پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی15- کے معاملے پر سی ڈی اے کے غیر تسلی بخش جواب پر مزید تحقیقات کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی

سی ڈی اے کو انتظامی اخراجات کیلئے سالانہ دس ارب روپے کی ضرورت ہے، اسلام آباد میں پانی کی فراہمی ضرورت سے پچاس فیصد کم ہے جبکہ آبادی چار فیصد سالانہ بڑھ رہی ہے، چئیرمین سی ڈی اے عثمان اختر باجوہ کی بریفنگ

بدھ مارچ 16:21

پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی15- کے معاملے پر سی ڈی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مارچ2018ء) پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی15- کے معاملے پر وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی ای) کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ آنے پر مزید تحقیقات کیلئے ذیلی کمیٹی بنا دی،شیری رحمان، شفقت محمود اور محمود خان اچکزئی پر مشتمل کیٹی 20 روز میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گی۔ پی اے سی کا اجلاس بدھ کو چئیرمین سیّد خورشید احمد شاہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں وزارت کیڈ سے متعلقہ امور زیر بحث لائے گئے۔

کمیٹی کو سی ڈی اے کی جانب سے آئی11-، آئی12-، آئی14- اور آئی15- سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران آئی15- کے ترقیاتی کاموں میں گھپلوں کا انکشاف ہوا۔ آڈٹ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ترقیاتی کاموں کے نام پر سات ارب روپے اکٹھے کیے گئے، جن کو پلاٹ کی پیشکش کی گئی انہیں کچھ نہیں ملا جبکہ سات ارب روپے خرچ بھی کر دیئے گئے۔

آڈٹ حکام نے کہا کہ اس پر لازمی تحقیقات ہونی چاہئے کہ پیسے کہاں اور کس طرح خرچ ہوئے۔

کمیٹی کو آئی14- اور آئی15- سیکٹر کے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ چئیرمین سی ڈی اے عثمان اختر باجوہ نے بتایا کہ سی ڈی اے کو انتظامی اخراجات کیلئے سالانہ دس ارب روپے کی ضرورت ہے جبکہ سی ڈی اے کی سالانہ آمدن دس ارب روپے سے کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں پانی کی فراہمی ضرورت سے پچاس فیصد کم ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت کی آبادی مسلسل چار فیصد سالانہ بڑھ رہی ہے۔

کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں پانی کی صورت حال خطرناک ہے۔ اجلاس کے دوران اسلام آباد میں رہائشی فلیٹس کے لئے مختص جگہ پر پلاٹ اور مکان کی جگہ بنانے کا معاملہ بھی زیرغور آیا۔ کمیٹی کے نوٹس میں آیا کہ 2005ء میں فلیٹ 14 لاکھ روپے میں دینے کا اعلان کیا گیا، بعد میں یہ منصوبہ ناکام ہوگیا اور فلیٹ مہنگے بننے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

کمیٹی کو آڈٹ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ سات ہزار فلیٹس کے لیے مجموعی طور پر سات ارب روپے جمع کیے گئے تھے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ تین ہزار افراد نے پیسے واپس لے لیے جبکہ 4 ہزار افراد کو پانچ مرلے کے پلاٹ دیئے گئے۔ شیری رحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں متوسط طبقہ اور سفارتکاروں کے لیے رہائشی سیکٹروں میں کمرشل استعمال کی اجازت دی جائے، رہائشی سیکٹروں سے باہر آرٹ گیلری، سفارتخانے اور بیوٹی پارلر کہاں بنیں گے۔

پورے اسلام آباد کو کمرشل کاموں کے لیے پلازہ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، اسلام آباد مارگلہ ہلز، ٹیکسلا، مری ایکسپریس وے، ٹول پلازہ، روات اور فتح جنگ روڈ تک محدود ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے آئی15- میں نقصان بارے کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے۔ کمیٹی کے چئیرمین خورشید شاہ نے سوال کیا کہ اتنے بڑے نقصان کی ذمہ داری کس کی ہے، 19 ارب روپے آپ کی ناکامی ہے، آپ اس کو حساب کتاب میںکیوں لا رہے ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ پلاننگ میں بیٹھے لوگوں کو پتہ نہیں کہ زمین کی قدر کتنی ہے لاگت کتنی ہے، یہ بحث بہت طوالت اختیار کر جائے گی، اس لیے اس پر کمیٹی بنا دیتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے آئی15- کے معاملے پرکمیٹی بنا دی۔ کمیٹی میں شیری رحمان، شفقت محمود اور محمود خان اچکزئی شامل ہوں گے، یہ کمیٹی 20 روز میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گی۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments