حیسکو عید کے ایام میں بھی شہریوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی

حیدرآباد شہر لطیف آباد،قاسم اباد کے کئی علاقوں میں نماز عید کے دوران بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جولائی2021ء)حیسکو عید کے ایام میں بھی شہریوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی، حیدرآباد شہر لطیف آباد،قاسم اباد کے کئی علاقوں میں نماز عید کے دوران بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی جبکہ جمعہ کو عید کے تیسرے روز لوڈ شیڈنگ کے معمول کے پروگرام پر مکمل عمل کیا گیا۔وفاقی حکومت وزارت توانائی اور حیسکو انتظامیہ نے عید کے ایام میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی کا اعلان کیا تھا لیکن کئی علاقوں میں نماز عید بھی گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کے بریک ڈائون میں ہوئی، گذشتہ ہفتے شہر لطیف آباد قاسم آباد سمیت ضلع میں ایک اندازے کے مطابق 100 سے زائد ناکارہ پھٹنے والے ٹرانسفارمر اتارے ہوئے تھے عید کے روز تک ان میں سے چند کی مرمت کر کے لگائے جا سکے تھے اس لئے صورتحال پہلے ہی ابتر تھی عید کے ایام میں اضافی وسائل کے ساتھ بھی اس میں کوئی قابل ذکر بہتری نہ لائی جا سکی اور بجلی کا تعطل اور آنکھ مچولی جاری ری کئی ٹرانسفارمرز سے آئل لیک ہونے کی شکایات کئی روز سے حیسکو کے پاس شکایات ہیں جن کو تبدیل نہیں کیا جاسکا،اکبری مسجد لطیف آباد نمبر 8 کے پاس جمعرات کو جس ٹرانسفارمر کے پھٹنے سے بھاری جانی نقصان ہوا اس سے تیل لیک ہونے کی حیسکوکو کئی روز پہلے شکایت کی گئی تھی،اس کے قریب دو اور ٹرانسفارمر نصب ہیں علاقہ مکینوں کے مطابق چند دن پہلے وہ بھی اچانک کھمبے سے نیچے گر گئے تھے،اس کے پاس ہی بجلی کا ایک کھمبا جس سے بجلی کی طاقتور رو گزر رہی ہے زمین بوس ہونے کو ہے مگر شکایات کے باوجود حیسکو اہلکاروں نے اسے درست نہیں کیا،ٹرانسفارمرز کی مرمت کے کاروبار کو جاننے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے تو زیادہ ٹرانسفارمر بہت پرانے ہیں جن کی بار بار مرمت ہو چکی ہے اور وہ ناکارہ ہو چکے ہیں دوسرے 80 فیصد خراب ٹرانسفارمرز کی مرمت شہریوں سے ہزاروں کا چندہ جمع کر کے پرائیویٹ ورکشاپوں سے کرائی جاتی ہے،بعض با اثر حیسکو اہلکاروں اور حیسکو کے سابق ملازمین کا ان ورکشاپوں سے برسوں سے مستقل حساب کتاب ہے،ان ورکشاپوں میں ٹرانسفارمرزکی مرمت میں ناقص مٹیریل استعمال کیا جاتا ہے جو ان کے پھٹنے کا سبب بنتا ہے،اکبری مسجد کے قریب جمعرات کو جو ٹرانسفارمر پھٹا، مرمت کے بعد نصب کر کے ابھی اس میں برقی رو چھوڑی ہی گئی تھی کہ وہ پھٹ گیا اسی لئے حیسکو اہلکار بھی زد میں ا ٓگئے،حیسکو انتظامیہ ہی نہیں وزارت توانائی اور واپڈا بھی حیدرآباد کے معصوم بچوں سمیت بیگناہ شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہیں۔

(جاری ہے)

عائشہ پارک یونٹ نمبر 8 لطیف آباد کے قریب نصب ٹرانسفارمر سے آئل گرنے پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں نے ٹائر جلا کر احتجاج کیا، حیسکو اور واپڈا حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کی، شہری حیدرآباد کے منتخب نمائندوں اور وفاقی حکومت میں اتحادی ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی قیادت سے بھی سخت نالاں ہیں اور اسے بھی حیدرآباد میں بجلی کے سنگین بحران اور حادثات کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں کیونکہ ان دونوں جماعتوں کے رہنماء حیسکو سے اپنے لئے تو مراعات اور فوائد حاصل کرتے ہیں لیکن شہریوں کے مسائل کے لئے سنجیدگی سے حیسکو پر دبائو ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

Your Thoughts and Comments