Major science publisher bars Huawei from reviewing papers

ہواوے سائنسی مقالہ جات ریویو نہیں کر سکے گا۔ بڑے سائنسی پبلیشر نے پابندی لگا دی

Major science publisher bars Huawei from reviewing papers
ہواوے پر  امریکی حکومت کی پابندیوں کے بعد سائنسی کمیونٹی نے بھی کمپنی  کے خلاف اقدامات کرنے شروع کر دئیے ہیں۔دنیا کے بڑے سائنسی پبلیشرز میں سے ایک ، آئی  ای ای ای ، نے  ہواوے کے سائنسدانوں پر مقالہ جات کے ریویو پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ پابندی اس وقت تک لاگو رہے گی، جب تک کمپنی پر امریکی تجارتی پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ آئی ای ای ای نے  تقریباً 200 جریدوں کے ایڈیٹروں کو بتایا کہ  چینی کمپنی کے عملے کو تیکنیکی تحقیق  دکھانا کئی قانونی پیچیدگیوں کا باعث ہے۔

تاہم ہواوے ابھی بھی  آئی ای ای ای  کے ایڈیٹوریل بورڈ میں خدمات سر انجام دیتا رہے گا۔
آئی ای ای ای کے  اس اقدام کا ہواوے پر اتنا اثر نہیں پڑے گا جتنا  گوگل، انٹل اور دوسری کمپنیوں کے  ہواوے کے خلاف اقدامات کا پڑے گا۔

(جاری ہے)

ان کمپنیوں نے امریکی حکومت کے اعلان کے مطابق ہواوے کی سپورٹ مکمل طور پر بند کر دی ہے۔ گوگل نے  ہواوے کا اینڈروئیڈ  کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے کمپنی  کو ہنگامی طور پر اپنا آپریٹنگ سسٹم متعارف کرا نا پڑا۔

اسی طرح امریکی چپ ساز کمپنیوں نے ہواوے کو چپس فراہم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آئی ای ای ای کے اعلان کی وجہ سے  ہواوے کے سائنس دان  اپنی خاص مہارت یعنی مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہونے والی تحقیق سے بر وقت آگاہ نہیں ہو سکیں گے۔ہو سکتا ہے آئی ای ای ای  کمپنی پر مقالہ جات بھیجنے کی پابندی بھی لگا دے۔
تاریخ اشاعت: 2019-06-02

Your Thoughts and Comments