بند کریں
پیر نومبر

مزید مضامین

حالیہ تبصرے

Shafiq rehman 31-08-2017 11:15:33

Agr yh Sach Hai to Boht hii A6i Khabr Hai Agr fake hai to Fitty Muh

  مضمون دیکھئیے
muhammad ather 11-08-2017 14:28:02

mjhe technology sikhne ka bht shok he sir

  مضمون دیکھئیے
Syed Mudasar Hassan Shah 12-06-2017 11:15:24

good news

  مضمون دیکھئیے
الطاف جتوئ 20-03-2017 17:04:55

بھت پسندآئ 90٪

  مضمون دیکھئیے
رمیز احمد 19-01-2017 11:37:14

بہت اچھا فیچر ہے

  مضمون دیکھئیے
Muhammad Qasim 05-08-2016 19:25:31

very nice

  مضمون دیکھئیے
غیر قانونی اور اسمگل شدہ موبائل ڈیوائسوں کو بلاک کرنے کے لئے پی ٹی اے کے نئے قوانین
غیر قانونی اور چوری شدہ موبائل کی روک تھام کے لیے پی ٹی اے نیا نظام ڈیوائس آئیڈنٹی فیکیشن، رجسٹریشن اور بلاکنگ سسٹم متعارف کرا رہا ہے

گزشتہ دو سالوں کے دوران تھری جی اور فور جی ٹیلی کام سروسز کے آغاز سے پاکستان میں سمارٹ ڈیوائسز تیزی سے فروغ پا رہی ہیں تاہم ہینڈ سیٹس پر ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹی کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے ہینڈ سیٹس کی غیر قانونی طریقوں سے سمگلنگ عروج پر ہے جس کی وجہ سے سرکاری خزانہ کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاکھوں غیر قانونی اور چوری شدہ موبائل ہینڈ سیٹس، ٹیبلٹس، سیم بیسڈ رائوٹرز، لیپ ٹاپس اور غلط آئی ایم ای آئیز کی حامل ریپلیکا ڈیوائسز ملک میں استعمال اور فروخت کی جا رہی ہیں، ان غیر رجسٹرڈ ہینڈ سیٹس کے غلط استعمال کی وجہ سے مجرمانہ اور جعل سازی کی سرگرمیوں کا موبائل نیٹ ورکس کے ذریعے سراغ نہیں لگایا جا سکتا ہے، نہ ہی انہیں مانیٹر کیا جا سکتا ہے اس لئے اس کی وجہ سے عوامی تحفظ کو شدید خطرہ درپیش ہے۔


اس معاملہ کے ادراک کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمگلنگ کی حوصلہ شکنی اور موبائل ڈیوائسز کی چوری کی روکنے کے لئے جامع اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ اس سلسلے میں ملک میں ان غیر قانونی اور جعلی ہینڈ سیٹس کو بلاک کیا جا رہا ہے۔ نیا نظام ’’ڈیوائس آئیڈنٹی فیکیشن، رجسٹریشن اور بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس)‘‘ کہلائے گا اور اس نظام کے تحت ہر ڈیوائس کا مخصوص آئی ایم ای آئی ہوگا۔

اس کے علاوہ اس میں شناخت میں مدد دینے، مانیٹرنگ کرنے اور ان ڈیوائسز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے بھی طریقہ کار وضع ہوگا۔ غیر قانونی ڈیوائسز کے آئی ایم ای آئی سے سیلولر کمپنیوں اور دوسرے متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جائے گا۔
پاکستان کی ٹیلی کام ریگولیٹر ڈی آئی آر بی ایس کو سینٹرلائزڈ ایکوئپمنٹ آئیڈینٹیٹی رجسٹر‘‘ کے طور پر چلائے گی تاکہ گرے چینل کے ذریعے سمگل کی جانے والی موبائل ڈیوائسز کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

اس نظام کے تحت مختلف فہرستیں بنائی جائیں گی اور تمام ہینڈ سیٹس کی قانونی حیثیت اور مستند ہونے کی درجہ بندی کی جائے گی۔ ہر مخصوص آئی ایم ای آئی کو اس کے رجسٹرڈ استعمال کنندہ کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے ساتھ جوڑا جائے گا جو کسی مخصوص سیلولر نیٹ ورک کے ساتھ باقاعدہ طور پر منسلک ہوگا۔
پی ٹی اے کے نئے قوانین کے مطابق کمپنیاں یا افراد جو ذاتی استعمال کے لئے ڈیوائسز درآمد یا حاصل کرتے ہیں، کو اپنی ڈیوائسز کو رجسٹرڈ کرنے کی ضرورت ہوگی اور تکنیکی معیارات پر پورا اترنے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔

کوئی بھی آئی ایم ای آئی کی حامل ڈیوائس جو قانونی تقاضوں کو پورا نہ کرتی ہو، کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ اس طرح وہ ملک میں کسی بھی سیلولر نیٹ ورک کے ذریعے رجسٹر یا استعمال کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔
ڈی آئی آر بی ایس موبائل نیٹ ورک آپریٹرز (ایم این اوز) کو باقاعدگی سے تازہ ترین بلیک لسٹس کی گئی، مستثنیٰ قرار دی گئی اور نوٹیفیکیشن لسٹیں فراہم کرے گا۔

موبائل نیٹ ورک آپریٹرز ان فہرستوں کے ذریعے موبائل ڈیوائسز کو بلاک یا ان بلاک کرنے کے لئے استعمال کریں گے اور جہاں ضروری ہوگا، وہاں صارفین کو اس بارے میں مطلع کریں گے۔
ایسی آئی ایم ای آئیز جو بلیک لسٹ میں شامل ہوں گی، کو موبائل کمیونیکیشن سروسز کی رسائی حاصل نہیں ہوگی تاہم مخصوص آئی ایم ای آئیز اور ان کو استعمال کرنے والے صارفین بشمول آپریٹر کی مخصوص مستثنیٰ لسٹ میں شامل صارفین آئی ایم ای آئیز بلیک لسٹ میں ہونے کے باوجود موبائل کمیونیکیشن سروسز حاصل کرتے رہیں گے۔

نوٹیفیکیشن لسٹ موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کیلئے مخصوص ہوگی اور اس کو موبائل ڈیوائسز کے مخصوص معاملات کی نشاندہی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ متعلقہ موبائل نیٹ ورک آپریٹرز ایسی ڈیوائسز سے رابطہ کر سکیں گے اور ان کے معاملات حل کرنے میں مدد دے سکیں گے۔ اگر ڈیوائسز کے معاملات ایک مخصوص عرصہ میں حل نہیں کئے جاتے تو آئی ایم آی آئی بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔


پی ٹی اے کی طرف سے بلیک لسٹ کی گئی کوئی بھی ڈیوائس گم، چوری اور ٹائپ اپرووڈ ڈیوائسز کے سوا قابل استعمال نہیں بنائی جائے گی
پی ٹی اے کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی کوئی بھی ڈیوائسز بحال نہیں کی جائے گی ماسوائے گم شدہ، چوری شدہ اور ٹائپ اپرووڈ ڈیوائسز کے جن کی ایس او پی کے تحت ڈی آئی آر بی ایس کی جانب سے تصدیق کی جائے گی۔ قوانین کے مطابق منظور شدہ ڈیوائسز جو پاکستان میں رومنگ پر ہیں، کو عارضی طور پر ملک میں چلانے کی اجازت ہوگی۔

موبائل نیٹ ورک آپریٹرز پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر کسی بھی ٹرمینل ایکوئپمنٹ/ڈیوائس کی تنصیب کی اجازت نہیں ہوگی۔
پی ٹی اے ڈی آئی آر بی ایس کے لئے مطلوبہ ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر اور انفراسٹرکچر کی تنصیب کرے گی تاکہ موبائل فون تیار کرنے اور نیٹ ورک آپریٹرز کو پی ٹی اے کو رپورٹ کرنے کے قابل بنایا جا سکے اور چوری کی گئی ڈیوائسز سے نمٹنے کے لئے غیر قانونی ڈیوائس یا کاروبار کو روکا جا سکے۔

تاہم تمام موبائل نیٹ ورک آپریٹرز اپنے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر سسٹمز کو اپنے خرچے پر اپ گریڈ کریں گے تاکہ بلیک لسٹ میں ڈالی گئی موبائل ڈیوائسز کو بلاک کیا جا سکے اور اس کو نئے سسٹم کے قابل بنایا جا سکے۔
یہ جدید طریقہ حکومت کے محصولات میں اضافہ کرے گا اور پورے موبائل ایکو سسٹم کو فائدہ پہنچائے گا اور اس کے ذریعے اس امر کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ ڈیوائسز صرف قانونی طریقوں کے ذریعے ہی درآمد کی جا سکیں۔

اس کے علاوہ غیر قانونی، سمگل کی گئی اور چوری شدہ فونز کی فہرستیں تیار کی جا سکیں گی۔ پی ٹی اے ایسی تمام موبائل شاپس کو بند کرنے کا عزم رکھتا ہے جو ڈیوائسز پر آئی ایم ای آئیز کی تبدیلی/فلیشنگ میں ملوث ہیں۔ اسی طرح کے مانیٹرنگ سسٹمز بہت سے دوسرے ممالک میں بھی نافذ کئے گئے ہیں جس کے صارفین کے مفادات کے تحفظ کے حصول کیلئے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

یہ خبر اُردو پوائنٹ پر شائع کی گئی۔ خبر کی مزید تفصیل پڑھنے کیلئے کلک کیجئے
تاریخ اشاعت: 2017-11-11

متعلقہ مضامین