ٹورازم کارپوریشن کا سیاحتی مقامات پر صفائی مہم شروع کرنے کافیصلہ

چلم جوشٹ فیسٹیول کی آمد کیساتھ ہی کالاش میں تیاریوں کا آغاز کردیا گیا، ٹورازم کارپوریشن فیسٹیول میں صفائی مہم کیساتھ ساتھ سیاحوں کیلئے ٹینٹ ویلج کا قیام بھی کریگا

پیر مئی 19:31

ْپشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے زیراہتمام چترال کے علاقہ کالاش میں ہر سال منعقد ہونے والے چلم جوشٹ (جوشی) فیسٹیول 14مئی سے شروع ہوگا جوکہ 16مئی تک جاری رہے گا تاہم اس فیسٹیول کے آنے سے قبل ہی کالاش کے رہائشیوں نے فیسٹیول کی تیاریوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے ، ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا سے صوبہ کے سیاحتی مقامات پر شہریوں اور سیاحوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے صفائی مہم کا بھی آغاز کیا ہے اور کالاش کی تین وادیوں میں امسال صفائی مہم کی جائے گی جبکہ ساتھ فیسٹیول میں آنے والے سیاحوں کیلئے فری کیمپنگ ویلیج بھی بنایا جا رہا ہے تاکہ سیاح اس کیمپ ویلیج سے مستفید ہوسکیں، تفصیلات کے مطابق چترال کے شہر کالاش میں بہار کی آمد پر منایا جانے والا کالاش قبیلے کا مشہورمذہبی تہوار (جوشی)چلم جوشٹ 14 مئی کو منعقد ہوگا،گزشتہ سال ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا نے تہوار میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کیلئے ٹینٹ ویلیج لگایاتھاجبکہ ساتھ ہی بمبوریت میوزیم کالاش ، برین اور رمبور میں سیاحوں کیلئے ورلڈ بینک کے تعاون سے بینچز بھی لگائے گئے تاکہ ان مقامات پر آنے والے سیاحوں کو تفریحی سہولیات فراہم کی جاسکیں، کالاش قبیلے کے سالانہ مذہبی تہوارچلم جوشٹ میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے آنا شروع کردیا ہے ،ٹورازم کارپوریشن خیبرپختونخوا نے سیاحوں کی سہولیات اور انہیں کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچانے کیلئے ٹینٹ ویلیج بنانے کافیصلہ کیا ہے تاکہ سیاحوں کی کثیر تعداد کی موجودگی میں کسی کو کوئی مشکل درپیش نہ ہو اور سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جاسکیں ،جوشی فیسٹیول کالاش قبیلے کا سب سے اہم تہوار ہے کیونکہ اس تہوار کے اعلان کیساتھ سردیوں کے تکلیف دہ حالات کو رخصت کیا جاتا ہے اور بہار کا استقبال کیا جاتا ہے ۔

(جاری ہے)

مال مویشیوں کو گرمائی چراگاہوں پر لے جانے کی تیاری ہوتی ہے اور مویشیوں کے دودھ کی فراوانی ہوتی ہے ، تہوار میں پچ انجیئک کی رسم ادا کی جاتی ہے اس رسم میں پانچ سے سات سال کے بچوں کو کالاش کے نئے کپڑے پہنا کر ان کو بپتسمہ دیا جاتا ہے جبکہ گل پاریک کی رسم بھی ہوتی ہے جس میں گائوں کے تمام زچہ و بچہ پر ایک نوجوان دودھ چھڑکتا ہے اور خواتین اس نوجوان کو چیہاری کا ہار پہناتی ہیں ۔