Faalij

فالج

ایک صاحب کو ہر وقت فالج گرنے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ جب بھی کوئی ان سے ملتا تو وہ اپنے خوف کا بکھیڑا کھول لیتے۔ ایک دن وہ کسی پارٹی میں بیٹھے تھے کہ اچانک ان کا رنگ اڑ گیا اور بوکھلائے اندازمیں بولے۔ ”افسوس ! وہی ہوا جس کا مجھے ہمیشہ سے خدشہ تھا،میری دائیں ٹانگ مکمل طور پر مفلوج ہو گئی ہے۔ “ ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ہوئے صاحب کسی قدر جھنجھلا کر بولے۔” معاف کیجئے ! آپ پچھلے پانچ منٹ سے میری بائیں ٹانگ پر چٹکیاں بھر رہے ہیں۔ “

Your Thoughts and Comments