ہزارہ ڈویژن کے پہاڑی علاقوں میں برف باری کے بعد ایبٹ آباد۔نتھیاگلی شاہراہ سمیت درجنوں رابطہ سڑکیں دو روز سے بند

منگل فروری 23:30

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) گلیات سمیت ہزارہ ڈویژن کے دیگر پہاڑی علاقوں میں برف باری اور بارش کے بعد ایبٹ آباد۔نتھیاگلی مری روڈ سمیت درجنوں رابطہ سڑکیں گذشتہ دو روز سے بند ہیں۔ وادی کاغان اور ناران کی مین سڑک سمیت رابطہ سڑکوں کے ساتھ بالاکوٹ کے گردونواح، اوگی کے گردونواح اور بٹگرام و الائی کے برفانی علاقوں میں روزمرہ زندگی کے معمولات مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے دعویدار اس دور جدید میں جب انسان نے ہوائوں اور سمندروں کو بھی مسخر کر لیا ہے، گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے اہلکار ایبٹ آباد۔ نتھیا گلی مری روڈ سے برف ہٹانے کیلئے ہل چلانے والے برسوں پرانے ٹریکٹروں سے برف صاف کر رہے ہیں جس کی وجہ سے دو دن گذرنے کے باوجود چار کلو میٹر سڑک سے بھی برف نہیں ہٹائی جا سکی ہے۔

(جاری ہے)

خیبر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کی نااہلی، غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے محکمہ ورکس اینڈ سروسز اور جی ڈی اے کے حکام بھی اپنی حدود سے سڑکوں سے برف نہیں ہٹا سکے ہیں۔ مین شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانا مشکل ہے۔ کمشنر ہزارہ اکبر خان، ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کیپٹن (ر) اورنگزیب حیدر کی ہدایات کے ساتھ ساتھ مسلسل ٹیلی فون کالوں کے باوجود کے پی ایچ اے کے حکام توجہ نہیں دے رہے اور وہ اپنی من مرضی کے تحت اپنے من پسند کے ٹھیکیدار سے ٹریکٹروں کے ذریعہ برف ہٹا رہے ہیں جس کی وجہ سے گلیات میں سیاحوں سمیت لاکھوں مقامی افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور ان کیلئے شدید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

اسی طرح ایبٹ آباد ٹھنڈیانی روڈ اور اس سے ملحقہ سڑکیں بھی بند ہیں۔ کاغان۔ ناران مین شاہراہ سمیت دیگر رابطہ سڑکیں بھی برف باری کی وجہ سے تاحال بند ہیں جبکہ بٹگرام کے پہاڑی اور الائی کے پہاڑی علاقوں کو جانے والی سڑکیں بھی بند ہیں، گذشتہ روز شاہراہ ریشم بھی چھترپلین کے مقام سے بند رہی جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

گلیات میں برف باری تھم جانے کے بعد سورج نکل آیا مگر دو دن گذر جانے کے باوجود بھی ایبٹ آباد۔ مری روڈ نہ کھل سکا۔ کے پی ایچ اے سڑکیں کھولنے میں ناکام ہو چکے ہیں جس کے باعث لاکھوں افراد پر مشتمل آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔ باڑا گلی، چہڑ کالا باغ سجن گلی، چہڑ روڈ، نتھیاگلی، بکوٹ، ڈونگا گلی، توحید آباد، کوزا گلی، ایوبیہ، خانسپور، چھانگلہ گلی، زیارت سمیت دیگر رابطہ سڑکیں تاحال بند ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں روزمرہ اشیاء ضروت کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

آمدورفت بند ہونے کی وجہ سے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کے پی ایچ اے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور جی ڈی اے کے حکام ایک دوسرے پر ملبہ ڈال رہے ہیں، ان کی بے حسی اور لاپروائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔