اورنج لائن ٹرین منصوبہ پر کام کے پیش نظر لاہور مال روڈ تین ماہ کے لیے بند رہے گی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جنوری 11:51

اورنج لائن ٹرین منصوبہ پر کام کے پیش نظر لاہور مال روڈ تین ماہ کے لیے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم جنوری 2018ء) :اورنج لائن ٹرین منصوبے پر ہونے والے کام کے پیش نظر تین ماہ کے لیے لاہور کی معروف شاہراہ مال روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ 22 ماہ کے طویل التوا کے بعد جنرل پوسٹ آفس کے قریب میٹرو ٹرین کا زیر زمین اسٹیشن بنے گا جس کی تعمیر کا آغاز گذشتہ روز سے کر دیا گیا ہے۔ اس کے پیش نظر حکام نے میٹرو ٹرین کے اس سیکشن کو کور کرنے اور تعمیر مکمل کرنے کے لیے کم از کم تین ماہ کے لیے مال روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے ڈیرہ گجراں سے چوبرجی اورنج لائن میٹرو ٹرین کے پیکج ون کے کنٹریکٹر شاہد سلیم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کی گئی احتیاطی تدابیر کے بعد کمپنی نے تاریخی مقامات کے قریب ان علاقوں میں تعمیر کا آغاز کر دیا تھا جہاں مقدمہ سازی کی وجہ سے کام رُکا ہوا تھا۔

(جاری ہے)

کمپنی کا کہنا ہے کہ تاریخی مقامات کو سہارا دینے کے لیے گرین شیڈز سمیت دیگر چیزوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

شاہد سلیم نے کہا کہ پہلے حکام نے مال روڈ کو تین ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پھر ٹریفک پولیس نے تجویز پیش کی کہ مین روڈ کو بند کرنے سے قبل ہمیں ٹریفک کے شدید دباؤ سے بچنے کے لیے متبادل سڑکوں کو کارپٹ کرنا ہو گا۔ ٹریفک پولیس حکام نے بتایا کہ واسا نے حال ہی میں متبادل سڑکوں پر کام کیا ہے جس کے باعث ان سڑکوں پر گڑھے موجود ہیں جو ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ مال روڈ کا محض ایک حصہ بند کیا جائے گا اور متبادل راستوں پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ٹریفک پلان کے تحت لوئر مال سے آنے والی ٹریفک کو لاہور ہائی کورٹ چوک کے بعد آنے والی نیپئیر روڈ کی جانب موڑا جائے گا۔ اسی طرح ریگل چوک سے آنے والی ٹریفک کو فین روڈ کی جانب موڑا جائے گا جہاں سے یہ ٹریفک لوئر مال کی جانب جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی نامکمل سیکشنز پر ڈیرہ گجراں اور لکشمی چوک کے درمیان تمام ستونوں کی تعمیر آئندہ ہفتے میں مکمل کر لے گی ۔ خیال رہے کہ لاہور میں اورنج لائن ٹرین منصوبے کے تحت کئی سیکشنز پر کام جاری ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو کئی ماہ سے ٹریفک کی روانی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متعلقہ عنوان :