سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقیات و اصلاحات کا اجلاس

جمعرات اپریل 22:45

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقیات و اصلاحات کے چیئرمین سینیٹر آغا شاہ زیب درانی کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں نئے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے رکھے گئے فنڈز پر وزارت منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات اور وزارت خزانہ کے علاوہ وزارت سے ملحقہ اداروں سے تفصیلی بریفنگ لی گئی۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے کہا کہ ایوان بالاء کی انتہائی اہم کمیٹی میں بجٹ سے قبل بریفنگ لی جارہی ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے کر پہلی ترجیح بنائی جائے، عوامی ضروریات کو مد نظر رکھ کر منصوبوں کی ترجیحات کا تعین کیا جائے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سالانہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے رکھے گئے فنڈز میں سے جاری ہونے والے فنڈز منصوبوں پر بروقت خرچ کئے جائیں۔

(جاری ہے)

ممبران کمیٹی کے سوالات کے جواب میں سیکرٹری منصوبہ بندی ترقیات و اصلاحات شعیب صدیقی نے بتایا کہ وفاقی وزارتوں کی طرف سے پیش کردہ منصوبوں کو وزارت کے ذریعے وفاقی کابینہ سے منظور کرایا جاتا ہے، منصوبوں کو مدنظر رکھ کر کل فنڈز رکھے جاتے ہیں، منصوبوں کی منظوری قومی اقتصادی کونسل سے لی جاتی ہے، ایسے ترقیاتی منصوبے منظور ہوتے ہیں جن کے ثمرات ملک بھر کے شہریوں تک پہنچتے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بنیادی ڈھانچے کے علاوہ سماجی، تعلیمی اورصحت کے شعبوں کے سالانہ ترقیاتی منصوبے تیار کیے جاتے ہیں۔ ملکی تاریخ میں گزشتہ سال میں ایک ہزار ایک سو ارب روپے پر مشتمل سالانہ ترقیاتی پروگرام کے فنڈز رکھے گئے۔ کمیٹی نے آئندہ ہائیر ایجو کیشن کمیشن، این ایچ اے، پلاننگ کمیشن اور پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ پروگرام کے بارے میں بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں سینیٹرز ڈاکٹر اسد اشرف، رخسانہ زبیری، گیان چند، سید شبلی فراز، ہدایت اللہ، محمد عثمان خان کاکڑ، دلاور خان، محمد اکرم اور شاہین خالد بٹ نے شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :