Putin signs bill for ‘sovereign Russian internet’

پیوٹن نے خودمختار روسی انٹرنیٹ کے بل پر دستخط کر دئیے

Putin signs bill for ‘sovereign Russian internet’
روسی صدر ولادیمیر  پیوٹن   نے بدھ کو ایک بل پر دستخط کیے ہیں جس سے انٹرنیٹ پر روسی حکومت کا کنٹرول بڑھ جائے گا۔ نئے قانون میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز کے  لیے  غیر ملکی سرورر سے ڈس کنکٹ ہونا ضروری ہے۔اس قانون میں ایک نیشنل ڈومین سسٹم  کی تیاری کا بھی کہا ہے، جس سے  عالمی انٹرنیٹ سے بند  ہونے کے باوجود روسی آن لائن ہی رہیں گے۔

اس قانون کا نفاذ 1 نومبر سے ہوگا۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس نے اس بل پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قانون صرف حکومتی سنسر شپ کو بڑھائے گا۔حکومت کی طرف سے کرائے گئے ایک  سروے میں بھی 52 فیصد روسی شہریوں نے اس قانون کو نامنظور کیا ہے۔
روس میں انٹرنیٹ کی آزادی  کی حالت پہلے ہی کافی خراب ہے۔

(جاری ہے)

روسی حکومت پہلے ہی ویب سائٹس کو بلاک  اور وی پی این کے استعمال کو محدود کر رہی ہے۔

روسی حکومت غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے والے میڈیا آؤٹ لٹس کو بھی غیر ملکی ایجنٹ قرار دے چکی ہے۔پچھلے سال روسی عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ حکومت انکرپٹڈ میسجنگ ایپلی کیشن ٹیلی گرام  پر پابندی  لگا سکتی ہے۔2018 میں فریڈم ہاؤس نے اپنی ”فریڈیم آن دی نیٹ“ رپورٹ میں روس  کو ”آزاد نہیں “ کا درجہ دیا تھا۔انہوں نے رپورٹ میں قانون سازوں کے اُن اقدامات کا حوالہ دیا جو روسیوں کو اپنی آن لائن شناخت  کو گمنام رکھنے سے روکنے کے لیے کیے جا رہے تھے۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-03

Your Thoughts and Comments