3D printing will bring artificial limbs to patients in Madagascar and Togo

تھری ڈی پرنٹر سے مڈغاسکر اور ٹوگو کے مریضوں کو مصنوعی اعضا لگائے جائیں گے

3D printing will bring artificial limbs to patients in Madagascar and Togo

تھری ڈی پرنٹنگ سے ضرورت مند مریضوں کو پروستھیٹک اور آرتھوپیڈک سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ Humanity & Inclusionنامی ایک تنظیم، جس کا پہلے نام Handicap International تھا، نے مڈغاسکر اور ٹوگو میں مریضوں کو آزمائشی طور پر تھری ڈی پرنٹڈ اعضاء لگانے شروع کیے ہیں۔ یہ پروگرام نومبر 2017 میں شروع کیا تھا اور اس کےلیے سرمایہ بیلجین ڈویلپمنٹ ایجنسی نے فراہم کیا تھا۔

آرتھوٹکس مصنوعی اعضا کو تھری ڈی سکینر اور تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے بنایا جاتا ہے۔
مڈغاسکر اور ٹوگو جیسے بہت سے کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں 15 فیصد آبادی کو مصنوعی اعضا کی ضرورت اور ان تک رسائی ہوتی ہے۔ دور دراز کے دشوار گزار علاقوں میں جہاں ماہر ڈاکٹروں کی کمی اور میٹریل مہنگا ہوتا ہے مریضوں کو کافی خراب حالت کے مصنوعی اعضا ملتے ہیں، جو مزید کئی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایسے میں تھری ڈی پرنٹر کسی نعمت سے کم نہیں۔ Humanity & Inclusion اس وقت نئی تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو ٹوگو، مڈغاسکر اور شام میں آزما رہا ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے پہلے ہلکے تھری ڈی سکینر سے کٹے ہوئے اعضا کا سکین کیا جاتا ہے۔اس کے بعد کمپیوٹر مولڈنگ سافٹ سے تھری ڈی پرنٹر سے مصنوعی اعضا پرنٹ کیے جاتے ہیں۔
اگر یہ آزمائش کامیاب ہوئی تو کم آمدن والے مزید ممالک میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے مصنوعی اعضاء فراہم کیے جائیں گے۔ تھری پرنٹر سے مریضوں کو کم قیمت میں نقائص سے پاک مصنوعی اعضا مل سکیں گے۔

تاریخ اشاعت: 2018-07-09

Your Thoughts and Comments