بند کریں
خواتین مضامینرنگ و آہنگاُمِ کلثوم
اُمِ کلثوم
اُمِ کلثوم کو 1975 میں اس کی عدم موجودگی میں اسرائیل کی عدالت نے سزاے موت سنائی ۔ یہ خبر پڑھنے والوں کے ذہین میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا اُمِ کلثوم کوئی مجاہدہ تھی۔۔۔
اُمِ کلثوم کو 1975 میں اس کی عدم موجودگی میں اسرائیل کی عدالت نے سزاے موت سنائی ۔ یہ خبر پڑھنے والوں کے ذہین میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا اُمِ کلثوم کوئی مجاہدہ تھی جس نے کوئی جنگی یا چھاپہ مار کرروائی کر کے اسرائیل کو جانی یا مالی نقصان پہنچایا تھا لیکن یہ جان کر انہیں حیرت ہوئی ہو گئی کہ اُمِ کلثوم کا ایسی کسی سرگرمی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس نے شاید زندگی میں کوئی ہتھیار نہ چلایا اور نہ ہی کبھی کسی جنگی مہم میں حصہ لیا۔
اُمِ کلثوم مصر کی ایک گلوکارہ تھی جس کی آواز سن کر عرب مست ہو جایا کرتے تھے۔ وہ عرب دنیا کی ملکہ ترنم تھی۔ اس کے گائے ہوئے حریت پر مبنی نغموں نے عرب دنیا کے جذبات اس طرح بھڑکائے کہ اسرائیلی عدالت نے اُمِ کلثوم کی غیر حاضری میں اسے موت کی سزا سنا دی جو عربوں کی نظر میں اُمِ کلثوم کی تعریف کے برابر تھی۔
عربوں کو اُمِ کلثوم کی آواز سے کتنی محبت تھی اس کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ اُمِ کلثوم کی وجہ سے معمر قذافی نے اپنا فوجی انقلاب ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جس روز انقلاب کو عملی شکل دینے کے لئے مقرر کیاگیا تھا اس روزبیروت میں اُمِ کلثوم کا کنسرٹ تھا۔ عربوں کو اُمِ کلثوم کی آواز سے جو محبت وشیفتگی تھی اس کے پیش نظر خدشہ تھا کہ اُمِ کلثوم کے کنسرت کے روز لایا جانے والا انقلاب لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا چنانچہ انقلاب کی تاریخ ایک روز آگے کر دی گئی۔
اُمِ کلثوم 1904 کے لگ بھگ مصر کے ایک پسماندہ گاوٴں میں پیدا ہوئی جو دریائے نیل کے ڈیلٹا میں واقع تھا۔ اس کا گلا شروع سے نہایت ہی سریلا تھا۔ وہ ذرا بڑی ہوئی تو اس کے والدین نے اسے کپاس چننے کیلئے بھیجنا شروع کر دیا۔ وہ کپاس چنتے ہوئے گنگناتی تو لوگ مسحور ہو کر اس کی آواز سنتے۔ اس کے والد گاوٴں کی مسجد کے امام تھے اور جنگی نغمے گانے کے لئے مشہور تھے ۔ جب انہیں اُمِ کلثوم کی مدھر آواز سے آگاہی ہوئی تو انہوں نے خود اسے گانے کی تعلیم دینا شروع کر دی اور اسے اپنے ساتھ گانے کے لئے لے جانا شروع کردیا۔ اس طرح صرف دس سال کی عمر میں مقامی سطح پر اُمِ کلثوم خاصی مقبول ہو گئی۔
1923 میں اُمِ کلثوم اپنے خاندان والوں سمیت قاہرہ آگئی اور باقاعدہ طور پر گانا شروع کر دیا۔ محض پانچ سال کے مختصر عرصے میں اُمِ کلثوم مصر کی مشہور ترین گلوکارہ بن گئی۔ آئندہ آنے والے ادوار میں اس کی شہرت روز بروز بڑھتی رہی۔ پورے عالم عرب میں اسے دیومالائی شہرت حاصل ہو گئی۔ اس نے محض عام روایتی اور رومانی نغمے گانے پر اکتفا ہ کیا بلکہ ایسے گیت گائے جن میں عرب کی عظمت کے گن گائے گئے تھے، حریت پسندوں کو سلام پیش کیا گیا تھا اور عرب جوش کو ابھارا گیا تھا۔ ایسے ہی نغموں کی وجہ سے ایک اسرائیلی عدالت نے اسے سزائے موت سنانے کا احمقانہ فیصلہ کیا۔
1975 ء میں اُمِ کلثوم کا انتقال ہوا تو اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سرکاری سطح پر سوگ منایا گیا۔

(1) ووٹ وصول ہوئے