سینٹ اجلاس ،چیئرمین سینٹ کا حکومتی وزراء سمیت ممبران کی اجلاس میں عدم شرکت پر اظہار برہمی

جمعرات جنوری 12:53

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 1جنوری 2015ء) سینٹ کے اجلاس میں چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری کی حکومتی وزراء سمیت ممبران کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار‘ پیپلزپارٹی اور اے این پی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی احتجاج کیا۔ پیپلزپارٹی نے تجویز پیش کی کہ صدارتی خطاب پر ممبران کی غیر حاضری پر اجلاس کو پیر تک ملتوی کیا جائے۔

چیئرمین سینٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر مستقبل میں ایوان میں اراکین کی تعداد کم ہوئی اور حکومت نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو رولنگ دینے پر مجبور ہوجاؤں گا۔ جمعرات کے روز سینٹ کا اجلاس چالیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا تو ایوان میں تلاوت کلام پاک کے بعد صرف دو اراکین موجود تھے جس پر چیئرمین سینٹ نے کہاکہ یہ انتہائی غیر سنجیدگی اور دکھ کی بات ہے کہ سینٹ کے اجلاس میں حکومت کی طرف سے اہم معاملے پر جوکہ صدارتی خطاب پربحث ہے‘ کیلئے یہ اجلاس بلایا گیا ہے لیکن تلاوت کلام پاک کے بعد کوئی بھی رکن سینٹ میں موجود نہیں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ حکومت اس ایوان کو چلانے میں سنجیدہ کیوں نہیں ہیں۔ میں آدھا گھنٹہ اپنے چیمبر میں بیٹھ کر اراکین کا انتظار کرتا رہا ہوں لیکن کوئی ممبر ایوان میں نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کو روایت بنالیا گیا ہے۔ یہ پریکٹس اگر مستقبل میں بھی اسی طرح جاری رہی تو میں پھر سخت ایکشن لینے پر مجبور ہوجاؤں گا۔ بحیثیت چیئرمین سینٹ میرا دل تو چاہتا ہے کہ اپنے اختیارات کا استعمال کروں لیکن میں ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہتا۔

اے این پی کے سینیٹر زاہد خان نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ سیشن بلایا گیا ہے اور صدارتی خطاب پر بحث ہونی ہے لیکن ان کا رویہ ہی غیر جمہوری ہے۔ ممبران سینٹ بھی ایوان میں نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریکوزیشن حکومت کی طرف سے کرکے اجلاس بلایا گیا ہے ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایوان میں ممبران کی حاضری یقینی بنائی جائے۔

حکومتی ممبران اور وزراء سینٹ میں نہ آکر ہاؤس کی توہین کررہے ہیں۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رضا ربانی نے کہا کہ اجلاس دس بجے ہوتا ہے اور ایک ایک گھنٹے تک ممبران کی تعداد ہی پوری نہیں ہوتی۔ انہوں نے چیئرمین سینٹ سے گذارش کی کہ وزراء اور ممبران کی عدم دلچسپی پر اجلاس پیر کے روز تک ملتوی کردیں۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی خطاب پر بحث ہونی ہے اور حکومت کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ کوئی بھی وزیر یا سینیٹر یا موجود ہی نہیں جس پر انہوں نے کہا کہ وزراء اور حکومت اس ایوان کو چلانا ہی نہیں چاہتی جس کے بعد چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ ممبران کیوں نہیں آرہے۔

گذشتہ آدھے گھنٹے سے میں اپنے چیمبر میں انتظار کررہا ہوں تاہم قائد ایوان راجہ ظفرالحق کے ایوان میں پہنچنے پر اجلاس کو جاری رکھا گیا۔