نے میرے لیے چائے بنوائی۔مجھے لحاف اوڑھایا گیا۔لحاف میں بیٹھ کر میں نے گرم گرم چائے پی تو اوسان بحال ہوئے۔آخر میں نے تمام لوگوں کو اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سنایا۔تمام لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔بہر حال کچھ دیر بعد تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔میں نے شکر انے کے دو نوافل ادا کیے اور سو گیا۔اس واقعے کے بعد میں نے چوکیدار کی نوکری چھوڑ دی۔

Your Thoughts and Comments