The Pentagon forces military personnel to turn off GPS on its smartphones

پینٹا گون نے امریکی فوجیوں کو سمارٹ ڈیوائسز میں جیولوکیشن بند رکھنے کا حکم دے دیا

The Pentagon forces military personnel to turn off GPS on its smartphones

امریکی حکومت نے امریکی ملٹری سے تعلق رکھنے والے افراد کو سمارٹ فونز، سمارٹ واچز اورجی پی ایس کی صلاحیت کی حامل دیگر ڈیوائسز میں لوکیشن سروسز کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ پابندی امریکی مسلح افواج کے تمام ”آپریشنل ایریاز“ میں عائد کی گئی ہے۔
حال ہی میں ایک فٹنس ایپلی کیشن Strava نے اپنے صارفین کا ہیٹ میپ (heatmap) جاری کیا ہے۔ یہ میپ صارفین کی سرگرمیوں پر بنایا گیا تھا۔

اس ہیٹ میپ نے امریکا سے باہر امریکی فوجیوں کے مقامات کو ظاہر کر دیا ہے۔امریکا کے حوالے اس ایپ کی سرگرمیاں کا صارفین کی لوکیشن ظاہر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوںکہ امریکی صارفین میں عام لوگوں اور فوجیوں کے مقامات کا الگ الگ تعین کرنا کافی مشکل ہے لیکن ہیپ میپ میں اس ایپ کے مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں صارفین کی لوکیشنز کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اب ظاہر ہے کہ افغانستان میں اس ایپ کے صارفین صرف فوج سے تعلق رکھنے والے امریکی ہی ہوسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل میپ سے امریکا کے بہت سے خفیہ فوجی اڈے ہٹا دئیے گئے ہیں لیکن اس ایپ کے ہیٹ میپ کے ڈیٹا سے ان کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ امریکا سے باہر کے ہیٹ میپ میں جوگنگ کرنے والے فوجیوں کی وجہ سے بہت سے فوجی اڈوں کے اندرونی نقشے کا بھی اندازہ ہوجات اہے۔


پینٹا گون نے اس حوالے سے سوچ بچار کرنے کے بعد موبائل میں جی پی ایس فنکشن استعمال کرنے کو سیکورٹی رسک قرار دیا ہے کیونکہ اس کی معلومات کو امریکا کے دشمن استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر ایپ کے ڈویلپر معلومات کو لیک نہ بھی کریں تب بھی یہ خطرناک بات ہے۔
امریکی حکومت نے فوج سے تعلق رکھنے والے افراد کو سمارٹ ڈیوائسز کو جیو لوکیشن فنکشن غیر فعال کر کے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

The Pentagon forces military personnel to turn off GPS on its smartphones
تاریخ اشاعت: 2018-08-07

Your Thoughts and Comments