بند کریں
خواتین مضامینرنگ و آہنگملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں
ملکہ ترنم نور جہاں کو قدرت نے ہرد نیاوی نعمت سے نوازا تھا۔ وہ جب شوبز میں آئیں تو انہوں نے نو عمری میں ہی شہرت اور مقبولیت حاصل کر لی۔
ملکہ ترنم نور جہاں کو قدرت نے ہرد نیاوی نعمت سے نوازا تھا۔ وہ جب شوبز میں آئیں تو انہوں نے نو عمری میں ہی شہرت اور مقبولیت حاصل کر لی ۔ جلد ہی انہوں نے برصغیر کو اپنی جادو بھری آواز کا اسیر کر لیا۔ انہوں نے پچاس سال تک اپنی خوبصورت آواز کا جادو جگائے رکھا۔ نور جہاں کو بچپن سے ہی سریلے پن کی بناء پر اہمیت دی جاتی تھی۔ وہ موسیقی کا تقریباََ ہر راگ گا سکتی تھی۔ مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کہتے تھے کہ وہ گھنٹوں ایک ہی سر پر قائم رہ سکتی تھیں۔ مشکل سے مشکل گانا بھی ان کے لئے آسان تھا۔انہوں نے اس قدر ریاض کیا تھا کہ آج کے دور میں تصور بھی محال ہے۔
نور جہاں جب پیدا ہوئی تو ان کا نام ان کے والدین نے اللہ وسائی رکھا۔ ان کے خاندانی رواج کے مطابق ان کو موسیقی کی تعلیم دلانے کے لئے استاد غلام محمد کے سپرد کر دیا گیا۔ نور جہاں بچپن سے ہی سُر میں تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب پہلی بار استاد نے ان کا امتحان لیا تو ان کی آواز کی لوچ اور مٹھاس محسوس کر کے حیران رہ گئے۔ حیرت انگیز طور پر نور جہاں کو بھی سُر اور لے سے جنون کی حد تک شغف تھا۔ جہاں دوسرے بچے اپنا وقت کھیل کود میں گزارتے تھے وہاں نور جہاں گھنٹوں ریاض کیا کرتی تھیں۔ یہ ان کے ریاض کی بدولت ہی تھا کہ محض سات سال کی عمر میں سٹیج پر گانے کے قابل ہو گئیں۔انہوں نے اس زمانے کی تمام مشہور گانے والیوں کے گیت یاد کر لئے تھے۔ وہ سٹیج پر ان گیتوں کو گاتیں اور لوگوں سے داد وصول کرتیں۔خاص طور پر احسان دانش کی نعت ”میرے مولا بلا لے مدینے مجھے“ گاتیں تو لوگ وجد میں آجاتے۔ اس دور کی مشہور گلوکاراوٴں میں مختار بیگم اور اختری بائی فیض آبادی کے گیت گانے میں انہیں مہارت ہو گئی تھی۔ اس بات کا کریڈٹ ان کے استاد غلام محمد کو جاتا ہے ۔ ایک موقع پر مختار بیگم نے بھی ان کا گانا سنا تو حیران رہ گئیں۔
نور جہاں نے کلکتے کے سٹیج پر اپنی بہنوں کے ساتھ گانے کا سلسلہ شروع کیاتو لوگ دور دور سے ان کی آواز سننے کے لئے چلے آتے۔ سیٹھ سکھ لال کر نانی کا کلکتہ میں شوبز کے میدان میں سکہ چلتا تھا۔ انہوں نے نورجہاں کو اپنے عملہ میں شاملہ کر لیا اور ان کو پہلی بار نور جہاں کا نام دیا گیا۔ اس سے پہلے نور جہان کو اللہ وسائی کے نام سے ہی پکارا جاتا تھا۔
اسی دور میں نور جہاں کو برصغیر کی پہلی پنجابی فلم ” شیلا عرف پنڈ دی کڑی“ میں اپنی دونوں بہنوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ فلم سپر ہٹ ہوئی۔ اسی کمپنی کی دوسری فلم ” مصر کا ستارہ“ میں بھی نور جہاں کو شامل کیا گیا۔ اب نور جہاں کی فنی زندگی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا تھا۔ نور جہاں اپنی بہنوں کیساتھ گائے گئے نغمے برصغیر پاک وہند میں مشہور ہو گے تھے۔ نور جہاں کو پنجابی فلموں کے ساتھ ہی اردو فلمیں بھی ملنے لگی تھیں۔ ان فلموں میں فخر اسلام ، ہیر رانجھا، ہیر سیال، مسٹر 420 ، تارن ہار اور ناممکن شامل ہیں۔ یہ ابتدائی فلمیں نا کام رہی تھیں تاہم ان میں ایک فلم ”سسی پنوں“ سپرہٹ ہوئی تھی۔
لاہور میں سیٹھ پنچولی کاسٹوڈیو تھا۔ ان کی فلم ”گل بکاوٴ لی“ میں نور جہاں کو شامل کر لیا گیا۔ اس دور میں فلم اداکاروں کو معاوضہ نہیں دیا جاتا تھا بلکہ ماہانہ تنخواہ پر ملازم رکھا جاتا تھا۔ فلم گل بکاوٴلی کے موسیقار ماسٹر غلام حیدر تھے۔ ماسٹر جی کو نو ر جہاں کی آواز بے حد پسند ائی۔ اس فلم میں نور جہاں کا گایا ہو ا گانا”شالا جو انیاں مانیں“ بے حد مشہور ہوا۔
1941 میں نور جہاں نے پنچولی آرٹ پکچرز کی ایک اور پنجابی فلم میں کام کیا۔ اس فلم کی موسیقی بے حد مقبول ہوئی۔ نور جہاں نے اس فلم میں سائیڈ ہیروئن کا کردارادا کیا تھا اور ماسٹر غلام حیدر کے ساتھ مل کر ڈوئٹ گانے بھی گائے تھے۔ پنچولی پکچرز کے ساتھ نورجہاں کا معاہدہ ختم ہو گیا تو نورجہاں نے مختلف شہروں کے سٹیج پروگرامز میں حصہ لینا شروع کر دیا۔
اس وقت نورجہاں کو فلموں میں کام کرنے کا ایک اور موقع ملا جب پنچولی آرٹ پکچرز نے ایک روز فلم ” خاندان“ شروع کی اور اس کے ہدایت کار کے طور پر شوکت حسین رضوی کا انتخاب کیا گیا۔ شوکت حسین رضی کو کوئی ہیروئن پسند نہ آتی تھی کہ ان کی نظر انتخاب نور جہاں پر جا ٹھہری۔ نورجہاں کو اس فلم کی ہیروئن منتخب کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی شوکت حسین رضوی کے ساتھ ان کے عشق کا بھی آغاز ہو گیا جو کہ بعد میں دونوں کی شادی پر منتج ہوا۔ اس فلم کے مصنف امتیاز علی تاج تھے۔ ” خاندان“ نمائش کے پہلے دن سے ہی سپرہٹ ثابت ہوئی اور نور جہاں کا نام پورے پرصغیر میں پھیل گیا۔نورجہاں اور شوکت حسین کو اپنے عشق کی یہ قیمت دینی پڑی کہ ان کو کمپنی کی ملازمت سے نکال دیا گیا۔ شوکت حسین نے نورجہاں کے ساتھ بمبئی کا رخ کیا اور بمبئی میں نورجہاں کووہ عروج نصیب ہوا کہ وہ ملک کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ہیروئن بن گئیں۔ اس کے بعد ان کی فلمیں ہٹ ہوتی رہیں اور وہ مقبولیت کے ریکارڈ توڑتی رہیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئیں اور پھر پلٹ کر بمبئی کی طرف نہیں دیکھا۔ 1982 میں ایک بار بمبئی گئیں تو ان کی مقبولیت پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی تھی۔ دلیپ کمار اور نوشاد جیسے فنکار ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے۔ ان کو بھاری معاوضوں پر بھارت میں گانے کی پیشکش ہوتی رہی لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور پاکستان آگئیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے فلم انڈسٹری کی واحد تاقابل تسخیر گلوکارہ کا مقام حاصل کیا۔
ان کو اردو اور پنجابی گانوں اور گفتگو پر کمال حاصل تھا۔ وہ اہل زبان کی طرح اردو اور ٹھیٹھ لہجے میں پنجابی بول سکتی تھیں۔ ان کے گائے ہوئے گیت برصغیرکے عوام کو ہمیشہ یاد رہیں گئے۔
ملکہ ترنم نور جہاں محب وطن خاتون تھیں۔ 1965 کی جنگ میں وہ اپنی بیمار بچی کو گھر چھوڑ کر فوجی بھائیوں کے لئے نغمہ ریکارڈ کروانے ریڈیوسٹیشن جاتی رہیں۔ آخری عمر میں وہ بیمار ہوئیں تو ان کی علالت کا سلسلہ طویل ہوتا چلا گیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے ان کے گھر جا کر ا ن کی عیادت کی ۔ ان کی صاحبزادی حنا اور داماد حسن سردار نے ان کی بہت خدمت کی لیکن وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔ جس روز ان کی وفات ہوئی۔ رمضان کی 27 ویں تاریخ تھی۔
اردو فلموں میں دھاک بٹھانے کے بعد انہوں نے پنجابی فلموں کو اپنے گانوں کے ذریعے بے حد عروج دیا تھا۔ پچیس سے تیس سال کا یاک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ جب ہر فلم کی کامیابی کے لئے نورجہاں کے گیت ضروری خیال کئے جاتے تھے۔ ملکہ ترنم کی وفات کا صدمہ پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا۔ تمام دنیا میں جہاں جہاں ان کے فن کے قدردان موجود ہیں انہوں نے ملکہ ترنم نورجہاں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے