زمینی و آبی وسائل جیسے چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نبردآزما ہوتے ہوئے نچلی سطح پر زراعت کو پرکشش اور منافع بخش پیشہ بنایا جاسکے۔سیکرٹری زراعت

بدھ 16 اگست 2017 23:25

فیصل آباد ۔16 اگست(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اگست2017ء)سیکرٹری زراعت پنجاب کیپٹن (ر) محمد محمود نے کہا ہے کہ حکومت صوبے کے ایگروایکالوجیکل زونز کو ازسرنومرتب کر رہی ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں‘ سکڑتے ہوئے زمینی و آبی وسائل جیسے چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نبردآزما ہوتے ہوئے نچلی سطح پر زراعت کو پرکشش اور منافع بخش پیشہ بنایا جاسکے۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سیکرٹری زراعت نے کہا کہ نئے ایکالوجیکل زونز کے تعین سے کسانوں کو مقامی سطح پر زمینی‘ آبی اور موسمیاتی حالات سے ہم آہنگ فصلات کی کاشت کیلئے رہنمائی کے ساتھ ساتھ حکومت کیلئے بھی متعلقہ فصلات ‘ پھل اور سبزیوں کی ویلیو ایڈیشن اور پراسیسنگ کی جملہ سہولیات کی فراہمی کیلئے آسانی ہوگی جس سے کسان کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ انفرمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب نے دنیا کے ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے اور زراعت میں آئی سی ٹی کے استعمال کو بڑھاتے ہوئے موسمیاتی‘ آبی و زمینی اعدادو شمارکومستقبل کی ٹھوس منصوبہ بندی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ کھیت کی سطح پر اضافی پیداوار کو موزوں وقت کیلئے محفوظ کرنے سے کسان کے منافع بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کمیٹی کی طرف سے مرتب کی گئی رپورٹ کا بین الاقوامی ایجنسی سے تجزیہ بھی کروایا جائے گا تاکہ اس میں مزید بہتری عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے گھریلو ‘انڈسٹریل اور زراعت شعبہ میں پانی کے بے مہابہ استعمال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبی تحفظ کیلئے ہمیں ٹھوس بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کے ضیائع کا راستہ قانونی اور ریاستی اداروں کے ذریعے روکا جا سکے۔

پاک امریکہ مرکز اعلیٰ تعلیم برائے خوراک و زراعت کے ڈائریکٹر و چیف آف پارٹی ڈاکٹر اقراراحمد خاں نے توقع ظاہر کی کہ یونیورسٹی ماہرین ایگروایکالوجیکل زونز کوزمینی‘ آبی اور موسمیاتی اعدادو شمار کی روشنی میں اس انداز میں مرتب کریں گے جس سے پیداوار اور کسان کی آمدنی بڑھائی جاسکے گی۔انہوں نے کہا کہ شدید موسمی حالات‘ زیرزمین پانی کی کوالٹی اور زمینی صحت ماہرین کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ کس طرح بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں حکومتی کاوشوں میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے ایگروایکالوجیکل زونزکوازسرنومرتب کرنے کے حوالے سے حکومتی سنجیدگی کو سراہتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ مجوزہ سفارشات پر عمل درآمد سے زراعت کومضبوط بنیاد فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ یونیورسٹی کے پرووائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اقبال ظفر نے کہا کہ وقت کے ساتھ زمین کی ذرخیزی میں کمی واقع ہورہی ہے جبکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے فصلوں کی کاشت کا شیڈول بھی متاثر ہورہا ہے جس کیلئے کسانوں کی رہنمائی کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ آئی سی ٹی کے ذریعے نچلی سطح پر کسانوں کوموسمیاتی‘ آبی اور زمینی معلومات تک رسائی ہوگی جس سے انہیں نچلی سطح پر حکمت عملی ترتیب دینے میں رہنمائی میسر ہوگی۔بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر رائے نیاز احمد نے کہا کہ دس لاکھ سے زائد ٹیوب ویلوں کے ذریعے پمپنگ کی وجہ سے زیرزمین پانی کی کوالٹی کوخطرات درپیش ہیں جس کے نتیجہ میں اس کا آبپاشی کیلئے استعمال خاطر خواہ نتائج فراہم کرنے سے قاصر ہوتا جا رہا ہے۔

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلرڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات کے تناظر میں ہمیں زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے والی ورائیٹاں سامنے کے ساتھ ساتھ ان کی کاشت و برداشت کے اوقات کو بھی ازسرنوترتیب دیناہوگا۔پنجاب زرعی تحقیقاتی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسرڈاکٹر نورالاسلام خاں نے کہا موسمیاتی تبدیلیوں اور آبی و زمینی حالات کے پیش نظر بہت سی فصلات کو دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جاسکتا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے پیداواری عمل کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔

پاک امریکہ مرکز اعلیٰ تعلیم برائے خوراک و زراعت میں پروگرام چیئرکلائمیٹ چینج ڈاکٹر محمد اشفاق چٹھہ نے اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایگروایکالوجیکل زونز کیلئے سفارشات کی تیاری میں بین الاقوامی ماہرین سے بھی رابطے میں ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ آئندہ اجلاس میں سفارشات کو حتمی شکل میں پیش کر دیا جائے گا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آن فارم واٹر مینجمنٹ ملک محمد اکرم‘ ڈاکٹر حامد شاہ‘ ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو عمران ایس خالد‘ ایف اے او کے پراجیکٹ کوارڈی نیٹرفہیم احمد‘ بارانی زرعی یونیورسٹی کے ڈاکٹر مبشر ریاض خان‘ سید آفتاب واجد‘ چوہدری عبدالغفور‘ ڈاکٹر غلام محبوب سبحانی‘ ڈاکٹر دلدار حسین کاظمی‘ محمد نوید ارشد اور محمد شوکت بھی شامل تھے۔