لاہور ہائیکورٹ نے بوڑھے میاں بیوی اور انکے بیٹے کیخلاف دولاکھ کے جعلی چیک کا جھوٹا مقدمہ خارج کردیا،مقدمہ درج کرنیوالے ایس ایچ او نے عدالت سے معافی مانگ لی

جمعہ دسمبر 22:49

لاہور۔02 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 دسمبر2016ء) لاہور ہائیکورٹ نے لاہورپولیس کی طرف سے شہریوں کیخلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شہریوں کیخلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے پولیس ظلم کر رہی ہے، عدالت نے بوڑھے میاں بیوی اور انکے بیٹے کیخلاف دولاکھ کے جعلی چیک کا جھوٹا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیدیا۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے ساٹھ سالہ خاتون کلثوم بانو کی اخراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت کی، بزرگ خاتون اپنے شوہر سید اسرار اور بیٹے شاہد سمیت عدالت میں پیش ہوئی، متاثرہ خاندان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ محمد سعید وغیر ہ کے ساتھ دکان کے لین دین کا تنازع تھا جس میں ملزموں کو دو لاکھ روپے کا چیک بطور گارنٹی دیا گیا تھا لیکن ملزموں نے دکان کا قبضہ دینے سے انکار کر دیا اور الٹا پورے خاندان پر جعلی چیک کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا، عدالتی حکم پر ایس ایچ او فیصل ٹائون اسد عباس عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ایس ایچ او سے استفسار کیا کہ وہ قانون پیش کرے جس کے تحت جعلی چیک کا مقدمہ ایک سے زائد افراد کیخلاف درج ہوتا ہے تاہم ایس ایچ او کوئی قانون پیش نہ کر سکا جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

ایس ایچ او نے کہا کہ جو درخواست آئی اس کے مطابق مقدمہ درج کردیا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواست کوئی آسمان سے نہیں اتری تھی، عقل استعمال کرنا تو ایس ایچ او کی ہی ذمہ داری تھی جس پر ایس ایچ او نے عدالت سے معافی مانگ لی۔ عدالت نے ایس ایچ او فیصل ٹائون کو بزرگ میاں بیوی اور ان کے بیٹے شاہد کیخلاف مقدمہ خارج کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ چند دن قبل بھی لاہور ہائیکورٹ نے نابینا شخص کیخلاف ڈکیتی کا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا تھا۔

Your Thoughts and Comments