اے ٹی سی کے فیصلے کے خلاف اپیل (کل)دائر کریں گے

،ْبھائی مشعال خان گھر والے ایبٹ آباد اے ٹی سی کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں ،ْ ایمل خان کی گفتگو

منگل فروری 18:23

اے ٹی سی کے فیصلے کے خلاف اپیل (کل)دائر کریں گے
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) مشعال خان کے بھائی ایمل خان نے اپنی وکلا ٹیم سے مشاورت کے بعد کہا ہے کہ وہ ایبٹ آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ایمن خان نے اپنے وکلا کے ساتھ پشاور ہائی کورٹ میں ایک ملاقات منعقد کی جس میں انہوں نے اے ٹی سی کے فیصلے کے حوالے سے اپنے گھر والوں کے نقطہ نظر کے بارے میں وکلا کی ٹیم کو آگاہ کیا۔

پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے ایمل خان نے کہا کہ ان گھر والے ایبٹ آباد اے ٹی سی کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔انہو ںنے کہاکہ ہم نے اس فیصلے کے چند لمحوں بعد ہی اسے چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ایمل خان نے بتایا کہ ان کے وکلا کی ٹیم نے اس حوالے سے اپنا مسودہ تیار کر لیا ہے جسے (آج) 14 فروری کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

مشعال خان قتل کیس میں ایمل خان کی وکلا ٹیم کے ایک اہم اور سینئر وکیل ایاز خان نے کہاکہ وہ پٴْر امید ہیں کہ انہیں پشاور ہائی کورٹ سے اس سلسلے میں انصاف لے گا۔انہوں نے کہا کہ 93 صفحات پر مشتمل اے ٹی سی کے اس فیصلے میں واضح طور پر کہا کہ درخواست گزار نے ملزم کو مجرم ثابت کیا اور اسی کو بنیاد بناتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔

سینئر وکیل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس پورے فیصلے کو چیلنج کریں گے جس میں 26 لوگوں کو بری کرنے ،ْ30 دیگر افراد کو کم سزا دینے جبکہ مرکزی ملزم عمران علی کو بری کرنے کا معاملہ شامل ہے۔ایمل خان کے وکلا کی ٹیم کے ایک اور وکیل فضل خان نے اس حوالے سے کہا کہ جن 26 افراد کو جیل سے رہا کیا گیا انہیں مذہبی جماعتوں کی جانب تقریبات منعقد کی گئیں تھی جبکہ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے مشعال کو قتل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اس اپیل میں ان ویڈیو کلپس کو بھی شامل کریں گے جن میں ملزمان نے مشعال خان کے قتل کا اعتراف کیا۔ایاز خان نے اے ٹی سی کے فیصلہ کے کچھ نکات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مشعال خان کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس میں تمام گرفتار افراد نے کردار ادا کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اے ٹی سی نے 26 ملزمان کو عدم ثبوتوں کی بنا پر رہا کر دیا تھا تاہم ہمیں امید ہے کہ مشعال کو پشاور ہائی کورٹ سے انصاف ملے گا۔خیال رہے کہ 7 فروری کو ایبٹ آباد کی اے ٹی سی عدالت نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک مجرم کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید اور 25 مجرموں کو 3 سال قید جبکہ 26 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔