بند کریں
پیر جولائی

مزید مضامین

حالیہ تبصرے

طرق ہنی 22-06-2018 04:22:27

اسلام وعلیکم، آپ کی شائع کردہ ایک تحریر ۱۵ ناکام سٹارٹ اپس سے مندرہ کروڑ تک کا سفر، اس تحریر کو دوبارہ ایڈٹ کر کر کے میں نے اسے اپنے فیس بک گروپ، راہبر پر پوسٹ کیا ہے اگر آپ کو یہ ایڈٹنگ موزوں لگے تو مجھ سے اس کام کے لئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ

  مضمون دیکھئیے
اویس رضا 30-03-2018 12:41:06

مجھے شامی کے موبائل اچھے لگتے ہیں اور اردو پوائنٹ کی خبریں آسان اور اردو میں ہوتی ہیں، آسان ویپ سائیڈ ہے ٹیکنالوجی ٹپش تیمور میری ویب سائیڈ ہے

  مضمون دیکھئیے
dr anwar kama ch 06-03-2018 15:26:22

very fruit full

  مضمون دیکھئیے
Ar. Tauseef Amjad Meer. 25-01-2018 11:30:55

Its IT Technology day by day improvements, thank you for acknlowdge publicly awareness

  مضمون دیکھئیے
Shafiq rehman 31-08-2017 11:15:33

Agr yh Sach Hai to Boht hii A6i Khabr Hai Agr fake hai to Fitty Muh

  مضمون دیکھئیے
muhammad ather 11-08-2017 14:28:02

mjhe technology sikhne ka bht shok he sir

  مضمون دیکھئیے
تھری ڈی پرنٹر سے مڈغاسکر اور ٹوگو کے مریضوں کو مصنوعی اعضا لگائے جائیں گے
تھری پرنٹر سے مریضوں کو کم قیمت میں نقائص سے پاک مصنوعی اعضا مل سکیں گے۔

تھری ڈی پرنٹنگ سے ضرورت مند مریضوں کو پروستھیٹک اور آرتھوپیڈک سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ Humanity & Inclusionنامی ایک تنظیم، جس کا پہلے نام Handicap International تھا، نے مڈغاسکر اور ٹوگو میں مریضوں کو آزمائشی طور پر تھری ڈی پرنٹڈ اعضاء لگانے شروع کیے ہیں۔ یہ پروگرام نومبر 2017 میں شروع کیا تھا اور اس کےلیے سرمایہ بیلجین ڈویلپمنٹ ایجنسی نے فراہم کیا تھا۔

آرتھوٹکس مصنوعی اعضا کو تھری ڈی سکینر اور تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے بنایا جاتا ہے۔
مڈغاسکر اور ٹوگو جیسے بہت سے کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں 15 فیصد آبادی کو مصنوعی اعضا کی ضرورت اور ان تک رسائی ہوتی ہے۔ دور دراز کے دشوار گزار علاقوں میں جہاں ماہر ڈاکٹروں کی کمی اور میٹریل مہنگا ہوتا ہے مریضوں کو کافی خراب حالت کے مصنوعی اعضا ملتے ہیں، جو مزید کئی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

ایسے میں تھری ڈی پرنٹر کسی نعمت سے کم نہیں۔ Humanity & Inclusion اس وقت نئی تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو ٹوگو، مڈغاسکر اور شام میں آزما رہا ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے پہلے ہلکے تھری ڈی سکینر سے کٹے ہوئے اعضا کا سکین کیا جاتا ہے۔اس کے بعد کمپیوٹر مولڈنگ سافٹ سے تھری ڈی پرنٹر سے مصنوعی اعضا پرنٹ کیے جاتے ہیں۔
اگر یہ آزمائش کامیاب ہوئی تو کم آمدن والے مزید ممالک میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے مصنوعی اعضاء فراہم کیے جائیں گے۔ تھری پرنٹر سے مریضوں کو کم قیمت میں نقائص سے پاک مصنوعی اعضا مل سکیں گے۔

یہ خبر اُردو پوائنٹ پر شائع کی گئی۔ خبر کی مزید تفصیل پڑھنے کیلئے کلک کیجئے
تاریخ اشاعت: 2018-07-09

: متعلقہ عنوان

متعلقہ مضامین