بند کریں
جمعرات جولائی

مزید مضامین

حالیہ تبصرے

طرق ہنی 22-06-2018 04:22:27

اسلام وعلیکم، آپ کی شائع کردہ ایک تحریر ۱۵ ناکام سٹارٹ اپس سے مندرہ کروڑ تک کا سفر، اس تحریر کو دوبارہ ایڈٹ کر کر کے میں نے اسے اپنے فیس بک گروپ، راہبر پر پوسٹ کیا ہے اگر آپ کو یہ ایڈٹنگ موزوں لگے تو مجھ سے اس کام کے لئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ شکریہ

  مضمون دیکھئیے
اویس رضا 30-03-2018 12:41:06

مجھے شامی کے موبائل اچھے لگتے ہیں اور اردو پوائنٹ کی خبریں آسان اور اردو میں ہوتی ہیں، آسان ویپ سائیڈ ہے ٹیکنالوجی ٹپش تیمور میری ویب سائیڈ ہے

  مضمون دیکھئیے
dr anwar kama ch 06-03-2018 15:26:22

very fruit full

  مضمون دیکھئیے
Ar. Tauseef Amjad Meer. 25-01-2018 11:30:55

Its IT Technology day by day improvements, thank you for acknlowdge publicly awareness

  مضمون دیکھئیے
Shafiq rehman 31-08-2017 11:15:33

Agr yh Sach Hai to Boht hii A6i Khabr Hai Agr fake hai to Fitty Muh

  مضمون دیکھئیے
muhammad ather 11-08-2017 14:28:02

mjhe technology sikhne ka bht shok he sir

  مضمون دیکھئیے
یہ ویب سائٹ آپ کو بتاتی ہے کہ کس ملک میں بغیر ویزہ کے سفر کیا جا سکتا ہے
جلد ہی یہ ویب سائٹ بتائے گی کہ رہائش، کام، پڑھائی یا شہریت حاصل کرنے کے لیےکونسا ملک بہتر ہے

دنیا کے کچھ ممالک دوسرے ممالک کے لوگوں کے اپنے ملک میں داخلہ کے حوالے سے کافی سخت ہیں لیکن بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جو سیاحت کے فروغ یا بہت سی دوسری وجوہات کی بنا کر دوسرے ممالک کے لوگوں کو بغیر ویزہ اپنے ملک میں آنے کی اجازت دیتے ہیں۔ بہت سے ممالک اپنے ملک آنے والے ہر شخص کو ائیر پورٹ پر ویزہ دے دیتے ہیں۔
ویزہ ڈی بی ایک ایسی ویب سائٹ ہے جس سے صارفین ایسے تمام ممالک کے متعلق جان سکتےہیں، جہاں بغیر ویزہ کے سفر کیا جا سکتا ہے۔

یہ ویب سائٹ صارفین کو یہ بھی بتاتی ہے کہ کس ملک میں وہ بغیر ویزہ کتنی مدت قیام کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سائٹ سے اس ملک میں موجود اور اپنے ملک کی سہولیات جیسے قیام، ٹرانسپورٹ یاغذا وغیرہ کی قیمت کا تقابل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ویب سائٹ ایسے ممالک کے بارے میں بھی بتاتی ہے جہاں صارفین آرام سے کوئی سٹارپ اپ یا آزمائشی کمپنی بنا سکتے ہیں۔ جلد ہی یہ ویب سائٹ بتائے گی کہ رہائش، کام، پڑھائی یا شہریت حاصل کرنے کے لیےکونسا ملک بہتر ہے۔
یہ سائٹ ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ اس کے بنانے والے مختلف حکومتی ویب سائٹس اور تھرڈ پارٹی سورس سے ڈیٹا شامل کر رہے ہیں۔ لہذا اس ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کی متعلقہ سفارت خانے سے ایک بار تحقیق لازمی کرنی چاہیے۔

یہ خبر اُردو پوائنٹ پر شائع کی گئی۔ خبر کی مزید تفصیل پڑھنے کیلئے کلک کیجئے
تاریخ اشاعت: 2017-08-10

: متعلقہ عنوان