Safe use of internet

انٹرنیٹ کامحفوظ استعمال اورحفاظتی تدابیر

Safe use of internet

تحریر:ندیم اختر
میں عرصہ 22 سال سے انٹرنیٹ استعمال کررہا ہوں جس میں سے پچھلے 20 سال سے سیالکوٹ میں کمرشل بنیادوں پر انٹرنیٹ سروسز فراہمی بھی شامل ہے۔ اس عرصہ کے دوران مجھے لاتعداد ایسے افراد سے واسطہ پڑا جو انٹرنیٹ کی وجہ سے اپنا کوئی نہ کوئی مالی یا ذاتی نقصان کروا بیٹھے۔ ان میں خواتین، بچے اور کاروباری سب شامل ہیں۔اس حوالے سے میں نے کچھ اہم نکات ترتیب دیئے ہیں تاکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد نقصان سے بچ سکیں۔



انٹرنیٹ سے متعلق کچھ اہم معلومات
1) انٹرنیٹ کی ابتدا 1969 میں ہوئِی لیکن کمرشل بنیادوں پر 1995 سے انٹرنیٹ پر عام لوگوں کی رسائی شروع ہوئی ۔
2) بنیادی طور پر انٹرنیٹ ایک کمیونیکیشن کا ذریعہ ہے، سیکوریٹی فراہم کرنا اس کے مقاصد یا بنیادی ڈیزائن میں شامل نہیں۔

(جاری ہے)


3) اس پر کوئی بھی محفوظ نہیں، ملکی قوانین بھی کچھ خاص اہمیت نہیں رکھتے۔

پاکستان اور انڈیا میں بھی سائبر لاز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لئے بین الاقوامی جرائم میں مجرم کو سزا دلوانا تقریباً ناممکن ہے۔
4) انٹرنیٹ کے ذریعے کسی کی بھی مکمل ٹریکنگ ہوسکتی ہے لیکن اس میں ایجینسیوں اور سروسز فراہم کرنے والوں کی مدد ضروری ہے۔

انٹرنیٹ پر ذاتی سیکوریٹی کیلئے حفاظتی اقدامات
1) اپنے کلوز فیملی ممبرز کے علاوہ اپنی ذاتی تصاویر اور معلومات کبھی انٹرنیٹ کے ذریعے ٹرانسفر اور شیئر نہ کریں۔


2) موبائیل کیمرے سے ذاتی یا خواتین کی تصاویر فوراً کمپیوٹر پر منتقل کرلیا کرِیں۔ موبائیل آسانی سے چوری ہوسکتا ہے یا گم ہوسکتا ہے۔
3) موبائیل فروخت کرنے سے پہلے اس کو مکمل کلین کرلیں اور پھر اس کی میموری کسی بھی مووی یا گانوں سے بالکل فل کر لیں تاکہ اس میں سے سابقہ ڈیٹا مکمل صاف ہوجائے۔
4) میموری کارڈ موبائیل کے ساتھ فروخت نہ کریں۔

میموری کارڈ میں سے صاف شدہ ڈیٹا دوبارہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
5) لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کو بھی فروخت کرنے سے قبل اپنا ذاتی ڈیٹا صاف کر لیں اور پھر ساری ہارڈ ڈسک کو فلموں سے بھر دیں، تاکہ ہر سیکٹر اوور رائٹ ہوجائے اور ریکوری کا کوئی چانس نہ رہے۔
6) خصوصاً خواتین، فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر، پنٹرسٹ وغیرہ پر کوئی بھی ایسی تصویر شیئر نہ کریں جو آپ نہیں چاہتے کہ ہر کوئی دیکھ لے۔

محدود گروپ میں بھی شیئر نہ کریں، گروپ میں شامل کوئی بھی فرد آپ کی تصویر ڈاون لوڈ کرسکتا ہے اور پھر اُس کی غلطی سے آپ کی تصویر ہر کسی کی دسترس میں آسکتی ہے۔
7) انٹرنیٹ پر ایسے جرائم پیشہ لوگ موجود ہیں جو ہر وقت خواتین کی تصاویر کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ ان کو بلیک میل کیا جائے یا کم از کم ان کی تصاویر کو مختلف بلاگز میں شیئر کیا جائے اور پیسے کمائے جائیں۔


8) آن لائن سٹوریج (Google Drive, Dropbox) پر تصاویر رکھنے سے بھی حتی الامکان گریز کریں۔
9) بچوں کو اکیلے کمپیوٹر استعمال نہ کرنے دیں۔ خصوصاً سوشل میڈیا وغیرہ ۔
10) پبلک وائی فائی پر فیس بک استعمال کرنے سے گریز کریں۔ پبلک وائی فائی پر انٹرنیٹ بہت آسانی سے ہیک ہو جاتا ہے۔ آپ کی لاعلمی میں کوئی بھی آسانی سے آپ کی تمام انفارمیشن چرا سکتا ہے۔


11) خواتین کے موبائیل، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر کو مرمت کروانے سے قبل میموری کارڈ یا ہارڈڈسک نکال لیں اور کوشش کریں کہ اپنے سامنے مرمت کروائیں۔
12) خواتین اور لڑکیوں کو چاہیئے کہ اپنے ذاتی لمحات اور گھریلو محفلوں کی غیر ضروری تصویریں اور فلمیں نہ بناتی رہیں، ورنہ ان کی حفاظت کا بندوبست رکھیں۔
13) سہیلیوں کی تصاویر شیئر کرنے سے بھی گریز کریں۔


14) فیس بک پر اکثر ایسی ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں جن کی تصویر یا عنوان بہت چونکا دینے والا ہوتا ہے، ان پر کلک کرنے سے گریز کریں۔ وہ اکثر وائرس ہوتے ہیں یا صرف اشتہار بازی کا ایک ذریعہ۔

انٹرنیٹ پر عمومی اور خصوصاً کاروباری تحفظ کیلئے احتیاطی تداپیر

1) پاسورڈز کو مشکل رکھیں اور مہینے میں ایک دفعہ ضرور تبدیل کرلیا کریں۔


2) آسان پاسورڈ نہ رکھیں، اچھا پاسورڈ وہ ہے جو بے ترتیب ہو، حروف، ہندسے اور نشانات (!@#٪&*) وغیرہ اور کم از کم تیرہ حروف پر مشتمل ہو۔
3) کسی ایسی فائل، ویڈیو یا تصویر کو اوپن نہ کریں جس کے متعلق آپ کو یقین نہیں کہ یہ کیا ہے۔ فیس بک پر خصوصاً۔
4) آپ کے سروس پرووائیڈر (Yahoo, Gmail, webmail, facebook, banks, credit card) وغیرہ کو آپ کے پاسورڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اس لئے ایسی کسی ای میل پر کلک نہ کریں جس میں بظاہر سروس پرووائیڈر کی طرف سے آپ سے پاسورڈ مانگا جائے۔


5) کمپیوٹرز پر اینٹی وائرس ضرور انسٹال کریں۔
6) سب سے محفوظ کمپیوٹر وہی ہے جو انٹرنیٹ سے منسلک نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں کسی بھی کمپیوٹر کی سیکوریٹی سے متعلق مطمئن نہ ہوں۔
7) اپنے کمپیوٹر کے علاوہ کسی دوسرے کے کمپیوٹر یا ٹیبلٹ پر اپنا پاسورڈ استعمال نہ کریں۔ کرنا پڑ ہی جائے تو اول فرصت میں تبدیل کریں۔کسی دوسرے کے کمپیوٹر پر کروم کو incognito موڈ اور فائر فاکس کو پرائیویٹ براؤزنگ موڈ میں استعمال کریں، ایسا کرنے سے لائٹ چلے جانے پر براؤزر دوبارہ وہیں سے نہیں کھلے گا ۔


8) زیادہ اہم اکاونٹس پر ڈبل سیکوریٹی لگا کر رکھیں۔
9) کمپنی نیٹ ورک پر فائر وال استعمال کریں۔
10) ہوسکے تو E-Mail Encryption کی سہولت استعمال کریں۔
11) ریگولر ڈیٹا بیک اپ کی عادت بنائیں۔
12) دوسروں کی USB کبھی اپنے کمپیوٹر میں نہ لگائیں۔
13) کمپنی وائی فائی بند کردیں یا کسی نیٹ ورک ایکسپرٹ کی مدد سے انتہاَئی محفوظ بنائیں۔



اس کے باوجود اگر آپ خدانخواستہ کسی مجرم کا نشانہ بن گئے ہیں تو پریشان نہ ہوں اور فوراً کسی ماہر سے رابطہ کریں۔ خواتیں کو خصوصاً اپنے گھر کے افراد کو فوری اعتماد میں لے لینا چاہیئے، ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، جو کسی کے ہاتھوں بلیک میل ہونے سے نقصان ہے اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ گھر والوں کو علم ہوجائے تاکہ کسی بھی صورتحال کا تدارک کیا جاسکے۔

بلیک میلنگ کی اکثر دھمکیاں گھر والوں کو شامل کرلینے سے ہی دم توڑ دیتی ہیں، گھر والوں کو چاہیئے کہ اپنی بچیوں کو یہ احتیاطیں سمجھائیں اور ایسی صورتحال کو علم میں لانے کی حوصلہ افزائی کریں۔ "ایسا کیوں کیا" کہنے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان میں FIA Cyber Crime والے ایسے معاملات میں بہت زیادہ مدد کرتے ہیں، لہذا بلیک میلنگ وغیرہ کے کیسسز میں ان سے فوراً رابطہ کریں۔

تاریخ اشاعت: 2016-04-02

Your Thoughts and Comments