کو ئٹہ ، پشتون علاقوں کو پرامن بنانے کیلئے قبائلی تنازعات کو حل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے

،قبائلی عمائدین اسلام ہمیں امن کا درس دیتا ہے جب تک امن نہ ہوں ہم کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے ،بیان

پیر اپریل 20:03

کو ئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء)سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں وقبائلی عمائدین نے کہا ہے کہ پشتون علاقوں کو پرامن بنانے کے لئے قبائلی تنازعات کو حل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ ہم پہلے سے ہی تباہی وبربادی سے دوچار ہے اسلام ہمیں امن کا درس دیتا ہے جب تک امن نہ ہوں ہم کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی نظام الدین کاکڑ، سابق صوبائی وزیر مولوی عبدالرحیم بازئی ، تاج بازئی ایڈووکیٹ ، اجمل خان بازئی ، انجینئر عبدالعزیز ،مولوی عزیز اللہ بازئی ، ماسٹر حضرت بازئی ، حاجی فقیر محمد ، ملک احمد خان نے بازئی قبائل کے دو گرہوں کے درمیان تصفیہ کے موقع پر اظہار خیال کر تے ہوئے کیا اس موقع پر کمیٹی کے اراکین حضرت افغان ،پروفیسر حنیف، باز پشتون ، انور بازئی نے ثالثی کا کردار ادا کیا سیاسی وقبائلی عمائدین نے کہا ہے کہ پشتونخوا وطن چالیس سے دہشت گردی کا شکار ہے جس کی وجہ سے ہمارے تعلیم یافتہ طبقہ دہشت گردی کی نظر ہو چکی ہے اب جو کچھ بچا ہوا ہے وہ قبائلی تنازعات کی نظر ہو رہی ہے ا سلئے ہم سمجھتے ہیں کہ ان معاملات کو حل کرنے کے لئے علماء کرام پشتون قبائلی عمائدین اور سیاسی جماعتوں کے رہنماء اپنا کردار ادا کرے انہوں نے کہا ہے کہ جب تک ہم اپنے حالات کو خود بہتر نہیں کرینگے تب تک کوئی بھی نہیں آئے گا انہوں نے کہا ہے کہ وقت او ر حالات کا تقاضا ہے کہ ہمیں اپنے علاقوں میں تعلیم کو فروغ دینا ہے جب تک تعلیم نہیں ہو گی ہم پسماندگی کا شکار رہیں گے انہوں نے کہا ہے کہ پشتون علاقوں کو پرامن بنانے کے لئے قبائلی تنازعات کو حل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ ہم پہلے سے ہی تباہی وبربادی سے دوچار ہے اسلام ہمیں امن کا درس دیتا ہے جب تک امن نہ ہوں ہم کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے۔