The Kilogram is finally being completely redefined

130 سال بعد کلوگرام کا فیصلہ ہوہی گیا۔ نیا کلو گرام 2019 سے استعمال ہو سکتا ہے

The Kilogram is finally being completely redefined
آخر کار دنیا کلوگرام کی نئی تعریف پر متفق ہوگئی ہے۔تقریباً  130 سال بعد وہ تاریخی لمحہ آ ہی گیا، جب دنیا  کلوگرام  کی نئی تبدیل شدہ تعریف پر متفق ہوئی ہے۔
آج سے پہلے  اور آج بھی جو کلو گرام استعمال ہوتا ہے وہ  اصل میں ’گرانڈ کے‘ (Le Grand K) یا چار سینٹی میٹر کے سلِنڈر یا بیلن  کی نقل ہے ۔ یہ سیلنڈر 90 فی صد پلاٹینم اور 10 فی صد اِرِڈیم کا بنا ہوا ہے۔

یہ لندن میں بنایا گیا تھا اور پیرس کے مضافات سوریس میں قائم انٹرنیشنل بیورو آف ویٹس اینڈ میژرس میں 1889 سے محفوظ ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اجسام میں ایٹم کم ہو سکتے ہیں یا وہ ہوا سے مالیکیول جذب کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے گذشتہ ایک صدی کے دوران ان میں مائکروگرام (ایک گرام کے دس لاکھویں حصے) تک کی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔

(جاری ہے)

اب  چاہے تبدیلی ایک گرام کے دس لاکھویں حصے جتنی ہی ہو، اس سے دنیا بھر کا معیار تو متاثر ہو تا ہے۔عام ناپ تول میں تو اس فرق کا پتا لگانا ناممکن ہے  لیکن حساس ناپ تول  میں یہ فرق بھی کافی ہے۔اس لیے  دنیا بھر  کے ماہرین کلو گرام کے نئے معیار  کی تلاش میں تھے۔
اب 60 ممالک کےنمائندوں نے کلوگرام کی نئی تعریف پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

کلو کے نئے نظام منظوری پیرس کے مغرب میں واقع شہر ورسیلیس میں منعقدہ ’جنرل کانفرنس آن ویٹس اینڈ میژرس‘ یا اوزان اور پیمائش کے عمومی اجلاس میں دی گئی۔
نئی تعریف  میں کلوگرام کے لیے قدرتی مظہر کو استعمال کیا گیا ہے، اس لیے اس میں تبدیلی کا بھی کوئی امکان نہیں۔ اب کلوگرام کو پلانک کونسٹنٹ (h)  سے ظاہر کیا جائے گا۔ اس کی قیمت 6.626 070 15 × 10–34 kg m2 s–1 ہے۔


آئندہ کلو کی پیمائش کے لیے ایک آلہ استعمال کیا جائے گا جسے  کِبل یا واٹ بیلنس کا نام دیا گیا ہے۔ یہ میکانیکی اور برقی مقناطیسی توانائی کو بروئے کار لاکر حساب کرے گا۔چونکہ کلو کے اس باٹ کا کوئی طبعی وجود نہیں ہوگا اس لیے اس میں کسی رد و بدل کا کوئی امکان بھی نہیں ہوگا۔اس کی مدد سے سائنسدان دنیا بھر میں کہیں بھی کلو کے باٹ کی صحیح جانچ کر سکیں گے۔

انھیں فرانس میں محفوظ بٹوں کی ضرورت پیش ہی نہیں آئے گی۔برطانیہ میں اوزان کی نگرانی کے ادارے، نیشنل فزیکل لیبارٹری میں شبعۂ تحقیق کے سربراہ ٹیوڈور جیسن کا کہنا ہے کہ ’ایس آئی کی ازسرِ نو تعریف سائنسی پیمائش میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔‘ان کے بقول ایس آئی کی منظوری اور اس پر عملدرآمد سے حد درجہ صحیح پیمائش ہو سکے گی جو سائنس کو زیادہ مستحکم بنیاد فراہم ہو جائے گی۔
کلوگرام کے علاوہ ایمپیئر، کیلون اور مول کی تعریفیں بھی تبدیل ہوئی ہیں۔ایمپیئر کی تعریف اب  ایلیمنٹری الیکٹریل چارج (e) اور کیلون کی   Boltzmannکونسٹنٹ (k) سے بیان کیا گیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2018-11-17

Your Thoughts and Comments