Musarrat Ki Talash By Wazir Agha

مسرت کی تلاش - وزیر آغا

Musarrat Ki Talash in Urdu
اِنسانی تاریخ و تمد ّن کے پس منظر میں َ ّمسرت کی تلاش مختلف مرا ِحل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ پہلی منزل ا ّولیں قبائل کی ُوہ ز ِندگی ہے جس میں خار ِج و با ِطن ‘ فرد و جماعت ‘ خواب و حقیقت کا تضاد پورے َطور سے ظاہر نہیں ُہوا تھا۔ ز ِندگی میں ایک بے َلوث اِنہماک تھا… ّبچوں کی سی معصو ّمیت ‘ جو ہر نئے تجربے سے دامن بھر لینے کے لیے بے قرار رہتی تھی۔ ز ِندگی شعبوں اَور خلیوں میں نہیں بٹی تھی۔ اَور‘ نہ کہیں اکیلے َپن کی اُداسی تھی۔ اِنسان َبیک َوقت دیوی دیوتا ‘ شجر‘ ُپھول‘ ندی‘ پہاڑ اَور چاند ِستاروں سے ہم کلام ہو سکتا تھا۔ اَشیا کے باہمی ربط و تسلسل کا احساس اُس کی قو ّت ِ مشاہدہ کی کمزوری کا نتیجہ نہیں تھا کیونکہ اُس زمانے کا آرٹ‘ اِنسان کی ُجزو بینی اَور تیز نگاہی کا سب سے بڑا شاہد ہے۔ اِس احساس کا ماخذ ایک قوی تر جذبہ ہے … ز ِندگی کی َوحدت و یکتائی کا تصو ّر…یہ احساس کہ ایک ہی َمو ِج بہار نے سینکڑوں ُپھول ِکھلائے ہیں؛ ایک ہی جیون جیوتی سے لاکھوں د ِیپ روشن ہوئے ہیں؛ فطرت ایک جیتے جاگتے ‘ گاتے ناچتے قبیلے کی طرح تھی جس میں کوئی درجہ بندی ‘ کوئی چھوٹے بڑے کا فرق نہ تھا۔چنانچہ دُوسری مخلوقات کے مقابلے میں اِنسان کو کوئی شرف اَور اِمتیاز حا ِصل نہیں تھا۔ ہر برادری کسی حیوان سے منسوب ہوتی تھی اَور ہم نسلی کا قوی احساس‘ سماجی ر ِشتوں کی مضبوطی کا ضامن تھا۔ َموت کا تصو ّر بھی َپیدا نہیں ُہوا تھا۔ مرنے والے اپنے گھروں میں دیوی دیوتا بن کر رہتے تھے؛ نہیں تو ہر تیوہار پر اُن کی ُروحیں پاتال سے لوٹ آ ِتیں‘ دعوتوں میں شرکت کر ِتیں‘ ناچ اَور رسموں ر ِیتوں میں شا ِمل ہو ِتیں۔ اِس ز ِندگی میں ایک قسم کی ُیکسوئی تھی… ربط و ہم آہنگی کا احساس جو اِنسان کو اُس کے سماج سے اَور ُ کل کائنات سے َبیک َوقت منسلک رکھتا تھا۔ اِسی لیے ُ ُحصو ِل َ ّمسرت میں شعوری کوشش کی ّکیفیت اَور کاو ِش و طلب کا اَنداز َپیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے عرصے تک اِنسان اِسی حالت میں رہا۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ زمانہ‘ اِنسان کی لکھی ُہوئی تاریخ سے کہیں زیادہ طویل رہا ہو گا ۔

Chapters / Baab of Musarrat Ki Talash

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6