Microsoft just dropped 864 servers into the sea

مائیکروسافٹ نے زیرآب ڈیٹا سنٹر چلانے کے لیے 864 سرورز سمندر میں ڈال دئیے

Microsoft just dropped 864 servers into the sea

کلاؤڈ انفراسٹرکچر  مارکیٹ میں بڑے کھلاڑی کے طور پر  مائیکروسافٹ کی کوشش ہے کہ اپنی  مشینری کو اچھے طریقے سے محفوظ کرے۔ اسی لیے مائیکروسافٹ نے  سکاٹ لینڈ میں جزائر اورکنی میں سطح سمندر پر ڈیٹا سنٹر بنایا ہے۔ یہ Project Natick کا حصہ ہے، جس کا مقصد  بڑے ڈیٹا منیجمنٹ یونٹس کو ماحول کے نقصان پہنچائے بغیر آپریٹ کرنا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ  2014 میں شروع ہوا اور  فروری 2016 میں  مائیکروسافٹ نے 300 ڈیسک ٹاپ  کمپیوٹروں پر مشتمل ڈیٹا سنٹر سمندر میں گرایا۔

اس کا مقصد یہ دیکھنا  تھا کہ یہ آئیڈیا کام بھی کرے گا یا نہیں۔سمندر میں اسی جگہ موجود ایک جہاز اس ڈیٹا سنٹر کو آپریٹ کرتا رہا۔ اس کےد وسرے مرحلے میں مائیکروسافٹ نے اب 864 سرورز ، جنہیں 12 ریکس میں رکھا گیا ہے، پر مشتمل ڈیٹا سنٹر سمندر میں گرایا ہے۔

(جاری ہے)

یہ ڈیٹا سنٹر 40 فٹ لمبا ہے۔ یعنی یہ سائز میں بحری  جہاز کے کنٹینر جتنا ہے۔اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ 5 سال تک بغیر مرمت کے کام کرتا رہے۔


مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ زیرآب ڈیٹا سنٹر سے توانائی کی بچت ہوتی ہے اور ڈیٹا بھی تیز رفتاری سے ٹرانسفر ہوتا ہے۔ کمپنی کا خیال ہے کہ دنیا کی آدھی آبادی ساحل سمندروں سے 120 میل کے علاقے میں رہتی ہے۔ ایسےمیں ڈیٹا سنٹر ان کے قریب ہونے سے ڈیٹا تک رسائی تیزی سےہوگی۔ اس کے علاوہ ان ڈیٹا سنٹر کو پانی، ہوا اور دھوپ سے بنائی جانے والی بجلی سےچلایا جائے گا، اس لیے انہیں آپریٹ کرتے ہوئے بجلی کا مسئلہ بھی نہیں ہوگا۔

زیرآب ڈیٹا سنٹر کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ سنمدر کا ٹھنڈا پانی ڈیٹا سنٹر کو بھی ٹھنڈا رکھے گا، اس لیے ڈیٹا سنٹر کو ٹھنڈا رکھنے پر جو اخراجات ہوتے ہیں، وہ نہیں ہونگے۔
مائیکروسافٹ کےماہرین اس ڈیٹا سنٹر کو اگلے 12 مہینے مانیٹر کریں گے۔

تاریخ اشاعت: 2018-06-07

Your Thoughts and Comments