پارلیمنٹ پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس

ہر سال 15مئی کے بعد جاری ہونے والے فنڈز میں قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے،ترقیاتی بجٹ کے 25 فیصد فنڈز ضائع کردیئے جاتے ہیں، اصل گڑ بڑ سرکاری اداروں کو ملنے والی گرانٹس میں ہے،وزارت خزانہ 15 مئی کے بعد ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرے، پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ہدایت

بدھ فروری 16:16

پارلیمنٹ پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 فروری2018ء) پارلیمنٹ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے کہا ہے کہ ہر سال 15مئی کے بعد جاری ہونے والے فنڈز میں قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے،ترقیاتی بجٹ کے 25 فیصد فنڈز ضائع کردیئے جاتے ہیں، اصل گڑ بڑ سرکاری اداروں کو ملنے والی گرانٹس میں ہے،وزارت خزانہ 15 مئی کے بعد ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرے۔۔پارلیمنٹ پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمدشاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سینیٹر اعظم سواتی ، سینیٹر شیریں رحمن، ڈاکٹرعذرا فضل، راجہ جاوید اخلاص، سید نوید قمر، سردار عاشق حسین گوپانگ، شاہدہ اختر علی سمیت دیگر ارکان اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزارت ہائوسنگ و تعمیرات کی 2016-17ء کی آڈٹ رپورٹ کاجائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایاکہ سرکاری خزانے سے پرائیویٹ پرچیوں کے ذریعے ٹھیکے داروں کو رقوم کی ادائیگی کی جاتی ہے جس کا مقصد سرکاری طریقہ کار کو ناکام بنانا ہے۔ فنڈز لیپس ہونے سے بچانے کے لئے 69 کروڑ روپے غیر قانونی طورپر اکائونٹ میں رکھے گئے۔ سیکرٹری ہائوسنگ نے پی اے سی کو بتایاکہ یہ طریقہ کار طویل عرصہ سے جاری ہے۔

پبلک اکائونٹس کمیٹی نے وزارت خزانہ کو 15 مئی کے بعد ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے کی ہدایت کی۔ پی اے سی نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ہر سال 15مئی کے بعد جاری ہونے والے فنڈز میں قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ آڈٹ حکام نے بتایاکہ مالی سال 2015-16ء ختم ہونے سے چند دن قبل 13کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ یہ رقم استعمال کرنے کی بجائے ضائع کردی گئی ۔

پی ا ے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ نے کہاکہ ہرسال ترقیاتی بجٹ کے 25 فیصد فنڈز ضائع کردیئے جاتے ہیں ۔اس حوالے سے محکمہ آڈٹ کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ اصل گڑ بڑ سرکاری اداروں کو ملنے والی گرانٹس میں ہے۔ ہمیں یہ بات ساڑھے چار سال بعد سمجھ میں آئی ہے۔ ہم سیاستدان ہیں ہم نے اکائونٹس میں پی ایچ ڈی نہیں کررکھی۔ آڈیٹر جنرل کو کنٹرول جنرل اکائونٹس کی طرف سے آنے والی گرانٹس کو بھی دیکھناچاہیے۔

آڈیٹر جنرل نے کہا کہ 2001ء سے پہلے گرانٹس کا معاملہ ہم خود دیکھتے تھے، فنانشل مینجمنٹ کے ایشوز کو دیکھنے کے لئے کوئی طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔ پی اے سی نے ارکان فیڈرل لاجز کراچی، لاہور ، پشاور اور کوئٹہ میں صفائی کے ناقص انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اتنے پیسے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن وہ کہاں جا رہے ہیں اس کاکوئی پتہ نہیں۔

سیکرٹری ہائوسنگ نے کہاکہ ہمارے پاس دھوبی کو دینے کے لئے بھی فنڈز نہیں ہیں۔ بجٹ میں فنڈز مل جائیں تو حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہاکہ پارلیمنٹ لاجز کی تعمیر میں سکریپ کا سریا استعمال کیا جا رہا ہے ، پہلے یہ سریا ایک مسجد میں استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اب لاجز میں لا کر ڈمپ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این اے 21 مانسہرہ میں 3 تین ارب روپے کے فنڈز میں کرپشن کا کیس نیب میں بھی ہے، موجودہ چیئرمین نیب اچھا کام کررہے ہیں۔

پی اے سی کے اجلاس میں نیب کی کارکردگی پر بھی بات کی گئی۔ میاں عبدالمنان نے کہا کہ نیب عدالتیں اربوں روپے کے کی کرپشن کی مقدمات نہیں سن رہیں۔ پی اے سی نے کہا کہ بارہ کہو میں ہائوسنگ منصوبے کے لئے زمین مہنگے داموں خریدی گئی۔ 50 سے 70ہزار روپے فی کنال والی زمین ساڑھے 9 لاکھ روپے فی کنال میں خریدی گئی۔ نیب نے 10 سال میں تحقیقات مکمل نہیں کیں۔ پی اے سی کو بتایاگیا کہ 3 ہزار ایکٹر زمین کی خریداری کا معاہدہ 2009ء میں کیا گیا ۔ نیب نے 2 صفحات کی رپورٹ تیار کی جس پر دستخط بھی نہیں ہیں۔ نیب حکام نے پی اے سی کو بتایاکہ ابھی ثبوت اکٹھے کئے جارہے ہیں۔

متعلقہ عنوان :